رانا افضال حسین سے وابستہ یادیں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 29 / اگست / 2024
رانا افضال حسین (2 جولائی 1947 تا 26 اگست 2024) وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے بڑے بھائی اور انہی کی طرح ہمارے علاقے مرید کے، نارنگ، شرقپور ضلع شیخوپورہ کی ہر دل عزیز شخصیت تھے۔
آپ 2008 سے لے کر 2018 تک حلقہ این اے 131 شیخوپورہ 1 سے بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہو کر دو مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہے اب 2024 میں اسی حلقے سے ان کے فرزند رانا احمد عتیق انور ممبر قومی اسمبلی ہیں جبکہ رانا تنویر حسین این اے 132 شیخوپورہ 2 سے ممبر قومی اسمبلی اور پی پی حلقہ 139، 4 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ رانا صاحب نے یہ سیٹ چھوڑی تو رانا افضال حسین ضمنی انتخاب میں یہیں سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہو گئے جس کا حلف انہوں نے ابھی 29 اپریل کو 5 سال کے لیے اٹھایا تھا۔ ان کے ساتھی ایم پی ایز، چوہدری حسان ریاض، پیر اشرف رسول، احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال ان کی اچانک جدائی پر فیملی کی طرح افسردہ تھے۔
سیاست اگر عوامی دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے ہو تو اس سے بڑی کوئی عبادت نہیں اقبال نے کہا تھا:
خدا کے عاشق ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
درویش نے زندگی میں بڑےسیاست دانوں کے ڈیرے دیکھے ہیں لیکن عوامی محبت اور خدمت سے سرشار رانا تنویر حسین کے ڈیرے پر جو رونقیں بلکہ ہجوم عاشقان ہوتا ہے وہ بے مثال و بے نظیر ہے۔ ضلع شیخو پورہ میں ہمارے علاقے مرید کے نارنگ شرقپور کے لوگ رانا صاحب کے پاس اپنے مسائل، الجھنوں، دکھوں یا غم روزگار سے مکتی کے لیے یوں دیوانہ وار آتے ہیں جیسے بڑی امیدوں کے ساتھ کسی آستانہ عالیہ پر منتیں ماننے آئے ہوں۔ اور پھر یہی لوگ رانا صاحب کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے دکھ کو اپنا دکھ محسوس کرتے ہیں۔
26 اگست کو رانا تنویر حسین کے بھائی رانا افضال حسین اس جہان فانی سے رخصت ہوئے ہیں تو عوام نے ان کے غم کو اسی طرح اپنا غم محسوس کیا جس طرح ان کے نوعمر فرزند رانا سرمد کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا تھا۔ ناچیز رانا صاحب کے گوش گزار کر رہا تھا کہ موت سے بڑی کوئی حقیقت نہیں اور اپنوں کی موت سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دکھ نہیں۔ اپنے بچپن میں پہلا شعر جو گھر کی چوکھٹ پر لکھا ہوا پڑھا وہ یہ تھا:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں
یہ درویش چند ماہ قبل ہونے والے اپنے بھائی ایوب ریحان کی موت کے صدمے سے نہیں نکلا تھا کہ اپنے مہربان دوست بھائی جان افضال حسین کی موت کا سانحہ آگیا۔ وہ بیمار ضرور تھے لیکن یوں اچانک چلے جائیں گے اس کا ادراک نہ تھا۔ جانے والوں کی یادیں فلم کے پردہ سکرین کی طرح ذہنی کینوس پر نمودار ہوتی ہیں۔
یہ درویش جب پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تب سے رانا تنویر اور رانا افضال کے خاندان سے آگاہی رکھتا ہے۔ غلہ منڈی مریدکے میں ان کی آڑھت اور ہماری آڑھت اس طرح ساتھ ساتھ تھیں کہ اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں سانجھی تھیں۔ اس وقت آڑھتوں کے اوپر رہائش گاہیں ہوتی تھیں اور سامنے کاروبار بالخصوص مونجی کے ڈھیر لگے ہوتے۔ جب مونجی اور گندم کا سیزن گزر جاتا تو آڑھتوں کے سامنے پھیلا وسیع ایریا سیاسی و مذہبی جلسوں یا اس نوع کی رونقوں کے لیے استعمال ہوتا۔
ناچیز کو تب کا ایک ایک لمحہ اچھی طرح یاد ہے۔ رانا صاحبان کے والد محترم حاجی انورمرحوم جو ستر میں پی پی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوۓ تھے، خاکی رنگ کا کھدر پہنے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آرہے ہیں اور یہ معصوم سا بچہ وہیں ٹھہر جاتا ہے کہ حاجی صاحب آرہے ہیں لیکن حاجی صاحب بولتے ہیں آجاؤ بیٹا آجاؤ۔ کبھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیچے جھانکتا ہے تو حاجی رانا انور صاحب کا عوامی جلسہ ہو رہا ہے۔ اقبال گھڑیال کلاں والے بھی آئے ہوئے ہیں کبھی رانا تنویر کبھی رانا افضال ، رانا زاہد اور رانا شوکت کو آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے دیکھتا ہے۔ بچپن کی یادیں بڑی انمٹ ہوتی ہیں یہ تک یاد ہے کہ رانا افضال مونجی سے چاول کا دانہ نکال کر یوں کھا رہے ہیں جیسے مونگ پھلی۔
