شییخ حسینہ: لیڈر سے ڈکٹیٹر تک
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 23 / اگست / 2024
بنگلہ دیشی آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے جس عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے، وہ بھی شاید ہی ان کی مرضی کے مطابق بن سکے گی۔ انہیں طلبا کے کئی مطالبات ماننا پڑیں گے۔ حالات زیادہ بگڑے تو کوئی نئی فوجی بغاوت بھی ہوسکتی ہے۔
حسینہ مخالفین کی طرف سے انہیں ہٹاۓ جانے کا مطالبہ بھی آسکتا ہے، کل کو ان کی مخالفت میں مظاہرے بھی شروع ہو سکتے ہیں۔ ہلاک شدگان کی تحقیقات کے مطالبات کرتے ہوۓ کچھ انگلیاں ادھر بھی اٹھ سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حالات پر قابو پاتے ہوۓ اصل معاملات اپنے قابو میں لے لیں اور بشمول طلبا سیاستدانوں کو کچھ موقع دینے کے بعد انہیں لائن میں لگا دیں۔ طاقت کی نفسیات تو ایسی ہی ہوتی ہے۔ طالب علم رہنما ناہید اسلام نے مطالبہ کیا تھا کہ عبوری پرائم منسٹر بنگلہ دیشی ماہر معیشت نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کو بنایا جائے۔ جو بعد ازاں پرائم منسٹر کا نام دیے بغیر چیف ایڈوائزر بمعنی چیف ایگزیکٹیو بنا دیے گئے۔ طلبا اور ٹیکنو کریٹس کی ملی جلی کیبنٹ بھی بنا دی گئی۔ طلبا کے الٹی میٹم پر صدر شہاب الدین متنازع اسمبلی تحلیل کرچکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عبوری سیٹ اپ میں آگے چل کر خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کو کیا اہمیت ملتی ہے۔ اگرچہ ان کا اثر رسوخ ملاحظہ کیا جا رہا ہے۔
عبوری سیٹ اپ میں فی الوقت شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کیلیے کوئی گنجائش نہیں دکھتی۔ اس کے ہیڈ آفس کو جلادیا گیا ہے اور ان کے دفاتر سمیت لیڈران پر حملوں کی رپورٹس بھی ہیں۔ ہندو اقلیت کی بھی پریشانیاں ہیں۔ ان کے مندروں اور جائیدادوں کے تحفظ کے بھی ایشوز ہیں۔ بلکہ بہت سے مقامات پر ان کے مندروں اور جائیدادوں کے خلاف جلاؤ گھراؤ بھی ہوا ہے۔ اور یہ خدشہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اب بنگلہ دیش میں ایک نوع کی ایسی سیاسی انارکی ہوگی جو نہ صرف سیاسی استحکام کا خاتمہ کردے گی بلکہ بنگلہ دیش کی ابھرتی یا اٹھتی ہوئی اکانومی کو ڈاکٹر محمد یونس جیسی قدآور شخصیت بھی، اس بدترین بدامنی میں سنبھال نہیں پائے گی۔
اس تمام تر ہلے گلے میں جماعت اسلامی کا رول اچھا خاصا محسوس اور ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف جتنی پرتشدد سٹوڈنٹس موومنٹ چلی ہے اس میں قدم قدم پر اسلامی چھاتروشبر کی دہشت و وحشت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کی کڑیاں کہیں آگے تک ملی ہوئی ہوں۔ ورنہ عام بنگالیوں کو اپنے دیش کے فاؤنڈر سے اتنی زیادہ نفرت کیسے ہو سکتی تھی کہ سب سے پہلے اس کے مجسموں پر دھاوا بولتے یا توہین آمیز سلوک کرتے۔ بلکہ اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کر نوبل انعام یافتہ عظیم بنگلہ شاعر مدبر اور دانشور سر رابندر ناتھ ٹیگور کے مجسمے توڑ ڈالے۔
یہ بنگالی نوجوان تو بیسویں صدی کے نصف اول میں بھی ایجی ٹیشن کے حوالے سے اس قدر آگے تھے کہ ان کے پرانے باباۓ قوم نےجب ان پر بنگلہ بھاشا کے بالمقابل اپنی اردو بھاشا لاگو یا لادو کرنے کی کوشش کی تو وہ اس صریحی زیادتی کے خلاف بھڑک اٹھے تھے۔ اور یوں انہوں نے بالآخر اس بابے کے ملک کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا کرچھوڑی تھی۔ بنگالی نوجوانوں نے بظاہر جس نفرت کے ساتھ شیخ صاحب اور رابندر ناتھ ٹیگور صاحب کے مجسمے توڑے ہیں، اگرچہ یہ افسوسناک ناروا زیادتی ہے لیکن ان حرکات سے بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔ اور یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب معاملہ محض خالدہ ضیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسلام کے نام پر نفرت کا بیوپار کرنے والے بھی مضبوط ہوکر ابھر سکتے ہیں۔ جو بنگلہ دیش میں دیگر مذاہب والوں کا جینا حرام بناسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پاکستانیت کی راہ کو اپنا کر اپنی معاشی بدحالی کا ویسا ہی کھلواڑ کر سکتے ہیں۔
