پاکستان کیلئے نئے قرض پروگرام کی منظوری اگلے ماہ تک مؤخر

  • بدھ 21 / اگست / 2024

عالمی مالیاتی ادارے  کی جانب سے پاکستان کےلیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈکے شیڈول میں پاکستان کا نام تاحال شامل نہیں کیا گیا اور ایگزیکٹو بورڈ 28 سے 30 اگست تک ویتنام سمیت 3 دیگر ملکوں کی درخواستوں پر غورکرےگا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کے لیے نئے قرض پروگرام کی منظوری اگلے ماہ تک مؤخر کردی گئی ہے جب کہ دوست ممالک سے 12 ارب ڈالر قرض بروقت رول اوور نہ ہونے کو تاخیر کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف نے بورڈ اجلاس سے پہلے ایکسٹرنل فنانسنگ کی یقین دہانیوں کی شرط لگا رکھی ہے۔ پاکستان کے پاس سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر، چین کے 4 ارب ڈالر اور یو اےای کے 3 ارب ڈالر ڈیپازٹ ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت 3 ممالک کے 12 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ رول اوور کرانے اور کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کو رواں مالی سال کمرشل قرض سمیت مجموعی طور پر 26 ارب40کروڑ ڈالرکی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں۔