غزہ سے ایک امریکی سمیت چھ یرغمالوں کی لاشیں برآمد
اسرائیل کو جنوبی غزہ میں واقع سرنگ سے چھ یرغمالوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ہی ہلاک کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے اتوار کو بتایا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اسرائیل کی فوج کے اہلکاروں کے پہنچنے سے کچھ دیر قبل ہی ان یرغمالوں کو حماس نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ کچھ دن قبل جنوبی اسرائیل کی بدو برادری سے تعلق رکھنے والے قائد فرحان القاضی کو اس مقام سے ایک کلو میٹر دور سے بازیاب کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق کارمل گاٹ، ہرش گولڈ برگ پولن، ایڈن یروشلمی، الیگزینڈر لوبانوو، الموگ سروسی اور اوری دانینو کی لاشیں اسرائیل منتقل کر دی گئی ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان چھ ہلاک ہونے والے یرغمالوں میں امریکی گولڈ برگ پولن بھی شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے ان ہلاکتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
غزہ میں چھ اسرائیلی یرغمالوں کی ہلاکت پر برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے لیے یہ خبر شدید صدمے کا باعث ہے۔ انہوں نے یرغمالوں کے قتل کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربناک صورت حال ختم کرنے کے لیے حماس فوری طور پر دیگر یرغمالوں کو رہا کرے اور تمام فریقین جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کریں۔
ادھر اسرائیل کی مرکزی لیبر یونین نے حکومت پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے پیر کو عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف حماس اور اس کے عسکری ونگ نے اسرائیل کے الزامات پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا ہے۔ خیال رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق پچھلے سال سات اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے جنگ میں اب تک 40 ہزار 690 فلسطینی ہلاک اور 94 ہزار 60 زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اس وقت شروع ہوئی جب فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے اسرائیل پر دہشت گرد حملہ کیا تھا اور 12 سو افراد کو ہلاک جبکہ لگ بھگ 250 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