’زندگی کے زنداں میں میری قید جاری ہے‘

فرح نے ایک مضمون میں کامران کی بیماری، اُس کی شاعری کا مجموعہ ’وحشت ہی سہی‘ کی اشاعت کا معاملہ، پردیس اور دو چھوٹے بیٹوں کا خیال، کاروبار کو دیکھنا، ڈاکٹروں کا مایوس کُن جواب اور فرح کا دیوانہ وار نئے ڈاکٹر کی تلاش میں مارے مارے پھرنا، کامران کو حوصلہ دینا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ چراغِ سحری ہے اور موت سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے، نجانے یہ مضمون لکھنے کا حوصلہ فرح میں کہاں سے آیا تھا۔

فرح کا کہنا ہے ”میں کالج کے زمانے سے شاعری نہیں کرتی تھی، نہ ہی بچپن سے کتابیں پڑھنے کا جنون تھا“۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ کامران کے چلے جانے کے صرف دو سال بعد فرح نے نہ صرف شاعری شروع کی بلکہ بہت کم عرصے میں نیو یارک کے ادبی حلقوں میں عزت و تکریم سے دیکھی جانے لگیں۔ فرح نے ملن اور وچھوڑے کی شاعری کی ہے، اس کی شاعری کا زیادہ حصہ ہجر پہ مبنی ہے اور بہت متاثر کن ہے۔ ایسا نہیں کہ ’سرخ شام کا دیا‘ کی شاعرہ نے محض ہجر و وصال کی ہی شاعری کی ہے۔ شاعر یا کوئی بھی فنکار انتہائی حسّاس ہوتا ہے۔ اس کا مشاہدہ عام آدمی سے مختلف ہوتا ہے۔فرح، جو شادی کے بعد ایک کھلنڈری لڑکی نظر آئی تھی، جو بلند قہقہے بکھیرتی تھی،نے اپنی شاعری میں حسّاس دل و ذہن رکھنے والی ایک عورت سے متعارف کروایا ہے۔

پنجابی زبان و ادب کے شیکسپیئرسید وار ث شاہ نے اپنی شہرہ آفاق تخلیق ’ہیر‘ کا آغاز حمد کے چار اشعار سے کیا ہے۔ ایک شعر ہے؛

 پہلے آپ ہے رب نے عشق کیتا   معشوق ہے نبی رسول میاں

دنیا کی ہر زبان کا ادب حُسن و عشق، پیار و محبت، فطرت کی شاعری، انسانی محرومیوں اور انقلاب کی شاعری کے گرد گھومتا ہے۔فرح نے اپنے محبوب کے وصال کی لذت اور ہجر کے کرب ہی کی شاعری پہ اکتفا نہیں کیا، اس نے ایک پختہ کار شاعرہ ہونے کے اعتبار سے انسانی محرومی کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے۔ وہ انسان کی حالتِ زار کو دیکھتی ہے تو بلبلا اُٹھتی ہے:

بزمِ عالم کے دروبام ہوں یا گھر میرا

دُکھ کے اک گہرے اندھیرے میں گِھرے

مجھ کو بے یارو مدد گار نظر آتے ہیں

مفلسی بھوک کی بوسیدہ سی چادر اوڑھے

در بدر شہرِ نگاراں میں نظر آتی ہے

کتنی آنکھیں جو حسین خواب لئے پھرتی تھیں

اب وہی کاسہئ فریاد لیے بیٹھی ہیں

میرے کانوں میں بس آہوں کی صدا آتی ہے

(نظم ’کشمکش  -  سالِ نو کی آمد پر)

فرح کی شاعری ذات کے دُکھ تک ہی محدود نہیں ہے گو محبوب شوہر کے آنکھیں موندتے ہی غم کے پہاڑ ٹوٹے، اپنوں نے کچوکے لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ایسے میں ذاتی دکھ کا اظہار کچھ یوں ہوا ہے؛

