انا کی بجائے آئین کو مصالحت کی بنیاد بنایا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 28 / اگست / 2024
سابق نگران وزیر اعظم سینیٹرانوارالحق کاکڑ نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں حالیہ حملوں پر تفصیلی بات کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر اس وقت سرکشی پر اترے ہوئے عناصر کے ساتھ سختی سے نہ نمٹا گیا تو بعد میں بہت دیر ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے ہمیشہ انہیں شکست دینے کے بعد بات ہوسکتی ہے ورنہ وہی حشر ہوتا ہے جو افغانستان میں امریکہ اور مشرقی پاکستان میں پاک افواج کا ہؤا تھا۔
اس بیان میں زمینی حقائق کی بنیاد پر ایک جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا انوار الحق کاکڑ جیسا مفاد اٹھانے والا شخص زمینی حقائق سے آگاہ ہے اور کیا ان کا یہ تجزیہ درست ہوسکتا ہے کہ بلوچستان میں سرکشی کرنے والے ایک فیصد سے بھی کم لوگ ہیں ، اسی لیے وہ انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنے کی بجائے تشدد اور جنگ جوئی پر اتر آتے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ ہمیں بلوچستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی وکالت اور وضاحت کی ضرورت نہیں، وہ یہ خود کر سکتے ہیں۔ ان کی پوزیشن الیکشن ٹھیک نہ ہونے، سیاسی حقوق نہ ملنے سے متعلق نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ہماری زمین پر قابض ہیں اور ہماری الگ شناخت ہے۔ یہ لوگ صرف ایک فیصد ہیں۔ اس لیے یہ الیکشن کے بجائے دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں‘۔
اسی تقریر میں انوار الحق کاکڑ نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان افتراق کو افسوسناک قرار دینے کے علاوہ پاک فوج کے بارے میں پھیلائی جانے والی بداعتمادی کا خاص طور سے ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک میں تشدد سے نمٹنے کا اختیار ریاست کے پاس ہے۔ مگر بدقسمتی سے جن اداروں کو یہ ذمے داری آئین میں ملی ہے ان کے درمیان ایک خلیج پیدا کی جا رہی ہے یا پیدا ہوچکی ہے۔ اگر ان لوگوں کو ہم بطور ہیرو نہیں بلکہ ولن کے طور پر پیش کریں گے تو یہ جنگ آج سے ہی آپ ہاری ہوئی سمجھیں۔ ہمیں انہیں اپنے گھر، صوبے اور ملک کا محافظ تسلیم کرنا ہو گا اور ہر طرح سے ان کی مدد کرنا ہو گی کیونکہ یہ کسی ادارے کی نہیں بلکہ قومی جنگ ہے‘۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو مل کر ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ اگر نہیں کریں گے تو پھر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پھر داستان نہ ہو گی داستانوں میں۔ اللّٰہ کرے اس سے پہلے ہم ایک سنجیدہ بات چیت شروع کریں۔
سابق نگران وزیر اعظم کی باتوں میں بہت سے کام کے مشورے ہیں جنہیں متعدد سرکاری ترجمان اپنا مؤقف درست ثابت کرنے کے لیے پیش کرسکتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انوار الحق کاکڑ کس حد تک بلوچستان کے نباض ہیں اور ان کی باتوں کو کیوں کر بلوچ عوام کے دل کی آوازسمجھ لیا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ اندازہ درست ہو کہ شورش پسند عناصر صوبے کی کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں اور اسی لیے وہ انتخابات کی بجائے شر پسندی پر اترے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ اپنا یہ دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ کوئی عوامی جائزہ، کوئی تحقیقاتی رپورٹ یا کسی حقیقی انتخابات کے نتائج کا حوالہ، کچھ بھی ان کی گفتگو کا حصہ نہیں تھا۔
