فیضیابی کی پریشان تکون؟

ہمارے اور بلند پرواز کے سپہ سالارپر تنقید کے ایک سو ایک مواقع موجود ہیں جن سے یار لوگ سوشل میڈیا پرحسب توفیق مستفید بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آپ نے حال ہی میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو شریعت کو نہیں مانتا میں اسے پاکستانی تسلیم نہیں کرتا۔

اس پر تنقیدی نشترچلائے جاسکتے ہیں کہ مذہب بندے اور خدا کامعاملہ ہے کسی کا کوئی بھی عقیدہ ہے مسلمہ بنیادی انسانی حقوق کی مطابقت میں ہمارا آئین بھی پاکستانی شہریت پر ایسی کوئی قدغن نہیں لگاتا۔ علاوہ ازیں ہماری جتنی بھی مذہبی اقلیتیں ہیں ظاہر ہےکہ وہ ہماری اسلامی شریعت کو نہیں مانتی ہیں تو کیا وہ ہمارے قابل احترام پاکستانی نہیں ہیں؟ کیا ہم سب کو ایسے بیانات سے احتراز نہیں کرنا چاہیے؟ آج ہماری سپریم جوڈیشری جس بے بسی اور کرب کے ساتھ مقدس شمشیر کے سامنے الٹی لیٹ چکی ہے، اس دردناک یا شرمناک صورتحال کے بعد یہاں کہنے کو کیا مزید کچھ رہ گیا ہے؟

اس تنقیدی تمہید کے ساتھ حافظ صاحب کے ایک بڑے اقدام کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ ہم دل جلوں کا روز اول سے مطالبہ چلا آرہا ہے کہ یہاں ہمیشہ سے یکطرفہ طور پر سیاستدانوں کو ہی احتساب کی بھٹی میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟یہ جو آپ کے چراغ تلے "پارسا خاکی"ہیں انہیں کیوں ایسی مقدس گائے  سمجھا جاتا ہےکہ چاہے آئین کو توڑیں قانون کو مسلیں یا اپنے اختیارات سے جتنا مرضی تجاوز کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

آج ہمارا یہ ملک بدنصیب جس عدم استحکام، لا قانونیت، مذہبی جبرو دہشت و دھونس، بدترین انارکی، بھوک ننگ اور بدحالی سے گزر رہا ہے۔ اس اجاڑے میں سیاسی بہروپیوں کے ساتھ کچھ مقدس ہستیوں کا کردار کیا کسی طرح کم رہا ہے؟ اس فیضیابی کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور ان کی شاخیں ناقابل یقین حد تک جتنی بھی پھیلی ہوئی ہیں ، اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔ بزنس مین کو اغوا کرنا توایک واقعہ ہے، اختیارات سے تجاوز اور بدعنوانی کی کڑیاں کچھ آگے تک جائیں گی۔ جمہوریت کو کچلنے اور عدالتوں کو مینیج کرنے میں جو کردار بھی رہا ہے، وہ محض اس فرد واحد تک محدود تو نہ تھا۔ حافظ صاحب کے بے لاگ انصاف کا تقاضا تو یہی بنتا ہے کہ وہ ہردو بڑی ہستیوں بشمول باجوہ اور بابا رحمتا کسی پر بھی کوئی مقدس غلاف نہیں چڑہائیں گے۔ بے لاگ تحقیتات کی زد جس پر بھی پڑتی ہے، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب سابق آئی ایس آئی چیف، ڈیوٹی کی مجبوریاں یا بڑوں کا حکم کہہ کر بھی مکتی نہیں پاسکتے جبکہ بڑےصاحب یہ کہتے سنائی دیے کہ میرا نام لے کر من مانیاں کی جاتی رہیں۔ حالانکہ کسر بڑے نے بھی کوئی نہیں چھوڑی۔ مگر سیانے کیا کہتے ہیں کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ جن کے فیض عالم کا سرچشمہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یوں جاری وساری رہا جیسے ناقصاں راپیر کامل اور کاملاں را رہنما۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں پیٹ درد بھی انہی کو ہوگا۔