عمر  کی  سُو ئی  عین  وقت  ِ عروج

چلتے   چلتے   ٹھہر  گئی   آخر

زندگی  سے  مقابلے  کی  سکت

حوصلہ  ہار  کر  گئی  آخر

روشنی  تھک  کے  بامِ  امبر  سے

تیرگی   میں   اُتر  گئی  آخر

شاعری کیا ہے!  تخیل کی موزوں الفاظ میں پیشکش، جذبات و احساسات کے ساتھ قافیہ و ردیف کی بندش، معنی کی وسعت،  بلندخیالی اور اندازِ بیان شعر کو جمالیا ت کا  وجود بخشتا ہے۔ ’سرخ شام کا دیا‘  میں شاعری کے یہ لوازمات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ فرح نے شاعری میں بعض دلچسپ و بامعنی تراکیب سے بات کو دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے۔مثال کے طور پرنخلِ ہجر، زخمِ ہجر، ہجرِ غم، دشتِ جفا، دشتِ جاں، قبائے سکوت اور چادرِ شب وغیرہ۔ لگتا ہے شاعرہ نے شعوری طور سے غم کو شاعری میں سمویا ہے مگر اب یہ انداز لا شعوری طور پہ خیا لات میں در آتا ہے

کہیں  بات  درد  و  الم کی ہو  مری  داستانِ  الم  سُنا

کہیں گھر اُجڑنے کا ذکر ہو  مرے آشیانے کی  بات کر۔۔۔۔۔۔

یانظم ’ شب خون‘ کا یہ بند؛

دل کے دروازے پر میں نے قفل لگا کر

آنکھوں کے پردوں کو گرایا

لیکن پھر بھی نیند نہ آئی

اُس کی یاد  تو خاموشی سے

دل کے تہہ خانے کا زینہ اُتر چکی تھی

ایسے بہت سے اشعار ’سرخ شام کا دیا‘  میں ہیں۔وارداتِ قلبی کا اظہار اس شعری مجموعے میں بار ہا ہوا ہے۔ جسے پڑھنے سے ایک حسّاس دل قاری اُس کیفیت کا شکار ہو جا تا ہے جس کے بارے میں میر تقی میر نے کہا تھا؛      

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے

درد  و  غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا

میں نے شروع میں کہیں فرح کے اس مضمون کا ذکر کیا ہے جس میں کامران کی جان لیوا بیماری کا تذکرہ ہوا ہے۔ یہ شاعری پڑھنے سے یوں لگتا ہے جیسے یہ ابھی کی بات ہو، آفاقی شاعری کا کمال یہ بھی ہوتا ہے کہ پڑھنے والا خود کو اُس کیفیت میں موجود پائے جس  کیفیت سے شاعر گذرا ہے:

ہجر نے سر سے آنچل کھینچا، من آنگن میں شام ہوئی

وصل کا سورج جب ڈوبا تھا اُس کی خالی آنکھوں میں

کربِ جدائی،  ہارتی ہمت، خوف، اندھیرا،  تنہائی

مت پوچھو کیا کیا دیکھا تھا اُس کی خالی آنکھوں میں

وصل کے لمحے تو مختصر ہی ہوا کرتے ہیں۔ شاعر ان لمحوں کو غیر فانی بنانے پر قدرت رکھتا ہے۔فرح نے بھی وصل کے ان لمحوں کو حرفوں کے کیمرے میں محفوظ کیا ہے؛

وہ دیکھے تو آ جاتی ہے

جوبن  پر  میری  رعنائی

جامِ اُلفت پلائے جا  ہمدم

عشق میں تشنگی نہیں جاتی

وصل اور ہجر کی وہ پہلی شب 

ہائے کیا رات تھی قیامت کی

ذرا سی دیرمیں َ ان سے ملی تو اِس دل کو

قرار ہے مگر ایسا قرار تھوڑی ہے

ہمیں دشوار رستوں پر

ہمیشہ ساتھ چلنے کی

کوئی صورت نکل آتی

زرا دیر اور رک جاتے!

وصل کی بیباکی ملاحظہ ہو؛

لب کشائی کی اجازت نہیں دیتا لیکن

ثبت کتنے وہ نشاں ہونٹوں پہ کر جاتا ہے

پیار، محبت، عشق، وفا ہی  ’سرخ شام کا دیا‘  کی شاعرہ کا موضوع نہیں رہا۔ اُن کی نظر سماج کے پچھڑے ہوئے طبقات پر بھی ہے اور اِن کے دکھوں پر بھی ہے۔ یہ یقینا کامران کی قربت کا اثر ہے۔بحر حال اس کا اظہار کس مؤثر انداز میں کیا ہے

