ہمارے لالچی قومی ہیروز
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 30 / اگست / 2024
درویش اگر یہ کہے کہ ہم جنونی و غیر متوازن لوگ ہیں تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ہماری پون صدی کی تاریخ اسی اپروچ سے بھری پڑی ہے۔
بلکہ پارٹیشن سے قبل بھی اس نوع کی ہوشربا حرکات بطور نمونہ پیش کی جا سکتی ہیں۔ آخر ہم لوگ اپنا ہیرو ہمیشہ کسی گئے گزرے چھنڈے پھوکے جنونیت سے لبریز بھڑکاؤ بھاشن دینے والے اقتدار، کرسی یا دولت کے بدترین حریص و لالچی شخص کو ہی کیوں بناتے ہیں؟ اسی لیے نا کہ انسان جیسا ہوتا ہے ویسوں کو ہی پسند کرتا ہے۔ مریدین کی جہالت کو دیکھ کر کسی بھی پیر کے مقام محمود کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔ جیسادودھ ہوگا ویسی ہی بلائی آئے گی۔ بلکہ زیادہ واضح الفاظ میں جتنی پتلی کچی لسی ہوگی ویسا ہی بد ذائقہ دہی جمے گا اور کچھ اسی طرح کا مکھن برآمد ہوگا
ہمارے وہ تمام کھلاڑی جو ملک کے لیے اعزاز حاصل کرتے ہیں بلاشبہ وہ سب ہمارے ہیرو ہیں جن کی قدر افزائی ہونی چاہیے۔ لیکن ملک کو نیک نامی دلانے والے محض کھلاڑی ہی تو نہیں ہوتے، جو لوگ کھیل کود سے کہیں اوپر اٹھ کر علم کے کسی شعبہ میں چاہے وہ طب یا معیشت سے متعلقہ ہو یا عمرانیات و لٹریچر کے حوالے سے یا کوئی کسی پروفیشن یا ہنر میں یکتا ہو تو اس کی بھی قدر افزائی ہونی چاہیے۔ ایسا قومی ہیرو کھیل والے ہیرو سے کسی طرح کم نہ گرداناجائے۔ کوئی چیز جتنی نایاب ہوتی ہے اس کی قدر و قیمت بھی اتنی ہی انمول ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل اگر کسی چیز کی بہتات ہو تو اس کی ویلیو اتنی ہی کم ہو جاۓ گی۔ مثال کے طور پر ہر سال کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں مختلف ممالک درجنوں نہیں بیسیوں گولڈ میڈل حاصل کرتے ہیں۔ صرف امریکی کھلاڑی ہی سو ڈیڑ ھ سو ایسے تمغے حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکہ کے بعد چائنہ، رشیا، آسٹریلیا جاپان انڈیا اور بہت سے یورپی ممالک ہر سال ایسے بیسیوں بلکہ سینکڑوں گولڈ میڈل حاصل کر لیتے ہیں۔
ہم نے کبھی سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو ہر سال اس کرۂ ارضی کے سب سے بڑے اعزاز نوبل انعام کے حقدار قرار پاتے ہیں؟ ظاہر ہے بہت تھوڑے لوگ ملیں گے جو اس مقام عظمت کو پہنچتے ہیں۔ ہمارے اسی متحدہ ہندوستان سے کتنے لوگ تھے جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا؟ حتی کہ ہمارا اتنا بڑا شاعرِ مشرق حکیم الامت اس کے حصول سے قاصر رہا۔ جبکہ ان کے ہم عصر معروف بنگالی شاعر دانا و مدبر انسان رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی عظیم الشان جدوجہد اور خدمات سے یہ فخر و اعزاز حاصل کر لیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہماری دو باصلاحیت اور پیاری پاکستانی شخصیات ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسف زئی نے اقوام عالم میں اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہوئے یہ عظمت اپنے ہم وطنوں کو دلائی۔ لیکن بدلے میں ہم لوگوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا یہ ایک الگ داستان الم ہے۔