قومی سمندر کے ایک بڑے “طاقتور” کی گرفتاری کا زیادہ صدمہ اس کو ہے جو بظاہر یہ کہہ رہا ہے کہ “مجھے کوئی صدمہ یا پریشانی نہیں ہے، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، مجھے اس سے کیا"۔ لیکن ساتھ ہی اندر کا کرب سامنے آرہا ہے کہ ہائے جنرل فیض تو ہمارا اثاثہ تھے انہیں ضائع کردیا گیا۔ جب مخالفوں کے کہنے پر انہیں ہٹایا گیا، میری سابق سپہ سالار سے سخت تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ مزید کہا کہ "9 مئی کو ہمارا احتجاج پرامن تھا، احمق کہتے ہیں کہ فیض حمید نے بتایا حملہ کہاں کرنا ہے"۔  جنرل فیض حمید کی گرفتاری تو محض ڈرامہ ہے اب اسے میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا جائے گا۔ جب میں نے کوئی غلط کام کیا ہی نہیں تو مجھے جنرل فیض کے وعدہ معاف گواہ بننے سے کوئی خوف یا ڈر نہیں ۔ آج ملک میں چوتھاغیر علانیہ مارشل لاء نافذ ہے، بشریٰ بی بی کے بارے میں شرمناک چیزیں کہی جارہی ہیں کہ وہ جنرل فیض حمید سے انفارمیشن لیتی تھی۔
یہاں سابق کھلاڑی کو آگے سے یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ وہ جنرل فیض سے پیشگی انفارمیشن لے کر مجھے یوں بیان کرتی تھی کہ جیسے ان پر پیرنی کی حیثیت سے کسی کرشمے کا نزول ہورہا ہو۔

بہر حال درویش کی نظر میں سابق کھلاڑی کی پہلی بڑی ٖغلطی جنرل باجوہ سے بے وقت پنگا لینے کی تھی، جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس نے کہاہے کہ"میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ جنرل باجوہ کو ساتھ لے کرچلوں لیکن باجوہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا اور میری حکومت گرادی"۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ اپنی پیٹھ میں چھرا گھونپے جانے کے باوجود آپ اسی عطار کے لونڈے سے دوالینے کیلیے دندان ساز کے ذریعے اتنے بے چین وبے تاب تھے کہ ایوان صدر میں انہیں تاحیات آرمی چیف بنائے رکھنے کی آفرز کرتے پائے گئے۔ آپ ناممکن العمل یقین دہانیاں کس برتے پر کرواتے رہے؟
کھلاڑی کا تازہ مطالبہ آیا ہے کہ "جنرل فیض کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کیا جائے اس سے ملک کو فائدہ ہوگا اور پاکستان ترقی کرے گا"۔ انہوں نے یہ واضح نہیں فرمایا ہے کہ ایک ریٹائر جنرل کا ملڑی ٹرائل اوپن کرنے سے ملک کو کون سا فائدہ پہنچے گا اور وہ کیسے ترقی کرجائے گاَ؟ اصل ترقی تو تب ہوئی تھی جب آپ اور وہ مل کر دونوں اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے۔ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد چونکہ ہیرو سے زیرو ہوگیا ہے، اس لیے اب میں اس سے رابطہ کیوں رکھوں؟ کیا یہ ابن الوقتی و طوطا چشمی نہیں ہے؟ جسے مسلط رکھنے کیلیے آپ آخری حدود بھی پار کر گئے تھے اور خطرناک دشمنیاں پال لی تھیں؟
بابے رحمتے یا رحمت دین کے تازہ بیانات پڑھتے ہوئے درویش کو جیزز کے سامنے بلند بانگ دعوے کرنے والا وہ شاگرد یاد آگیا جو کہتا تھا کہ استاد محترم آپ پر میری جان بھی قربان ہے۔ مگر راستبازی و دانائی کے منبع  نے اسے کہا یہودہ تو مرغ کے اذان دینے سے قبل تین بار میرا انکار کرچکا ہو گا۔

