بلوچستان: موسٰی خیل میں ٹرکوں، بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد 23 افراد قتل

  • سوموار 26 / اگست / 2024

بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتارکر شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر نجیب کاکڑ نے بتایا کہ مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگاکر مسافروں کو بسوں سے اتارا اور شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مسلح افراد نے 10 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔

پولیس اور لیویز نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو ہسپتال منتقل کرنےکا سلسلہ شروع کر دیا۔ جاں بحق افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے بدترین واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وائس آف امریکہ کی اطلاع کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

 موسیٰ خیل میں مسلح افراد نے 23 مسافروں کو بسوں سے اُتار کر شناخت کے بعد قتل کر دیا۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر واقع بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب مسلح افراد نے قومی شاہراہ کو ناکہ لگا کر بند کر دیا۔ یہ شاہراہ بلوچستان کو پنجاب سے ملاتی ہے۔

مقامی افراد نے اطلاع دی ہے کہ اس مقام پر مسلح افراد نے دو درجن سے زائد کوئلے سے لدے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کو نذرِ آتش بھی کیا ہے۔ موسیٰ خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس دوران مسلح افراد نے پنجاب سے بلوچستان آنے والی گاڑیوں سے شہریوں کو اُتار کر شناخت کے بعد قتل کیا۔

اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کچھ ویڈیوز بھی زیرِ گردش ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئلے سے لدے ٹرکوں سمیت دیگر گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہ رند نے کہا ہے کہ دو سے تین مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ دو مقامات پر سیکیورٹی اداروں نے حملوں کو ناکام بھی بنایا ہے۔

نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو میں شاہد رند نے کہا کہ موسیٰ خیل میں مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کیا گیا۔ ان کے بقول ایسے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ تنظیم کوئی بھی ہو اگر موسیٰ خیل جیسی کارروائیاں کرتی ہے تو وہ دہشت گرد ہی ہیں۔ جس صورتِ حال کا سامنا ہے اس میں سیاسی اسٹیک ہولڈرز سمیت سب کو مل کر کوشش کرنی ہو گی۔

موسیٰ خیل کا علاقہ ڈی جی خان سے منسلک ہے۔ ایسے پہاڑی علاقوں میں شاہراہیں قومی شاہراہیں نہیں ہوتیں۔ یہاں سیکیورٹی کم ہوتی ہے۔ عسکریت پسندوں کا موسیٰ خیل میں حملہ سیکیورٹی اداروں اور صوبائی حکومت کی کوتاہی ہے کہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کارروائی کی گئی۔

ضلع قلات میں رپورٹ ہونے والے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمشنر فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ہیں۔ قلات میں لیویز کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اتوار کی شب مسلح افراد نے قلات میں مہلبی کے علاقے میں لیویز تھانے پر حملہ کیا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر قلات آفتاب لاسی فائرنگ کی زد میں آ کر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز زیرِ گردش ہیں جن میں قلات میں سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیاں جلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ قلات ہی میں ایک مقامی قبائلی رہنما کے گھر اور ایک ہوٹل پر بھی حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

قلات میں انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ رات گئے تک جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران لیویز کے چار اہلکار اور ایک قبائلی شخصیت سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں نو افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

قلات میں لیویز کنٹرول کے ایک اعلیٰ افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قلات میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب مسلح افراد نے مقامی قبائلی شخصیت کے گھر پر حملہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہیں لیویز فورس جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوئی۔ تاہم راستے میں عسکریت پسندوں نے ناکہ لگایا ہوا تھا جہاں فائرنگ پر ان کا سیکیورٹی اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں لیویز کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔ لیویز اعلیٰ افسر کا دعویٰ تھا کہ قلات کی صورتِ حال اب کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ قلات میں مسلسل فائرنگ اور مواصلاتی نظام میں خلل پڑنے کے باعث رابطوں میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مقامی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قلات میں حملوں کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔

ضلع بولان کے ایس ایس پی نے چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چار لاشیں قومی شاہراہ سے کولپور کے مقام پر ملی ہیں جب کہ دو لاشیں ایک تباہ شدہ پل کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ مقتولین کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اندازہ ہو رہا ہے کہ مقتولین کو شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کیا گیا۔ مقتولین کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ضلع بولان میں شرپسندوں نے ریلوے کا ایک پل بھی تباہ کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق بولان کے علاقے دوزان میں ریل کا پل دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہے۔

پل تباہ ہونے کے سبب ریل سروس معطل ہو گئی ہے۔ ملک کے دیگر حصوں سے کوئٹہ جانے والی ریل گاڑیوں کو روک لیا گیا ہے جب کہ کوئٹہ سے بھی اندرونِ ملک جانے والی ٹرینیں بھی روک دی گئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں بائی پاس کے قریب مسلح افراد نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک کیمپ پر بھی حملہ کیا ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اتوار کی شب ایف سی کیمپ کی طرف سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس دوران پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں۔ تاہم فورسز کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا اور حکام نے سرکاری طور پر بھی عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

لسبیلہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم 'بلوچ لبریشن آرمی' نے قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ لسبیلہ کیمپ میں حملے سے فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

لسبیلہ کے علاوہ بلوچستان کے ضلع سبی، تربت اور کوئٹہ میں بھی فائرنگ اور بم دھماکوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے جیوانی میں بھی اتوار کو مسلح افراد نے ایک تھانے کو نشانہ بنایا ہے۔

ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں بھی مسلح افراد کی لیویز کے ایک تھانے پر حملہ آور ہونے کی اطلاع ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ 14 اگست کو کھڈ کوچہ کے علاقے میں ہی بلوچستان کے ضلع پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ ایک حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

مقامی انتظامیہ نے اتوار کی شب کھڈ کوچہ میں قائم لیویز تھانے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ مسلح افراد نے لیویز تھانے پر قبضہ کیا۔ اس دوران تھانے میں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق فورسز نے کھڈ کوچہ تھانے کے اطراف سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ آپریشن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی مزید نفری بھی طلب کی گئی ہے۔ کھڈ کوچہ کے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ انتظامیہ نے مساجد سے اعلانات بھی کرائے ہیں کہ مسافر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

متعدد حملوں کے سبب قومی شاہراہ پر مستونگ میں مسافر بسیں اور دیگر گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ قلات اور مستونگ میں حالیہ حملوں کے بعد نواب غوث بخش میموریل اسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