آئین اور جمہوریت کی طاقت پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کیلیے یہ المیہ بہر صورت قابل تشویش ہونا چاہیے کہ سترہ اٹھارہ کروڑ کے ملک میں حکومت کی تبدیلی بیلٹ کی بجائے بلٹ کے ذریعے نہ ہو۔ اس حوالے سے جہاں جمہوری حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہیومن رائٹس کا احترام کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ان کے جائزحقوق بالخصوص آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کا پورا موقع دیں، وہیں اپوزیشن کو احتجاج میں تشدد نہیں آنے دینا چاہیے۔ کروڑوں عوام کا منڈیٹ لے کر جب کوئی حکومت برسراقتدارآتی ہے تو یہ اس کا حق ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنا پارلیمانی اعتماد قائم رکھتی ہے تو اپنی مدت پوری کرے۔ اب اگر کوئی بھی متشدد گروہ چند لاکھ عوام یا نوجوانوں کا جتھہ لے کر دارالحکومت پر قبضہ کرلے یا جبری طور پر ایوان اقتدار میں گھس جائے تو ایسی صورت میں کہیں بھی ڈیموکریسی کیسے چل سکتی ہے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ لاکھ دولاکھ نوجوان اٹھارہ یا پچیس کروڑ عوام کو یرغمالی بنالیں اور پھر جس طرح یہ لوگ گھریلو سامان کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ رہے تھے، بڑے بڑے شرعی چہروں والے خوشی خوشی لوٹا ہوا چوری کا مال بھاگے لے جا رہے تھے ہمارے نو مئی کی طرح یہ کس قدر شرمناک مناظر تھے۔
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ شیخ حسینہ صاحبہ سے اپنے آخری دنوں اوپر نیچے بلنڈر ضرور ہوۓ ہیں جن کا وہ خمیازہ بھی بھگت رہی ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ وہ اپنے ملک میں قطعی غیر مقبول ہو چکی تھیں، زمینی حقائق کا درست ادراک نہ ہے۔ شیخ صاحبہ کے اس عارضی زوال کے باوجود بنگالی نیشلسٹ ووٹ بالخصوص ان کی عوامی لیگ کا ووٹ نہ تو ختم ہو گیا ہے اور نہ ان کی سیاسی طاقت کہیں ہوا میں تحلیل ہو گئی ہے۔ آنے والے وقتوں میں متذکرہ بالا ہر دو اپروچیں باہم ٹکرائیں گی۔ ایسی صورتحال سے بچ نکلنے کا اصل چیلنج آج کی بنگالی قیادت اور بنگال کے تمام خیرخواہوں کا ایشو ہونا چاہیے۔
فی الحال تو پہلے احتساب پھر انتخاب کا تضادستانی نعرہ ابھرتا دکھتا ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹر یونس اور ان کے ہمنواؤں نے برملا کہا ہے کہ پہلے بشمول الیکشن کمیشن ہر شعبے اور محکمے میں اصلاحات ہوں گی پھر انتخابات۔ ایسی صورت میں انتخابات غیر معینہ یا طویل مدت کیلیے ملتوی بھی ہو سکتے ہیں۔ شیخ حسینہ اور ان کا ساتھ دینے والوں پر مقدمات چلانے کا مطالبہ بھی اٹھ سکتا ہے۔ جو زیادہ بڑھا اور شیخ صاحبہ کی حوالگی تک پہنچا تو انڈیا سے تعلقات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ جو کسی طرح بھی بنگلہ دیش کے مفاد میں نہیں۔ نہ ہی اس ساری واردات کو امریکا کے سر منڈھا جا سکتا ہے جس کیلیے انڈین میڈیا ناروا طور پر کوشاں رہا ہے۔ اگر شیخ حسینہ کو کوئی ویسٹرن ڈیموکریسی قبول نہیں کرتی، جیسے کہ نظر آ رہا ہے تب بھی کم از کم موجودہ حالات میں انڈین گورنمنٹ کی اندر خانے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کا بندوبست سعودی کنگڈم یا عرب امارات میں کروا دیں۔ ان دنوں بن بلاۓ مہمان کو اپنے ملک میں رکھنا انڈین ڈیموکریسی کے حق یا مفاد میں نہیں۔
مودی سرکار کیلیے یہ ایشو اس لیے بھی باعث سردردی ہوگا کہ اگر بنگلہ دیش کے حالات زیادہ بگڑے تو عین ممکن ہے کہ 1971 والی صورتحال کا سامنا ایک مرتبہ پھر بھارت کو کرنا پڑے۔ اگر ایک کروڑ یا اس سے کم زیادہ رفیوجیز انڈیا کی طرف پدھارے تو وہ اس چیلنج کا سامنا کیسے اور کیونکر کریں گے؟ کیا ایک مرتبہ پھر مشرقی بنگال میں جنرل اروڑہ اور جنرل نیازی والی تاریخ دہرائی جائے گی؟ اب کے تو سامنے کوئی پاکستان بھی نہیں ہوگا۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ مودی سرکار کچھ دیگر ممالک کو بیچ میں ڈالتے ہوئے، اس سارے قضیے میں بہتر رول ادا کرے تاوقتیکہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی شمولیت کے ساتھ منصفانہ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے بعد اقتدار پرامن طور پر نو منتخب حکومت کو منتقل نہیں ہو جاتا۔