اپنی نوکری میں جھوم جھوم کر طاقتوروں کی شان میں قصیدے اور گیت گانے والا رحمتا آج کہہ رہا تھا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا 9 مئی ، پی ٹی آئی، بانی پی ٹی آئی ، اس کی سیاست یا جنرل فیض حمید یا اس کے کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ جب ریفرنسز دیے گئے تو کہا کہ میرے تو ان سے بس سماجی روابط تھے، جنرل فیض کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی تھی۔ مختلف مواقع پر نیک خواہشات کے ساتھ خوشگوار باتوں کے تبادلے ہوئے تھے۔ جب میں شمالی علاقوں کے دورے پر گیا تھا تو جنرل نے میرا بڑا خیال رکھا تھا۔ سو واپسی پر میں پشاور ان کے گھر بھی گیا تھا۔ میری بڑی خاطر مدارت کی گئی۔ وہ مجھے محبت بھرے پیغامات بھیجتے رہتے تھے اور بس۔ سابق کھلاڑی کا ذکر کرتے ہوئے رحمتا جی نے کہا کہ میں نے اس کو پورا صادق و امین نہیں کہا تھا۔ تھوڑا یا جزوی طور پر کہا تھا لیکن اس کا مطلب غلط سمجھا گیا۔

یہ پڑھتے ہوئے نہ جانے کیوں امریکی صدربل کلنٹن کا وہ بیان یاد آگیا جو انہوں نے مونیکا سےاپنے خصوصی تعلق کی حدود بیان کرتے ہوئے دیا تھا…. یہی تعلی بازان دنوں اچھل اچھل پڑتا تھا، شیخ رشید کی تو انتخابی مہم چلانے بھی نکل کھڑے ہوا تھا۔ مغربی ممالک میں پی ٹی آئی کی فنڈریزنگ کے نام پریہ شخص کئی ڈرامے کرتا پایا گیا۔ اس شخص نے اپنے منصبی تقاضوں یا عزت کی بھی ذرا شرم نہ رکھی۔ اپنا اصل کام چھوڑ کر جو جو سیاہ کارنامےکیے ہیں اگر فیض یابی مزید بڑہی تو پریشانی بھی مزید بڑھتی ملاحظہ کی جاسکے گی یہ پریشانیاں جاٹوں کے سپوت کی قدم بوسی کرتی بھی دکھتی ہیں۔ رہ گئی وعدہ معافی وہ اس تکون کے کسی سرے سے ہی کیوں کی جاۓ گی۔ اس حوالے سے اور ہستیاں بھی موجود ہیں۔ اقتدار اور عہدوں کی اسی لالچ اور بھوک کے گٹھ جوڑ  نے آج اس ملک بدنصیب کو اس حال میں پہنچادیا ہے کہ ہمارے عام آدمی کا جینا اور اپنے بال بچوں کاپیٹ پالنا محال بنا دیا گیا ہے۔

اس بربادی اور کسمپرسی میں سابق کھلاڑی کیلیے امید کی ایک ہی کرن ہے وہ کسی طرح پریشان حال بھوکےعوام کو بنگالیوں کی طرح سڑکوں پر لانےکے قابل ہوجائے۔ مگر اس کی جو درگت خود اس کے ناہنجار ساتھیوں نے بنائی ہے، اس پر اس کی بہن علیمہ کا بیان ملاحظہ فرما لیا جاۓ۔ یہ سب بڑھک باز چوری کھانے والے مجنوں ہیں جو پانچ ہزار کے نوٹ بانٹ کر بندے لاتے ہیں۔ بصورت دیگر کھلاڑی کیلیے درویش کا مفت مشورہ ہے کہ سیاست سے تائب ہوکر حافظ صاحب کی شرائط پر سرنگوں ہو جائے کہ یہ اس کے بس کا کام نہیں اور یامان لے کہ اقتدار کی دیوی اس سے ہمیشہ کیلیے روٹھ چکی ہے۔