کیا عمران خان کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے؟

سلطانی گواہ کہہ لیں یا وعدہ معاف گواہ، یہ ہے بڑے کام کی شے۔ جس سے انتقام لینا، نشانِ عبرت بنانا یا سزا دینا مقصود ہو اگر اس کے خلاف اتنے ٹھوس ثبوت جمع نہ ہو سکیں جن کو جھٹلانا ناممکن ہو تو پھر کسی بھی ہم راز یا شریکِ جرم و سازش کو اس لالچ پر توڑ لیا جاتا ہے۔

کہ اگر تم مرکزی ملزم یا جسے ہم سزا دینا چاہتے ہیں اس کے خلاف گواہی دینے پر تیار ہو جاؤ تو تم پر سے فردِ جرم اٹھائی جا سکتی ہے یا سزا میں کمی ہو سکتی ہے یا پھر تم بری بھی ہو سکتے ہو۔ اس کے علاوہ دیگر رعایات و عنایات کی پیش کش بھی ممکن ہے۔ اب یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ سلطانی گواہ کا بیان سچ تصور کر کے من و عن قبول کر لے یا پھر اس بیان میں شامل افسانہ طرازی کا دیگر حقائق سے موازنہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچے یا پھر اس دباؤ کو نہ جھیل سکے کہ مرکزی ملزم یا ملزمان کو ہر صورت میں کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے۔

جیسے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی بی کے دت نے اپریل 1929 میں اسمبلی بم حملے کے بعد خود کو سرینڈر کر دیا اور انہیں دہشت گردی کے جرم میں 14 برس قید بامشقت کی سزا ہو گئی۔

مگر برطانوی حکومت کی تسکین نہیں ہوئی۔ اسمبلی بم دھماکے سے کچھ عرصہ پہلے لاہور میں پولیس چیف جان سینڈرز اور ہیڈ کانسٹیبل چنان سنگھ کے قتل کی واردات پر ایف آئی آر نامعلوم ملزموں کے خلاف کٹی۔ اس مقدمے کی سماعت عام عدالت میں کرنے کے بجائے ایک ہنگامی آرڈیننس کے ذریعے خصوصی ٹریبونل قائم کیا گیا۔ ملزموں میں بھگت سنگھ اور راج گرو کے علاوہ جے گوپال، صبح سنگھ اور بھوپندر گھوش پر بھی فردِ جرم عائد ہوئی۔ مگر سرکار کا اصل ہدف بھگت سنگھ اور راج گرو تھے۔ چنانچہ باقی تین ملزموں کو پیش کش ہوئی کہ اگر وہ وعدہ معاف گواہ بن جائیں تو انہیں کڑی سزا سے بچا لیا جائے گا۔ تینوں رضامند ہو گئے اور ان کی گواہی پر بھگت سنگھ اور راج گرو کو سزاِ موت سنا دی گئی۔

مگر مقدمہ اتنے بے ہنگم طریقے سے چلایا گیا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود کوئی مجسٹریٹ ان کے بلیک وارنٹس پر دستخط کے لئے آمادہ نہیں تھا۔ بالاخر 28 سالہ مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان قصوری بلیک وارنٹ پر دستخط کرنے پر رضامند ہو گئے۔ یوں دونوں ’دہشت گردوں‘ کے تختہِ دار پر جھولنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ اس کے فوراً بعد اس آرڈیننس کی میعاد بھی ختم ہو گئی جس کے تحت خصوصی ٹریبونل قائم ہوا تھا۔ یہ مقدمہ اتنا ناقص تھا کہ بعد ازاں کسی بھی عدالت میں اسے بطور قانونی نظیر پیش نہیں کیا جا سکا۔

اس واقعہ کے لگ بھگ 45 برس بعد نواب محمد احمد خان لاہور میں شادمان ٹاؤن کے چوراہے پر دوطرفہ فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ ان کے صاحبزادے احمد رضا قصوری نے اچھرہ تھانے کی ایف آئی آر میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام بھی ڈلوایا۔ ایف آئی آر ابتدائی چھان بین کے بعد سربمہر ہو گئی۔ احمد رضا قصوری نے سربمہر کرنے کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ 1977 میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد ابتدا میں فوجی قیادت کا خیال نہیں تھا کہ معزول وزیرِاعظم آگے چل کے اس کے لیے بقائی خطرہ بن سکتے ہیں۔

مگر جب بھٹو نے مصلحت کوشی سے کام لینے کے بجائے ایک دو بیانات میں کھل کے کہا کہ آئین پامال ہوا ہے اور اس کی سزا بھی آئین میں موجود ہے۔ تب جرنیلوں کے کان کھڑے ہونے شروع ہوئے۔ ضیا الحق نے آتے ہی بھٹو دور میں قائم حیدرآباد ٹریبونل توڑنے کا اعلان کیا اور ولی خان سمیت صوبہ سرحد اور بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو رہا کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ رہائی کے بعد جب ولی خان کی ضیا الحق سے ملاقات ہوئی تو تب یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ حسبِ وعدہ 90 روز کے اندر اکتوبر 1977 میں دوبارہ الیکشن ہونے چاہئیں یا پہلے کچھ ضروری اصلاحات کی جائیں۔ ولی خان نے مشورہ دیا کہ احتساب کے بعد الیکشن بہتر رہیں گے۔ ان سے یہ فقرہ بھی منسوب ہے کہ بھٹو منتقم مزاج آدمی ہے، قبر ایک ہے اور مردے دو ہیں۔ اگر واقعی ولی خان نے ایسا کہا تو سوچئے کہ آپ اگر اس وقت ضیا الحق کی جگہ ہوتے تو آپ کے ذہن میں پہلی سوچ کیا آتی؟

اکتوبر کے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گئے۔ بھٹو حکومت کی ’سیاہ کاریوں‘ کو بے نقاب کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے دس موٹے موٹے قرطاس ابیض سامنے لائے گئے۔ بھٹو دور کے سیاسی قیدیوں کے انٹرویوز کا ایک سلسلہ پی ٹی وی پر شروع ہو گیا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دلائی کیمپ میں سیاسی مخالفین پر مظالم کی کہانیاں شائع اور نشر ہونے لگیں۔ مگر کوئی ایسا مدعا ہاتھ نہیں آ رہا تھا کہ بھٹو کا عدالتی رسے سے کام تمام ہو سکے۔

اس موقع پر نواب محمد احمد خان کے قتل کی سربمہر ایف آئی آر کو زندہ کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سزاِ موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے ریویو فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس کے زیادہ تر ثبوت مارشل لا دور میں جمع کیے گئے مگر اس سے ثبوتوں کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)