ہمارا میڈیا کھیل کود کے جتنے چاہے قصیدے بیان کر لے اور علم و دانش یا ادب و ہنر کی اہمیت کوجتنا چاہے نظر انداز کرے مگر یہ سچائی کیا اپنی جگہ اٹل حقیقت نہیں ہے کہ کوئی بھی مہذب قوم یا فرد اپنے نونہالوں کو علم و دانش سے ہٹا کر کھیل کود میں نہیں لگانا چاہے گا۔ مثبت سرگرمیوں اور اچھی صحت کے لیے کھیلوں کی اہمیت ایک حد تک ضرور ہے، اس سے آگے قومی ترقی کی خاطر ہماری ضرورت مختلف شعبہ ہائے حیات کے ماہرین کی ہے علم و ہنر میں مسابقت کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ علم و تحقیق کی ہم کتنی قدر افزائی کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر ہمارے ڈاکٹر اشتیاق احمد ایک ریسرچ سکالر ہیں جنہوں نے عرق ریزی، برسوں کی محنت اور لگن سے تحقیقی شاہکار تیار کیے۔ پنجاب کے بٹوارے اور پنجابیوں کے دکھوں پر بھی اعداد و شمار کے ساتھ بھرپور کام پیش کیا ہے۔ ان کے لیے تو مریم نواز، اس کے چاچو یا زرداری جیسوں نے کبھی 10کروڑ چھوڑ دس لاکھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ شاید ہمارا میڈیا اس نو ع کی جدوجہد کو جدوجہد ہی نہیں مانتا۔ سارا زور جیولین اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کی سچی جھوٹی شانیں بیان کرنے پر ہے۔ افسوس یہاں نوبل انعام حاصل کرنے یا علمی و ادبی خدمات سر انجام دینے والے تو ہرگز ہمارے قومی ہیروز نہیں ہیں۔ البتہ کرکٹ کی بال یا جیولین پھینکنے والے یا پھر قوم کو اقوام دیگر سے نفرت کی کھائی میں پھینکنے والے ہمارے قومی ہیروز ہیں۔ اس سے آخر ہم اپنی نئی نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ یہ کہ پیارے بچو تمہیں پڑھائی لکھائی یا خدمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مدرٹریسا یا عبدالستار ایدھی تمہارے رول ماڈل نہیں ہیں۔ بس کرکٹ کھیلا کرو اور جیولین پھینکا کرو، چاہے درختوں کی ٹہنیاں ہی توڑ نی پڑیں، قوم کے ہیرو بن جاؤ گے۔
اے غریب قوم کے امیر لیڈرو! سیاست دانو! اور صحافیو کچھ خدا کا خوف کرو۔ تم اپنے نونہالوں کو کیا سبق سیکھا رہے ہو؟ درویش کھیلوں کا قدردان ہے لیکن خدارا سلاد یا چٹنی کو روٹی کا نعم البدل بنا کر پیش نہ کرو، جس کی جو اہمیت بنتی ہے وہی رہنے دو۔ اور پھر ہمارے کھلاڑیوں کا جو ذہنی معیار ہوتا ہے خدا کے واسطے اس کا تقابل علم و دانش سے نہ کرو۔ کسی نوبل انعام یافتہ کو اونچے عہدے پر بٹھانا تو سمجھ میں آتا ہے حالانکہ اس کی بھی متعلقہ فیلڈ میں مہارت دیکھی جانی چاہیے۔ مگر کسی کھلاڑی کو قومی قیادت پر فائز کرنے کا سوچنا یا یہ خیال کرنا کہ کھلاڑی صاحب اپنے بھاشن میں نہ جانےعلم و عرفان اور شعورو تدبر کے کون سے موتی بکھیریں گے، سوائے جہالت کے کچھ نہیں۔ اگر ہمارے ایک جیولین تھرو والے ارشد ندیم نے طلائی تمغہ لیا ہے تو کیا پچھلے برس انڈین کھلاڑی نیراج چوپڑا نے گولڈ میڈل کا یہی اعزاز حاصل نہیں کیا تھا؟ اگر ہمارے کسی کرکٹر نے ورلڈ کپ جیتا تھا تو کیا انڈین کرکٹرز نے ورلڈ کپ نہیں جیتے۔ آخر ہماری طرح وہ لوگ کیوں باولے نہیں ہو گئے؟ کبھی موقع ملے تو ان انڈین کھلاڑیوں کے انٹرویوز سن لیں کہ کس قدر معیاری نپی تلی عقل و شعور والی باتیں سننے کو ملیں گی۔ اور ان ہمارے والوں کی بونگیاں سنتے ہوئے شرم آتی ہے۔
ایک لالچی کھلاڑی عہدے کے حصول کی خواہش میں پورا ملک برباد کروا دینے پر تلا بیٹھا ہے جبکہ دوسرا نیا قومی ہیرو کوئی شرمندگی محسوس کیے بغیر میڈیا کے سامنے اپنے سسر پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اس کی ڈیڑھ مربع زمین ہے لیکن مجھے ایک بھینس پر ٹرخا دیا ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ اپنی پانچ ایکڑ زمین میرے نام لگوا دیتا۔ کیسے لالچی لوگ ہیں یہاں؟ ارے احمق جس نے اپنے جگر کا ٹکڑا اپنی پیاری بیٹی تجھے سونپ دی، شرم نہیں آتی اس سے مزید کچھ مانگتے ہوئے؟ ساتھ ہی کہہ رہے ہو کہ مجھے زندگی میں کبھی سچی محبت نہیں ملی۔ میں اس کی تلاش میں ہوں۔ دو بچوں کا باپ بن کر کسی بھی شخص کو کیا ایسی باتیں زیب دیتی ہیں؟ کیا تمہارے بال بچے تمہاری شریک حیات بیوی اور پھر تمہاری زندہ و سلامت ماں، کیا یہ محبتیں تمہاری سچی محبت نہیں ہیں؟
مہنگائی اور غربت کی ماری پریشان حال قوم کے ٹیکسز سے 40 کروڑ کے انعامات، ہلال امتیاز اور اتنی زیادہ مہنگی گاڑیاں، ناقابل فہم ہیں۔ اس غیر متوازن رویے سے دیگر اہل مگر نظر انداز کیے گئے کھلاڑیوں کو کیاسخت ذہنی اذیت نہیں پہنچے گی؟ مغرب میں کسی کو اتنا ملتا تو اس نے دوتہائی کسی رفاہی و خیراتی ادارے کو وقف کر دینا تھا۔ جبکہ ہمارے لوگ تو وقف کی رقوم بھی کھا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلائی مشینوں سے اربوں کماۓ ہیں۔ درویش کی نظر میں اس کھلاڑی کیلیے 40 لاکھ کے انعامات بھی زیادہ تھے۔ اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کی طرح بانٹنے کے بعد بھی لالچ کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو رہی۔ کہاں کا انصاف ہے یہ کہ لیسکو اپنے رولز کو مروڑ کر ایک خالص انپڑھ کو اٹھارویں سے بڑھا کر 19واں گریڈ دے۔ حکومتی و صحافتی حلقوں میں کوئی ہے جو ایسی جنونی و غیر متوازن ذہنیت کے آگے بند باندھے۔
حد ہوتی ہے یار لوٹ مار کی بھی۔ یہاں لوگ بجلی کے بلوں مہنگائی کی اذیتوں سے مر رہے ہیں۔ 25 کروڑ عوام بے یارو مددگار ہیں غربت کی وجہ سے ہمارے ڈھائی کروڑ بچے سکولوں میں جانے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف ڈرامے باز لیڈر دیالو بنے کروڑوں کی پبلک منی کھیل کود پر اندھے کی ریوڑیوں یا مال مفت دل بے رحم کی طرح اڑا رہے ہیں۔