تحفظ ختم نبوت کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ دہی

مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کی قلابازی سے ملک میں صرف مذہبی  گروہوں کی طاقت ہی واضح نہیں ہوئی بلکہ یہ بھی  سامنے آیا ہے کہ سیاسی لیڈر حتی کہ پارلیمنٹ بھی ایسے عناصر کے ناجائز اور غیر متعلقہ مطالبات  کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مذہبی شدت پسندی کا  افسوسناک ماحول بنا دیا گیا ہے ۔  ایسے میں  دلیل یا منطق حتی کہ قانون کی ضرورتیں پوری  کرنا بھی اہم نہیں رہتا۔ 

اس ماحول میں  سپریم کورٹ ہی واحد پلیٹ فارم تھا جہاں سے مزاحمت  ہو سکتی تھی۔ البتہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے  کمرہ نمر 1 میں جو مناظر دیکھنے میں آئے اور مذہبی گروہوں نے جیسے عدالت کا گھیراؤ کرکے اور ہراسانی کا ماحول پیدا کرکے چیف جسٹس اور ان کے دو ساتھی ججوں کو من پسند فیصلہ لکھنے پر  مجبور کیا، اس سے ملک میں اس مذہبی  انتہاپسندی  کے طوفان کے سامنے بند باندھنے کی آخری امید بھی ختم ہوگئی ہے۔  اب  ختم نبوت کے نام پر مذہبی گروہوں کو قانون ہاتھ میں لینے اور دھمکاکر مرضی کے فیصلے لکھوانے کی آزادی دے دی گئی ہے۔ اس میں صرف سپریم کے جج ہی شامل نہیں ہوئے بلکہ حکومت،  پارلیمنٹ اور پوری وکلا برادری بھی  شریک جرم ہے جو عام طور سے سپریم کورٹ کی اتھارٹی اور  قانون کی  بالادستی کے لیے میدان میں نکلتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں غیر ضروری مداخلت قبول کرنے سے انکار کیاجاتا ہے۔ لیکن مبارک ثانی کیس میں کسی طرف سے سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یک جہتی نہیں  ہؤا۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا  ملک کی اعلیٰ ترین  عدالت کے ججوں کو زیب دیتا ہے کہ وہ ایسے ماحول میں   انصاف کی کرسی پر بیٹھیں اور قانون و آئین کی بالادستی  یقینی بنانے کا اعلان کریں۔ گزشتہ روز علما کے ساتھ مکالمے، کمرہ عدالت میں آنے والے لوگوں کے طرز عمل اور ججوں کے ساتھ اختیار کیے گئے رویہ کی روشنی میں تو ججوں کو  ماحول دیکھتے ہوئے مقدمہ کی سماعت سے انکار کردینا چاہئے تھا۔  سہ رکنی بنچ کے فاضل ارکان کم از کم یہ تو  کہہ سکتے تھے کہ جب تک  سپریم  کورٹ   پر دباؤ میں  ڈالنے کا ماحول ختم نہیں ہوتا،  اور جب تک کمرہ عدالت میں آنے والے لوگ  اطمینان سے عدالتی کارروائی سننے  پر آمادہ نہیں ہوتے ،  وہ اس معاملہ کی سماعت نہیں کرسکتے۔

البتہ  فاضل جج حضرات  یہ اعلان اسی صورت میں  کرسکتے تھے اگر  پہلے سے  دباؤ قبول کرنے اور علما کی رائے کو آئین و قانون  پر ترجیح دینے کے اعلانات  سامنے نہ آتے۔ اس قسم کا تاثر  24 جولائی  کو نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے بھی دیا گیا  تھا کہ اس اہم اور پیچیدہ معاملہ میں علمائے دین کی رائے سننی اور سمجھنی چاہئے۔ لیکن اس فیصلہ میں بہر حال یہ  یقینی بنایا گیا تھا  کہ کسی  معاملہ میں  جیسے مختلف ماہرین سے رائے  لی جاتی ہے، اسی  طرح اس کیس  کی مذہبی  نوعیت کی بنیاد پر علما سے رائے لی جاسکتی ہے یا اس پر غور  جا سکتاہے۔  لیکن فیصلہ بہر حال مذہبی لیڈروں کی  مرضی کی بجائے قانون اور آئین کی بنیاد پر ہوگا۔   البتہ  گزشتہ روز مذہبی لیڈروں کے سامنے بے بس  نظر آتے چیف جسٹس اور ان کے ساتھی جج  صرف علما کی رائے سننے اور ماننے پر مجبور تھے  اور انہوں نے حکم نامہ میں وہی تحریر کیا جس کا تقاضہ مولانا  تقی عثمانی ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر نے  کیا تھا۔ ایک سطری حکم میں  سابقہ فیصلوں  کے  پیراگرافس اور  عدالتی  ہدایت و رائے کو واپس لینے کا نیا ’حکم‘ جاری کردیا گیا  ۔ لیکن یہ وضاحت  نہیں کی گئی کہ اس کے لیے کون سے قانون اور آئینی شق کا سہارا  لیا گیا ہے۔  اگرچہ یہ گنجائش موجود ہے کہ تفصیلی فیصلے میں اس بارے  میں کچھ روشنی ڈالی جائے لیکن  سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کو تبدیل کرتے ہوئے سہ رکنی بنچ نے بہر حال   نظر ثانی کے بعد  فیصلے تبدیل  کرنے کی  بدعت  کا آغاز کیا ہے۔    اس لیے مختصر فیصلہ میں حجت کے لیے ہی سہی  عدالت کو بتانا چاہئے تھا کہ وہ کس قانونی و آئینی اختیار کے تحت ایک نظر ثانی شدہ معاملہ میں عدالتی فیصلہ تبدیل کررہے ہیں۔  ججوں کا یہ اقدام ان کی اپنی شہرت اور ملک میں   ’گروہی انصاف‘ کے اصول کو مسترد کرنے کا تاثر دینے کے لیے  ضروری تھا۔

دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ میں البتہ ان الفاظ میں فیصلہ کا اعلان کیا گیا ہے : ’ تفصیلی دلائل سننے کے بعد وفاق کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت  اپنے حکم نامے مورخہ 6فروری 2024 اور فیصلے مورخہ 24جولائی 2024 میں تصحیح کرتے ہوئے معترضہ پیراگرافس حذف کرتی ہے۔ اور ان حذف شدہ پیرا گرافس کو نظیر کے طور پیش/استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ ٹرائل کورٹ ان پیراگرافس سے متاثر ہوئے بغیر مذکورہ مقدمے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔ اس مختصر حکم نامے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی‘۔  پورے دن کی کارروائی میں کسی وکیل نے کسی قانونی نکتے کا حوالہ نہیں دیا۔ شروع میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان  نے محض یہ وضاحت کی کہ ’اسپیکر قومی اسمبلی  کے خط  اور  وزیراعظم کی  ہدایات روشنی میں درخواست دائر کی گئی ہے۔  ظاہر ہے دوسری نظرثانی تو نہیں ہو سکتی۔ اس لیے ضابطہ دیوانی کے تحت آپ کے سامنے آئے ہیں‘۔ اٹارنی جنرل   نے استدعا کی کہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے۔ گویا اٹارنی جنرل بھی واضح کررہے  تھے کہ ا س معاملہ میں نظر ثانی کی درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ ججوں کی سہ رکنی کمیٹی نے کسی تاخیر کے بغیر    ہر ضابطے یا قانون  نظر انداز کرتے  ہوئے دائر کی گئی اس درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کیا اور کل  سپریم کورٹ کے جج کسی قانونی حوالہ کے بغیر محض علما کے مطالبات کے سامنے سرنگوں ہوگئے۔

ایسی عجلت و مستعدی   تو سپریم کورٹ نے بھٹو پھانسی کیس میں صدارتی ریفرنس  پر مشورہ  دیتے ہوئے بھی نہیں دکھائی تھی۔ بلاشبہ اس وقت سپریم کورٹ کے بنچ کی حیثیت مشاورتی تھی لیکن اس  مشورہ میں بھی  عدالتی فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے  کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا جاسکتا تھا لیکن اس موقع پر محض یہ کہہ کر معاملہ ختم کردیا گیا کہ ’بھٹو کو   فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا تھا‘۔ حالانکہ جب سپریم کورٹ   یہ مان رہی ہے  کہ اس پلیٹ فارم سے  ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل نہیں ملا جس کے نتیجے میں انہیں سزائے موت دے دی گئی تو کم از کم یہ مشورہ نما ہدایت بھی دی جاسکتی تھی کہ حکومت یا وارثین اگر اس معاملہ میں انصاف یعنی فیئر ٹرائل کے خواہاں ہیں تو  یہ رکاوٹ حائل نہیں ہوگی کہ نظر ثانی کی اپیل پر فیصلہ کے بعد اب یہ  ’غیر منصفانہ  فیصلہ‘ پتھر پر لکیر ہوگیا ہے۔  لیکن  مبارک ثانی کیس میں محض ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دینے پر ایسا قضیہ کھڑا ہؤا کہ   نظر ثانی شدہ اٹل فیصلہ بھی سپریم کورٹ کو استقامت دینے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس کوتاہی پر صرف  درخواست کی سماعت کرنے والے تین ججوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ  ججوں کی سہ رکنی کمیٹی  بھی ملک و قوم کو جوابدہ ہے کہ ایک نظر ثانی شدہ معاملے میں سامنے آنے والی ایک درخواست اس قدر عجلت میں سماعت کے لیے کیوں  مقرر کی گئی۔

