بلوچستان ایک، ایس ایچ او کی مار ہے
- تحریر علی احمد کرد
- جمعرات 29 / اگست / 2024
وکلا تحریک کو کامیاب ہوئے صرف چند ماہ ہی ہوئے تھے اسلام اباد میں مجھے ایک شادی میں مدعو کیا گیا یہ اسلام اباد کے ایلیٹ کلاس کی شادی تھی۔ اسلام اباد میں جو بڑا ادمی ہو سکتا تھا وہ موجود تھا۔ باقی لوگوں کو چھوڑ کر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ، اسد درانی میرے پاس آیا اور پوچھا سنائیے، کرد صاحب، بلوچستان کے کیا حالات ہیں۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کیا یہ ایک عجیب بات نہیں کہ ڈہ گی آئی ایس آئی مجھ جیسے عام ادمی سے بلوچستان کے حالات پوچھ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے اندر کی کیفیت کو چھپاتے ہوئے کہا، آپ ایک عام نہیں۔ بلکہ علاقے کے اہم ادمی ہیں۔ میں نے ان کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر اپ بندوق کی نالی سے بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں یہ نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ یہ سننا تھا کہ وہ پورے غصے کے ساتھ کہنے لگے کہ یہ سارے” را ” کے ایجنٹ اور دہشت گرد ہیں۔ اور ان کو ختم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
آج اس گفتگو کو 14 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے بی ایل اے کے کچھ لوگ کارروائی کرتے تھے، آج کل بڑے گروپ کی صورت میں آتے ہیں اور جو چاہے کر کے چلے جاتے ہیں۔ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ بلوچوں کے یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ یہ اسد درانی کی سوچ کا دوسرا برانڈ ہے۔ صرف چار دن پہلے ایک ٹی وی چینل پہ کوئی بریگیڈیر دفاعی تجزیہ نگار نے تقریبا چیختے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے ایک مہینے سے ملک میں جو افراتفری مچا رکھی ہے، پکڑو مارو اور تباہ کرو، یہ اسد درانی کے سوچ کی تیسری برانڈ ہے۔
ملک میں ایک چوتھی برانڈ بھی موجود ہے جو بڑے فخر سے کہتی ہےکہ مشرقی پاکستان ایک ہزار میل دور واقعہ تھا جہاں پر فوج ک ٹینک نہیں جا سکتے تھےجبکہ یہاں پر یہ مشکلات نہیں ہیں۔ یہی وہ ساری بنیادی سوچ ہے جس کے تحت بلوچستان کے مسئلے کو پچھلے 76 سال سے حل کیا جا رہا ہے۔ ان تمام سوچوں کا شاخسانہ بنیادی طور پر، عسکری طاقتور حلقوں کا وہ گمراہ کن خیال تھا کہ بلوچوں کو جو کہ صرف چند لاکھ نفوس پہ مشتمل ہے، ان کو طاقت کے بل بوتے پہ ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اور یہی وہ سوچ تھی جس کے تحت نواب نوروز خان کے خاندان کے سات افراد کو ایک رات میں پھانسی پہ چڑھایا گیا۔
میں ایک انسان ہوں اور بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں۔ میں نے ہمیشہ تقریروں میں کہا ہے کہ میں اس پنجابی خاتون کو ساری زندگی نہیں بھول سکتا جس نے غربت کی وجہ سے اپنے خوبصورت دو بچوں کو اپنے بازوؤں میں لے کر نہر میں ڈوب کر خودکشی کی۔ اور یہ بھی اسی ملک کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے غربت کی وجہ سے اپنے چار سال کے بچے سے لے کے 12 سال کے بچوں کے ساتھ بیوی کو ذبح کر کے ہلاک کیا۔ یہ ملک اب صرف امیروں کی جنت ہے۔ جس میں 11 کروڑ سے زیادہ لوگ غربت اور افلاس کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔
راڑا شام میں 23 افراد کو قتل کرنے کا واقعہ یقیناً بڑا افسوس ناک ہے مگر یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ اس کی شروعات محسن نقوی جیسے شخص کے بے ہودہ خیالات کے حامل لوگوں نے کی ہے، جو ایک بڑے عرصے تک بلوچ لڑکوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتے رہے۔ کسی بھی آپریشن کے نام سے ہیلی کاپٹر سے بے تحاشہ فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ کئی کئی سال سے سینکڑوں بلوچ لڑکوں کو جبری طور پہ اغوا کر کے لاپتہ کیا ہوا ہے۔
حیات بلوچ کو اس کی ماں کے سامنے گولیاں کے بوچھاڑ سے قتل کیا گیا۔ بلوچستان سینکڑوں سال سے ایک پرامن علاقہ رہا ہے، جس میں پٹھان، ہزارہ، پنجابی، سندھی،، سرائیکی ہندو اور بلوچ بھائیوں کی طرح رہتے آ رہے ہیں۔ بلوچستان جیسے پرامن علاقے میں جنہوں نے یہ خون خرابے کا گیم شروع کیا ہے، اسے ختم کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کے اوپر ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ مکمل طور پہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کو بیٹھ کر حل کرنا ہم سب لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر جن کے پاس طاقت ہے، یہ فرض بھی انہی کا بنتا ہے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)