عورت کس کے اعصاب پر سوار ہے؟
- تحریر وجاہت مسعود
- بدھ 21 / اگست / 2024
علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں ہند کے شاعروں، صورت گروں اور افسانہ نویسوں پر طنز کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ’آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار‘۔ 1936 میں شائع ہونے والی اس تصنیف کو حضرت اقبال نے ’دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ‘ کا ذیلی عنوان دیا تھا۔
اس کتاب میں عورت کے موضوع پر نو مختصر نظمیں شامل ہیں۔ عورت کے حقوق، آزادی اور مساوات کے تصورات یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کے زیر اثر اٹھارہویں صدی کے آخری برسوں میں نمودار ہوچکے تھے۔ تھامس پین کی کتاب Rights of the man سنہ 1791 میں شائع ہوئی اور Mary Wollstonecraft کی کتاب A Vindication of the Rights of Woman سنہ 1792 میں سامنے آئی۔ جدید دنیا کی معیشت، معاشرت اور سیاست کے تقاضے روایتی صنفی تصورات اور اقدار کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس موضوع پر اقبال کے خیالات قدامت پسندی کے آئینہ دار ہیں۔
ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف اقبال کی زندگی میں ہم عصر مذہبی پیشوا ان کے مخالف رہے اور دوسری طرف تاریخ نے ثابت کیا کہ عورت شاعروں اور مصوروں کی بجائے طبقہ زہاد کے اعصاب پر سوار ہے۔ 16 اگست 2024 کو قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس میں شریک تحریک انصاف کے ایم این اے اقبال آفریدی نے کراچی الیکٹرک کمپنی کی ایک اعلیٰ خاتون افسر کے لباس پر نہایت نازیبا تبصرہ کیا۔ اس کمیٹی میں خاتون رکن اسمبلی محترمہ نوشین افتخار سمیت اکیس ارکان کو مذکورہ خاتون کے لباس میں کوئی قابل اعتراض پہلو نظر نہیں آیا لیکن اجلاس کے بعد محرک کی حیثیت سے اجلاس میں شریک رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے زیربحث امور کی بجائے کراچی الیکٹرک کی نمائندہ خاتون کے لباس پر تنقید شروع کر دی۔ آفریدی صاحب کے مطابق ’ایسے اجلاسوں میں لباس کے معیارات مقرر ہونے چاہئیں کیونکہ قوم اپنے نمائندوں کو رول ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے‘۔
دراصل اقبال آفریدی صاحب ایس او پی کی آڑ میں عورتوں پر مخصوص لباس کی پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 22 جون کو تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل نے پارلیمنٹ میں ایسی غلیظ زبان استعمال کی کہ سپیکر کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے ان کی رکنیت معطل کرنا پڑی۔ اس موقع پر اقبال آفریدی اپنی جماعت کے رکن اسمبلی کی مغلظات پر جوش و خروش سے ڈیسک پیٹتے دکھائی دیے۔ کیوں نہ ہو۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے نومبر 2006 میں تحفظ نسواں کے مسودہ قانون کی مخالفت کی تھی۔ 22 جون 2021 کو بطور وزیراعظم عالمی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ریاست مدینہ (جدید) کے موید نے فرمایا تھا کہ مرد روبوٹ نہیں ہے، عورتیں ’نامناسب لباس‘ پہنیں گی تو مردوں کو ہراسانی کی تحریک ملے گی۔ 2007 سے 2017 تک مذہبی دہشت گردوں نے قبائلی علاقوں میں بچیوں کے گیارہ سو سکول تباہ کیے۔ اقبال آفریدی صاحب کی غیرت خوابیدہ رہی۔ ابھی 8 مئی کو شمالی وزیرستان میں لڑکیوں کا واحد نجی سکول تباہ کر دیا گیا۔ اقبال آفریدی خاموش رہے۔ 2018 میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے اقبال آفریدی برسوں سے پارلیمنٹ کا حصہ چلے آرہے ہیں۔ حیران کن طور پر ان کے تعارف میں تعلیم کا خانہ خالی ہے۔ اگر انہوں نے کوئی تعلیم پائی بھی ہو تو اہل وطن جانتے ہیں کہ 1970 میں پیدا ہونے والے اقبال آفریدی نے کن اساتذہ سے کس نصاب تعلیم کی تحصیل کی ہو گی۔
