پاکستان میں ہلال امتیاز پانے والا ناروے میں مطلوب ملزم
- تحریر فاروق سلہریا
- جمعہ 30 / اگست / 2024
اس سال حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستانی نژاد نارویجن شہری عمر فاروق ظہور کو ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیالکوٹ سے خاندانی تعلق رکھنے والےعمر فاروق ظہور کئی برسوں سے غبن کے الزام میں مطلوب ہیں ۔
اُنہوں نے 18 سال کی عمر میں اوسلو میں اپنی ٹریول ایجنسی شروع کی۔ 2000 میں ناروے کے سب سے بڑے اخبار وے گے نے انکشاف کیا کہ عمر فاروق نے اپنی ہی ٹریول ایجنسی کے ذریعے 15 ملین کرونر سے زیادہ مالیت کے ہوائی ٹکٹوں کا غبن کیا۔ ویکیپیڈیا کے مطابق 2003 میں نیوزی لینڈ کے ایک باشندے کے ساتھ مل کر عمر فاروق نے سوئٹزرلینڈ میں ایک جعلی بینک شروع کیا۔ اس جعلی بینک کے ذریعے اُنہوں نے27 افراد کے ساتھ 120 ملین کرونر کا فراڈ کیا اس لئے وہ انٹرپول کو مطلوب ہیں۔
2006 میں عمر فاروق نے پاکستانی ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا سے شادی کی۔ ان کی دو جڑواں بیٹیاں پیدا ہیں۔ 2009 میں جب شادی ٹوٹ گئی تو جڑواں بچوں کو ماں کی تحویل میں دے دیا گیا اور اس ڈر سے کہ عمر فاروق بیٹیوں کو پاکستان سے باہر لے جائے گا، بچوں کو ایسے لوگوں کی فہرست میں ڈال دیا گیا جو ملک چھوڑ نہیں سکتے۔ عمر فاروق جعلی پاسپورٹ کا استعمال کرکے بیٹیوں کو پاکستان سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ بہرحال بیٹیوں کی تحویل کے حقوق کے سلسلے میں ایک طویل قانونی جنگ جاری رہی۔
ناروے پولیس کے مطابق 2010 میں عمر فاروق کے بھائی، عثمان ظہور نے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر 63 ملین کرونر سے زیادہ کا فراڈ کیا۔ یہ رقم اوسلو میں نورڈیا بینک کی ایک برانچ کے ذریعے جعلی پاور آف اٹارنی کا استعمال کرتے ہوئے حاصل کر کے اسے دبئی منتقل کیا گیا جہاں یہ رقم عمر فاروق کے کنٹرول میں تھی۔ اس واردات میں پاکستانی نژاد سونیا رشید بھی مبینہ طور پر شامل تھیں اور بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خود دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ہیں۔
2015 میں دو نارویجن تحقیقاتی صحافیوں نے Kuppet کے نام سے ایک دستاویزی کتاب لکھی۔ مصنفین نے کتاب میں عمر فاروق کے خاندان کو ناروے کا سب سے طاقتور مافیا خاندان قرار دیاہے۔ ناروے کے روزنامہ وے گے نے 2021 میں انکشاف کیا کہ عمر فاروق اور دبئی کے ایک شیخ نے مل کے افریقہ کے دو ممالک ، گھانا اور گیانا کو روسی کرونا ویکسین فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کمائی۔ جواب میں عمر فاروق نے وے گے کو نسل پرست اخبار قرار دیا۔
(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)