اس اندازے کو ان کی حب الوطنی سے لبریز ’خوش فہمی ‘ تو سمجھا جاسکتا ہے لیکن حقیقت مان لینے کی غلطی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کی سب بنیادی وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاج اور ریلیوں میں نہتے اور پر امن عوام کی بڑی اکثریت نے حصہ لیا تھا لیکن ملکی عسکری قیادت نے ان عناصر کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ مافیاز کی پراکسی قرار دے کر انہیں کوئی اہمیت دینے سے انکار کردیا۔ یعنی ملکی اسٹبلشمنٹ عوام کو ساتھ لے کر عوامی مسائل پر بات کرنے والے لیڈروں کی نیک نیتی اور خلوص پر واضح شبہ کا اظہار کررہی ہے۔ اس شبہ کی موجودگی میں کیسے کسی صوبے میں قیام امن کے لیے سیاسی حکمت عملی تیار کی جاسکتی ہے۔ ملکی انتخابی نظام ملک کے ہر حصے کے جمہوریت پسند لوگوں کو شدید مایوس کرچکا ہے۔ اب یہ حقیقت تقریباً ہر سطح پر قبول کی جاتی ہے کہ پاکستان میں شفاف انتخابات نہیں ہوتے بلکہ اسٹبلشمنٹ جس گروہ کو قابل اعتماد سمجھتی ہے، اسے حکومت بنانے کے ’قابل‘ بنا دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات کے بارے میں یکساں پریشانی اور ناراضی دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں کے بارے میں یہی الزام ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے اپنی صوابدید کے مطابق اس سیاسی گروہ کو اقتدار تک پہنچنے میں کمک فراہم کی جو اس کے خیال میں ملک کو درست طریقے سے چلا سکتا ہے۔ عوام پر اسٹبلشنٹ کا اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اس نے یہ نازک ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے کہ ملک کی بہتری کے لیے فیصلے بیلٹ بکس کی بجائے کسی دوسری جگہ کیے جائیں تاکہ ملک خوشحال اور مضبوط ہو۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ 2018 میں یہ اعتماد عمران خان اور تحریک انصاف پر ظاہر کیا گیا تھا اور 2024 میں شہباز شریف و آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) و پیپلز پارٹی کو اس قابل سمجھا گیا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس انتظام میں فائدہ اٹھانے والے سیاست دان اور پارٹیاں اس طریقے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتیں لیکن اقتدار حاصل کرنے کے مقصد میں ناکام ہونے والے عناصر اسے مسترد کرکے ’ووٹ کو عزت دو ‘ یا ’حقیقی جمہوریت‘ کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی ملک کے عوام کے لیے جمہوری حق نہیں مانگ رہا ہوتا بلکہ اپنے لیے اقتدار کا تقاضہ کرتا ہے۔ حالات کی ستم ظریفی نے فیصلہ کرنے کا یہ حق عسکری قیادت کو تفویض کردیا ہے۔
اس بڑی تصویرکے تناظر میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وفاق میں حکومت سازی کے لیے عوام کی رائے کی بجائے کسی ہائیبرڈ نظام کی ضرورت کو اہمیت دی جاتی ہے تو پھر یہ کیسے باور کرلیا جائے کہ بلوچستان جیسے دور افتادہ اور محروم لوگوں کے خطے میں عوام کی مرضی سے منتخب ہونے والے لوگ ہی اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔ یہ نشاندہی تو درست ہوسکتی ہے کہ شورش پسند عناصر پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اس صورت حال کو وسیع تر حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اول تو کسی ملک کےکسی خطے میں آباد لوگوں کو کسی بھی وقت اپنے معاشی، سماجی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ’علیحدگی یا خود مختاری‘ کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ کوئی قانون یا آئین کسی شہری کا یہ حق سلب نہیں کرتا کہ وہ کسی سیاسی یا آئینی انتظام سے متفق نہ ہو اور اس میں تبدیلی چاہتا ہو۔ آئرلینڈ و اسکاٹ لینڈ کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں وقتاً فوقتاً ایسی صورت حال دیکھنے میں آتی رہی ہے۔