ہماری اجتماعی نفسیات میں اس شرمناک رویے کے ڈانڈے بہت دور تک جاتے ہیں۔ 1939 میں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ’پردہ‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی جسے جماعت اسلامی کے احباب بہت بلند مقام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کے پیش پا افتادہ حوالے انیسویں صدی کے چند غیر معروف مصنفوں از قسم جارج ساں سے لیے گئے ہیں۔ سید مودودی بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کے فکری رجحانات سے قطعی نابلد تھے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد 29 جنوری 1948 کو پنجاب اسمبلی میں مسلم پرسنل لا کے مسودہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے عبدالستار نیازی نے عورتوں کی آزادی، بے پردگی اور غیر اسلامی طرز زندگی پر سیرحاصل تبصرہ کیا۔ ایک ہفتے بعد شبیر احمد عثمانی نے 27 فروری کو سپیکر کو قرارداد جمع کرائی کہ ’معتبر علما اور دوسرے مسلمان مفکرین پر مشتمل ایک مجلس مشاورت قائم کی جائے جو شریعت اسلامیہ کے مطابق آئین ترتیب دینے کے لیے سفارشات پیش کرے‘۔ اسی کے تسلسل میں جمعیت علمائے اسلام کی پنجاب برانچ نے 29 فروری کو مولانا داؤد غزنوی کی صدارت میں ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ ’عورتوں سے قرآن پاک کے مطابق بذریعہ قانون حقیقی پردہ کرایا جائے‘۔ اس کے ردعمل میں 3 اپریل 1948 کو بیگم لیاقت علی خان کی زیر صدارت لاہور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں عورتوں کے بارے میں غیر پارلیمانی اور ہتک آمیز زبان کی سخت مذمت کی گئی۔ 15 اپریل کو بیگم رعنا لیاقت علی خان نے روزنامہ امروز کو انٹرویو دیتے ہوئے عورتوں کے لیے پردہ لازمی قرار دینے کی پرزور مخالفت کی۔ اس پر ملاؤں نے ایوان وزیراعظم کے قریب جلسہ منعقد کیا جہاں بیگم لیاقت علی کے بارے میں لگائے گئے نعرے اخبار میں شائع نہیں ہو سکتے۔ ان مباحث کا حاصل یہ کہ قوم پون صدی سے عورت کے حقوق میں الجھی ہوئی ہے۔
مسلم لیگ نواز کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل اور پیپلز پارٹی کی سینٹر شیری رحمن نے اقبال آفریدی کے خیالات کی شدید مذمت کی ہے لیکن اجتماعی زندگی میں ان رویوں کا اثر بہت دور تک جاتا ہے۔ 14 اگست کو اسلام آباد کی ایک بارونق سڑک پر راہ چلتے میاں بیوی پر ایک ہجوم نے خاتون کا لباس قابل اعتراض قرار دے کر حملہ کر دیا۔ یہ 2007 میں لال مسجد والے قضیے کے شاخسانے ہیں۔ مناسب ہو گا کہ قومی اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے دستور کی شق 25 کا اعادہ کرے۔ اقبال آفریدی صاحب کو باور کرایا جائے کہ دستور میں شامل بنیادی حقوق میں دو طرح کی ضمانتیں دی گئی ہیں۔ کچھ حقوق کی فراہمی ریاست کے ذمہ ہے اور کچھ آزادیوں کی ضمانت دی گئی ہے جو شخصی انتخاب کے منطقے ہیں۔ ریاست کو قانون کی حد میں رہتے ہوئے کسی شہری کے لیے لباس کا کوئی مخصوص انداز مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)