دفاعی شعبے کے آڈٹ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

  • سوموار 02 / ستمبر / 2024

آڈیٹر جنرل آف پاکستان  نے دفاعی سروسز کے مختلف شعبوں میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، غیر شفاف خریداریوں اور غیر مجاز اخراجات کو اجاگر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اندرونی کنٹرول کو بہتر بنانے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے انکوائری شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آڈٹ سال 2024-2023 کے لیے ڈیفنس سروسز کے اکاؤنٹس پر اپنی آڈٹ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے 300 سے زائد صفحات پر مشتمل آڈٹ اعتراضات شائع کیے۔ جن میں عدم وصولی، زائد اور پیشگی ادائیگی، خریداری سے متعلق بے ضابطگیاں، ریاست کو ہونے والے نقصانات اور ریکارڈ کی عدم فراہمی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع کو ایک سنگل لائن بجٹ گرانٹ ملتی ہے جو وزارت دفاعی پیداوار، سروسز ہیڈ کوارٹرز، انٹر سروسز آرگنائزیشنز اور اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن میں تقسیم کی جاتی ہے۔ وزارت دفاع کے انتظامی کنٹرول کے تحت مسلح افواج جن میں فوج، بحریہ اور فضائیہ شامل ہیں، کا بنیادی کام ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کرنا اور ضرورت پڑنے پر سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔

آڈٹ میں 566.29 ارب روپے کے اخراجات کا احاطہ کیا گیا جس میں مالی سال 23-2022 کے آڈٹ کے دوسرے مرحلے کے دوران 335.63 ارب روپے اور مالی سال 24-2023 آڈٹ کے پہلے مرحلے میں 230.66 ارب روپے شامل ہیں۔ آڈٹ نے دفاعی خدمات کے ضوابط کی عدم تعمیل کی نشاندہی کی جس میں رننگ اکاؤنٹ ریسیٹس  کے ذریعے کام کی تکمیل سے قبل پیشگی ادائیگیوں، مالی اختیارات کی تقسیم، کرایہ اور متعلقہ چارجز کی عدم وصولی، قابل اطلاق ٹیکسوں کی عدم کٹوتی، پبلک پروکیورمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی، اے ون زمین کی پالیسی کی عدم تعمیل اور غیر مجاز کام کی انجام دہی جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دفاعی سروسز کو مالی سال 2022-23 کے اصل بجٹ کے طور پر 15.63 کھرب روپے مختص کیے گئے تھے، جسے بعد میں سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے بڑھا کر 15.92 کھرب روپے کر دیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں گزشتہ 40 سال کے دوران آڈٹ اعتراضات کے ساتھ دفاعی فارمیشنز کی ناقص تعمیل کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کورس کو درست کرنے اور اکاؤنٹس کو ریگولرائز کرنے کی کوششیں ناکافی ہیں۔

1985 سے لے کر اب تک کا ٹیبل شدہ ریکارڈ دیتے ہوئے آڈیٹر جنرل نے نوٹ کیا کہ وزارت دفاع نے 1974 میں سے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 659 ہدایات کی تعمیل کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی اے سی کی ہدایات کی تعمیل بہت سست ہے۔ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو پی اے سی کی ہدایات کی تعمیل میں تیزی لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔

وزارت دفاعی پیداوار کی کارکردگی بھی کوئی بہتر نہیں کیونکہ اس نے پی اے سی کی 372 میں سے صرف 109 ہدایات کی تعمیل کی۔ رپورٹ میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر (متعلقہ وزارت کے وفاقی سیکریٹری) کو پی اے سی کی ہدایات کی تعمیل میں تیزی لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ یہ عوامی پیسے سے متعلق ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ آرمی فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران ریکارڈ میں دیکھا گیا ہے کہ خریداری متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی، بعض صورتوں میں خریداری اور کنٹریکٹ کے کاموں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ایک ہی دن پسندیدہ ٹھیکیداروں یا سپلائرز کو دے دیا گیا تاکہ شفاف بولی کو نظرانداز کیا جا سکے۔

کچھ معاملات میں آڈیٹرز کی پوچھ گچھ پر انتظامیہ نے رپورٹ کیا کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ کے ذریعے اشتہارات دیے گئے تھے جبکہ اخبارات میں اشتہارات نہیں دیے گئے کیونکہ دفاعی کام خفیہ نوعیت کا تھا۔