گزشتہ روز کے حکم میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ جو ملک میں انصاف فراہم کرنے اور اپیل سننے کا حتمی ادارہ ہے، بھی ملاؤں کے جبر کے سامنے  کھڑے رہنے کا حوصلہ نہیں کرسکی۔   صریحاً غنڈہ گردی کے ماحول میں ججوں کو من پسند فیصلہ لکھنے پر مجبور کیا گیا۔  اگر   میڈیا میں سامنے آنے والی یہ خبریں درست ہیں کہ ججوں نے عدالتی کارروائی سے پہلے چیمبر میں ’شکایت کندہ ‘ علما سے ملاقات کی اور ان کی مرضی ماننے کا عندیہ دیا تو اسے  قانون ہی نہیں انصاف کا خون  کرنے کا اقدام کہا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک بڑی کوتاہی مبارک ثانی یا اس کے وکلا کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع نہ دے کر کی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو جو مبارک ثانی ایک مقدمہ میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ آیا تھا، سپریم کورٹ نے اسے  ٹرائل کورٹ کے سامنے ڈال دیاہے اور اسے  ’اختیار‘ دی ے دیاہے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ حالانکہ ججوں کو یہ جواب دینا چاہئے کہ جس معاملہ میں سپریم کورٹ کا بنچ  قانون کے مطابق انصاف دینے کے قابل نہیں، اس میں کوئی ٹرائل کورٹ کیسے انصاف فراہم کرسکتی ہے۔ ملک میں ایسی درجنوں  مثالیں موجود ہیں جن میں زیریں عدالتیں توہین مذہب  کے مقدمات میں  یک طرفہ فیصلے صادر کرتی ہیں یا سال ہا سال تک ان معاملات کو معلق رکھا جاتا ہے۔ اس قانون میں چونکہ ضمانت حاصل کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے، اس لیے  نہ ضمانت ہوتی ہے اور نہ عدالتوں سے فیصلے ملتے ہیں اور الزامات  کی زد پر آئے ہوئے کسی بھی مظلوم شخص کی زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے۔

مبارک ثانی کیس میں اگر معاملہ اس حد تک سنگین ہوچکا تھا کہ ججوں کے پاس انصاف کرنے کا موقع نہیں تھا تو انہیں یہ مقدمہ سننے سے انکار کرکے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا چاہئے تھا تاکہ کم از کم   مزاحمت کی نشانی کے طور پر عدالت عظمی کی عزت بچائی  جاسکتی۔ بلکہ معاملہ پیچیدہ اور مشکل ہونے کی صورت میں ججوں کی کمیٹی کو یہ معاملہ سہ رکنی بنچ کی بجائے فل کورٹ بنچ کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا تاکہ عدالت عظمی کے سارے جج اپنی رائے دے سکتے اور ملک کے عوام کو بھی پتہ چلتا کہ مختلف معاملات میں آئین و قانون کا علم اونچا کرنے والا کون کون سا جج اس موقع پر حق و انصاف کا ساتھ دینے کا حوصلہ کرسکتا  ہے۔  لیکن سہ رکنی بنچ کی طرح  سینئر ترین ججوں کی سہ رکنی کمیٹی بھی مذہبی گروہوں کا دباؤ قبول کرنے سے انکار نہیں کرسکی۔  اس طرح پاکستان کو دنیا میں ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں اقلیتوں کو نام نہاد قانون کے مطابق بھی انصاف لینے کا حق حاصل نہیں ہے۔  اس صورت حال کے سفارتی مضمرات کا اندازہ کرنا   ممکن نہیں  ہے لیکن پاکستان کو اب ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جائے گا جو مذہبی شدت پسندی کا گڑھ ہے اور کوئی قومی ادارہ اس کے سامنے دیوار نہیں بن سکتا۔

اس معاملہ کو  نام نہاد علمائے کرام نے عقیدہ ختم نبوت کا مسئلہ بناکر عوام کو بے وقوف بنایا اور گمراہ کیا۔  حالانکہ یہ ایک شہری کے ساتھ غیر قانونی  کارروائی کا معاملہ تھا۔  اب  یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ احمدی خود کو  غیر مسلم نہیں مانتے، عدالت سے یہ اعتراف کروایا گیا ہے کہ ایسے گروہ کو اپنے گھر میں بھی اپنے عقیدے پر بات کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ کیا دنیا  کی کوئی دلیل اس نقطہ نظر کو درست اور کسی میرٹ پر  جائز مان سکتی ہے؟ یہ اقلیتوں کو بنیادی حقوق دینے سے انکار کرنے کا اعلان ہے۔ ملکی سیاسی پارٹیوں کے بعد وکلا برادری اور عدالتوں نے  مذہبی گروہوں کے ناجائز مطالبے مان کر  پاکستان میں اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والے  ہر شخص کی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہے۔