خون اور پسینے سے فصل یہ اُگاتے ہیں

ہاریوں کی محنت کو بے لگان رہنے دو

سیاست اور سیاسی رہنماؤں کا معیار اُن کے نزدیک بس یہی ہے؛

اے خدا ہم کو ایسے رہبر دے

جیسے سالار تھے بہتّر کے

حضرت علی (ع) کا قول ہے کہ اپنے بچوں کی پرورش اپنے وقت کے مطابق نہیں بلکہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق کرو۔چنانچہ اُن کی نگاہ آنے والے وقت پر بھی ہے وہ سمجھتی ہیں کہ بدلے ہوئے وقت کے پیشِ نظر پرانے نظریات آنے والے وقت کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے چنانچہ کہتی ہیں؛

اپنے بچوں کوتباہی سے بچانے کے لئے       

اب نصابوں میں نیا درس پڑھانا ہو گا

معیشت اور معاش انسان کا بنیادی مسئلہ ہے دیکھئے کس طور اس حقیقت کا اظہار ہوا ہے؛

اُلجھا کے ایک عمر رکھا روزگار نے   فرصت ملی تھی اب تو بڑھاپے نے آلیا

مرد کے سماج  اور جاگیردارانہ اقدار میں عورت کو انسان ہونے کا حق بھی نہیں دیا جاتا، دیکھئے اس خیال کو کس مؤثر طور پر باندھا ہے:

عزت نہیں کرتامری چادر کی مگر خود  

گرنے نہیں دیتا کبھی دستار کو سر سے

اسی خیال پر مبنی ایک نظم ”بے جوڑ بندھن“ کی آخری لائنیں:

تو ٹھہرا

گاؤں کا وڈیرا

عورت تیرے پاؤں کی جوتی

ہم دونوں میں کیسے بنتی؟

ہمارے ہاں ابھی تک عورت کی حیثیت تھرڈ سٹیزن جیسی ہے۔ عورت کو مرد کے برابر سمجھا جائے یہ لڑائی جاری ہے بہت سے باشعور مرد بھی اس خیال کو دل و جاں سے قبول نہیں کرتے اور بہت سی عورتیں بھی شوہر کو ’سر کا سائیں‘ سمجھتے ہوئے مرد کو وہی رتبہ دیتی ہیں جس سے خود عورت کا وقار خاک نشیں ہو جاتا ہے۔ اس ابہام کو شاعرہ نے اپنی ایک غزل میں خوب بیباکی سے بیان کیا ہے۔ پوری غزل ہی لکھنے کے لائق ہے مگر میں یہاں دو اشعار لکھنا چاہوں گا؛

مزاج دار ہوں اک آن بان رکھتی ہوں

میں اپنی ذات کو شایانِ شا ن رکھتی ہوں

میں اس زمانے کی اک خود شناس عورت ہوں

شعور رکھتی ہوں شعلہ زبان رکھتی ہوں

گو کہ  ’سرخ شام کا دیا‘ کی زیادہ شاعری اندروں بینی اور ذاتی اظہار کا قصہ ہے مگر ایسے شعر بھی ہیں جو بیرونِ ذات اور اپنے عہد کے انسانوں کے داخلی و خارجی، نفسیاتی و روحانی مسائل کے مشاہدے کی چغلی کھاتے دِکھتے ہیں۔ ایسے اشعار میں شاعرہ کا لہجہ کبھی چیخ بنتا نظر آتا ہے تو کبھی طنز کا تیر بن جاتا ہے۔ اردو زبان میں مزاحمتی شاعری کرنے والی بہت سی شاعرات نے اپنی شاعری کے آغاز میں رومانوی شاعری کی ہے مگر جلد ہی اُن کی توجہ انسانوں کے عمومی دُکھوں، ظلم و جبر، سرمایہ داری کے غیر منصفانہ نظام کی تباہ کاریوں، ریاست کے جبر وغیرہ جیسے مسائل پر پڑتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہی شاعرات کی نرم و نازک شاعری کا رُخ مزاحمت کے تندو تیز قلم میں بدل جاتا ہے۔ ان شاعرات کی فہرست طویل ہے چند نام یہ ہیں؛ ادا جعفری،  پروین فنا سیّد،  زہرہ نگاہ،  پروین شاکر،  شبنم شکیل،  ثمینہ راجا،  فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید۔ فرح کامران کے ہاں بھی یہ رحجان ملتا ہے۔ اپنے پہلے شعری مجموعے میں ایسے شعر کہے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے فرح کامران اپنے دوسرے شعری مجموعے میں اسی صف میں کھڑی نظر آئیں گی جس کا ذکر اُوپر ہوا ہے۔