اس کے بعد وہ وقت بھی آیا جب رانا افضال حسین کے ساتھ علمی، فکری، مذہبی و سیاسی بحثیں زوروں سے ہوتیں۔ ان کا ابتدائی رجحان پرویز صاحب اور کسی حد تک مارکس کے نظریات کی جانب تھا۔ جبکہ یہ ناچیز تب مودودی ازم کا شکار تھا اور امریکی سرمایہ داری نظام کی حمایت میں رطب اللسان۔ علاوہ ازیں رانا افضال کی بیگم صاحبہ اور سسرال والے شیعان علی کی محبت سے سرشار تھے۔ اس لیے مذہبی حوالوں سے رانا صاحب کی سوچ خاصی متوازن اور صلح جوئی والی تھی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ رانا افضال ایک وقت میں اچھے خاصے نظریاتی آدمی ہوا کرتے تھے۔ ہمارے زیادہ تر لوگوں کو ان کی بعد والی سیاست دان کی حیثیت کا علم ہے۔ رانا افضال اس ناچیز سے خاصے سینئر تھے۔ ان کے یہ الفاظ یاد ہیں کہ میری عمر پاکستان جتنی ہے۔ اپنی زندگی کا بہترین حصہ انہوں نے سرکاری ملازمت میں گزارا۔ ان کی خوش قسمتی یہ ہوئی جیسے کہ ایک دن انہوں نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تنویر صاحب چاہتے ہیں میں نوکری چھوڑ کر سیاست میں آجاؤں۔ تو عرض کی بھائی جان اور کیا چاہیے آپ کو۔ لعنت ڈالیں نوکری پر۔
نوکری کے دنوں کا ایک واقعہ یاد ہے جب رانا افضال لوکل گورنمنٹ میں ڈائریکٹر فائنانس تھے ان کے پی اے کا نام بھی افضال تھا۔ میری موجودگی میں ان کا کوئی ملاقاتی آیا، اتفاق سے وہ بھی ان کا ہم نام تھا جھٹ سے بولے کیا اتفاق ہے آج اس کمرے میں چار افضال بیٹھے ہیں۔ رانا افضال سرکاری افسر کی حیثیت سے جہاں بھی گئے ناچیز کا ان سے تعلق نہ ٹوٹا جس کا مڈھ انہوں نے کس خوبصورتی سے باندھا تھا۔ یہ بھی دلچسپ واقعہ ہے ہوا یوں کہ میری شادی پر رانا افضال ہمارے گاؤں آئے۔ دعوت کے بعد رخصت ہوتے ہوئے بولے افضال ریحان مجھے بڑی خوشی ہے تجھ درویش کو تمہاری پسند کی لڑکی مل گئی ہے۔ اور وہ بھی ڈاکٹر۔ شادی کے بعد آپ دونوں کی پہلی دعوت میں کرنا چاہتا ہوں۔ لہذا کل شام لاہور میرے گھر آئیں۔ اگلے روز جی او آر میں واقع رانا افضال کی سرکاری رہائش گاہ پرپہنچا تو اتنی پرتکلف دعوت دیکھ کر کہا بھائی جان میں تو سائیں لوک ہوں اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی؟ بولے ڈاکٹر صاحبہ تو سائیں لوک نہیں ہیں۔ بیگم صاحبہ نے بھی تواضع میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ اس سے رانا افضال کی بیگم صاحبہ کا ڈاکٹر خلعت النسا سے ایسا قریبی تعلق قائم ہو گیا کہ ڈاکٹر صاحبہ کی پرائیویٹ پریکٹس کو کامیاب کروانے میں ان کا بھی ایک رول رہا۔
اس طرح رانا افضال سے اپنائیت اتنی بڑھی کہ رانا اقبال سے بھی بھائیوں جیسا میل جول رہا۔ ان دنوں موبائل فون نیا تھا۔ عام نہیں ہوا تھا۔ رانا اقبال نے ایک اہم موقع پر اپنی گاڑی ڈرائیور اور موبائل فون تک ناچیز کے حوالے کر دیے۔ طاہر کی پیدائش پر انہوں نے جو خوشی منائی وہ تمام لمحات یاد ہیں۔ اب کچھ مدت سے رانا افضال کے ساتھ ایسا بے تکلفانہ بحث مباحثہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن تمنا تھی چند روز قبل خضر ریحان نے فون پر ان سے گفتگو کروائی جو کافی دیر ہوئی۔ سب کا حال احوال پوچھا، اپنی بیماری کا بھی بتایا اور یہ بھی کہ مجھے ملنے نہیں آتے ہو تو بتاؤ میں کسی دن آپ کے پاس آجاتا ہوں۔ عرض کی نہیں بھائی جان آپ بڑے ہیں آپ کی مصروفیات بھی زیادہ ہیں میں ٹائم لے کر کسی دن حاضر ہوتا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے فرشتہ اجل پہنچ گیا اور وہ اس ملک عدم روانہ ہوگئے۔ جہاں سے کوئی ریٹرن ٹکٹ نہیں۔
تدفین کے موقع پر رانا اقبال نے جو رقت آمیز دعا کروائی، اس پر کہا کہ ایسے موقع پر دعائیں مولویوں کی بجاۓ اپنوں کو ہی کروانی چاہیں۔ اب خداوند پوری فیملی ان کی اکلوتی بیٹی، بیٹے اور بالخصوص رانا تنویر حسین کو صبر جمیل عنایت فرمائے۔ اپنے والد کے بعد، جن کا وہ خلوص بھرا دست و بازو تھے۔