طالبان کے اخلاقی قانون پر اقوام متحدہ کی تشویش

  • سوموار 26 / اگست / 2024

اقوامِ متحدہ نے افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی جانب سے ’اخلاقیات کے قانون‘ کے نفاذ پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

طالبان کے نئے نافذ کردہ قانون میں ذاتی آزادی پر پابندی، عوامی مقامات پر خواتین کو خاموش رہنے اور ان کو اپنے چہرے ڈھانپنے جیسے احکامات شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے افغانستان کے لیے معاونتی مشن ’یو این اسسٹنٹس مشن ان افغانستان‘ کی سربراہ روزا اوتونبایوا نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک پریشان کن تصور ہے جہاں اخلاقی معائنہ کاروں کو بعض اوقات وسیع اور مبہم اختیارات دیے گئے ہیں۔

گزشتہ دنوں طالبان نے اسلامی قوانین کی اپنی سخت تشریح کی بنیاد پر شہریوں کے طرز عمل اور طرز زندگی کے ضوابط کی وضاحت کرنے والے قوانین کی تشکیل کا اعلان کیا ہے ۔ اس سال 31 جولائی کو 35 شقوں پر مشتمل قانون کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا تھا جس میں ممنوعہ طرز عمل اور طرز زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

2021 میں طالبان کے سر اقتدار آنے کے بعد اخلاقیات سے متعلق افغانستان کی ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ نامی وزارت کا عملہ افغانستان کی سڑکوں اور گلیوں میں اخلاقیات کے قانون پر عمل درآمد کروا رہا ہے ۔ اس قانون میں اب ان امور کے بارے میں عملے کے اختیارات کی وضاحت کر دی گئی ہے جو سماجی ربط ضبط سے لے کر نجی زندگیوں اور لباس تک محیط ہیں ۔

بدھ کو جاری کیے گئے احکامات کے تحت طالبان نے خواتین کے گانا گانے، شاعری کرنے، عوامی مقامات پر تیز آواز میں گفتگو پر پابندی عائد کی ہے۔ جب کہ عوامی مقامات پر اپنے پورے جسم کو چہرے سمیت چھپانے کے بھی احکامات دیے گئے ہیں۔

یو این اسسٹنٹس مشن ان افغانستان کی سربراہ روزا اوتونبایوا نے کابل میں جاری ایک بیان میں نئے قانون کے حوالے سے کہا کہ یہ افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں پر پہلے سے عائد ناقابلِ برداشت پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے جس کے تحت گھر سے باہر کسی خاتون کی اونچی آواز بھی اخلاقی خلاف ورزی ہو گی۔ کئی دہائیوں کی جنگ اور بدترین انسانی بحران میں افغانستان کے عوام اس سے بہتر کے مستحق ہیں۔

روزا اوتونبایوا نے کہا کہ باقی دنیا چاہتی ہے کہ افغانستان امن اور خوش حالی کی راہ پر چلے۔ افغان عوام پر مزید پابندیاں عائد کرنے اور ان کو مسلسل خوف میں رکھنے سے اس مقصد کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہ نئے عائد کردہ قانون کے افغان عوام پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ طالبان نے ان پر حالیہ قانون کے نفاذ کے سبب تنقید کے جواب میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