اگر بلوچستان کے کچھ عناصر بھی علیحدگی کو ہی مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں تو اسے درست نہ سمجھتے ہوئے بھی ان لوگوں کو یہ رائے رکھنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علیحدگی کی بات کرنے والے عناصر یہ مقصد بیلٹ بکس کی بجائے اسلحہ کےزور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی متعدد ممالک میں ملاحظہ کی گئی ہے۔ برطانیہ نے ہی آئرلینڈ میں ایسی پرتشدد تحریک کا مقابلہ عسکری طاقت کے ساتھ ہی کیا تھا۔ لیکن ا س کے ساتھ ہی آئرلینڈو اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کو ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق بھی دیا تھا۔ بلوچستان میں بھی ایسی حکمت عملی ہی کام کرسکتی ہے۔ تشدد یا دہشت گردی کو ختم کرنے کے ساتھ اگر صوبے کے عوام کو ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جاتا ہے تو کسی کو بھی شورش دبانے کے لیے طاقت کے استعمال پر اعتراض نہیں ہوگا۔ صورت حال البتہ اس وقت پیچیدہ اور مشکل ہوجاتی ہے جب عوامی رائے کے نام پر جعلی اور مشکوک انتخابات کا حوالہ دیا جاتا ہے اور مسلح رد عمل سامنے آنے پر ناراض عناصر کو دہشت گرد قرار دینے پر اصرار کیا جاتا ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے اپنی تقریر میں قومی اتحاد اور پاک فوج کے ساتھ اشتراک کا خوبصورت مشورہ تو دیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ اس مشورہ پرعمل درآمد کے لیے مناسب فضا کیسے پیدا کی جائے۔ یہ تقریر اس حوالے سے بھی نامکمل اور یک طرفہ ہے کہ اس میں ریاست کی پوزیشن تو واضح کی گئی ہے لیکن ناراض عناصر کے مؤقف کو یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ خود لڑ لیں گے۔ جب آپ ان کی بات سننے اور دلیل سمجھنے پر ہی آمادہ نہیں ہوں گے تو مایوس ہوجانے والے عناصر ہتھیار پھینک کر کیوں کر سیاسی حل پر آمادہ ہوں گے؟ انوار الحق کاکڑ نے بھی وہی غلطی کی ہے جو ہماری عسکری و سیاسی قیادت کررہی ہے کہ بلوچستان میں دو روز پہلے ہونے والے حملوں ہی کو مسئلہ کہا جارہا ہے حانکہ یہ وقوعہ عوام میں سلگتے ہوئے مسائل وپریشانیوں کی وجہ سے رونما ہؤا ہے۔ حکومت پہلے ان عوامل کا جائزہ لے کر ان مسائل کو سمجھے جن کی وجہ سے بلوچستان میں دہائیوں سے پریشانی و ناراضی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ان میں سب سے اہم مسئلہ بے شک لاپتہ افراد کے بارے میں ہے۔ اسی مسئلہ کو نمایاں کرنے کے لیے چند ہفتے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پر امن احتجاج منظم کیے تھے لیکن انہیں کسی نہ کسی کی پراکسی قرار دے کر ایک جائز مسئلہ پر غور کرنے سے انکار کردیا گیا۔ کسی بھی سیاسی یا عسکری مہم جوئی میں ملوث عناصر کو کسی نہ کسی ایسے ملک کی امداد حاصل ہوجاتی ہے جو پاکستان کو مسائل میں گھرا دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو پرایا بنانے کی بجائے انہیں گلے لگا کر دشمن کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاست پاکستان اس رویہ کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے۔
بلوچستان یا خیبر پختون خوا کی موجودہ صورت حال کا ایک ہی حل ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ہو یا بلوچ یکجہتی کمیٹی، ان میں جو عناصر آئین پاکستان کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہیں، انہیں ان کی رائے اور حکمت عملی سے قطع نظر گلے لگایا جائے اور ان سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے آپشن سامنے رکھے جائیں۔ اس عمل میں ریاستی یا ادارہ جاتی انا کو راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ البتہ جو عناصر آئین کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ریاست کے خلاف ہتھیار بھی اٹھاتے ہیں تو انہیں طاقت سے کچلنا اہم اور ضروری ہے۔ البتہ یہ مقصد امن پسند اور آئین ماننے والے گروہوں کو ساتھ ملاکر ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