کوئی تو ہو جو پورا سچ بولے!
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 03 / ستمبر / 2024
پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس کو قیادت وہ ملتی رہی جو یا تو آمر تھے یا آمرانہ سوچ کے سیاستدان تھے، جنہوں نے کبھی اپنی جماعتوں کو جمہوریت پر استوار کیا نہ جماعتوں کے اندر باقاعدگی سے انتخابات کرائے۔
تمام حکمرانوں میں جو چیز مشترک رہی وہ خوشامد پسندی ہے اور ہر دور میں خوشامدیوں کی بھی بہت بڑی تعداد میسر رہی ہے۔ ہر دور میں اعلی اور کلیدی عہدوں پر خوشامدی ہی فائز رہے ہیں جنہوں نے حکمرانوں کے قصیدے پڑھ کر خوب مزے لیے۔ کچھ خوشامدی تو ایسے بھی ہیں جو ہر حکمران کے ساتھ فٹ ہوتے رہے ہیں ان خوشامدیوں میں سیاستدان بھی ہیں، بیوروکریٹس بھی اور نام نہاد دانشور یا صحافی بھی۔ خوشامدی انسان کبھی پورا سچ نہیں بول یا لکھ سکتا۔ اس کا کام اپنے مالک کی تعریفیں کچھ اس انداز سے کرنا ہوتا ہے کہ مالک ہر وقت مسحور رہے اور اصل حالات سے دور رہے۔ خوشامد ایک ایسا نشہ ہے جو انسان کو مدہوش بھی کر دیتا ہے لیکن اسے پتا بھی نہیں لگنے دیتا کہ وہ نشے میں ہے۔
شہاب الدین شہاب اپنی مشہور تصنیف شہاب نامہ میں رقم طراز ہیں کہ جب جنرل یحی نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو اپنی سول بیوروکریسی کی پہلی میٹنگ میں گرجے اور کہا کہ خبردار کوئی میری خوشامد نہ کرے، میں صرف آپ لوگوں کی کارکردگی دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کی تقریر کے دوران سارے وفاقی سیکرٹریز اور تمام بیوروکریٹس سہمے رہے۔ لیکن تقریر ختم ہوتے ہی ایک سیکرٹری صاحب نے کمال مہارت سے جنرل صاحب کی تعریف شروع کی تو اس کے ساتھ ہی جنرل صاحب کے چہرے کا رنگ بدلنا شروع ہوگیا۔ اور وہ خوش ہونے لگے جس کے بعد تمام افسران کے بھی دم میں دم آ گیا۔
خوشامد کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور ہر حکمران کے ساتھ درباری بھی آتے رہے
اگر ہم پاکستان کی سیاست میں اکیسویں صدی کے تمام حکومتی ترجمانوں اور مشیروں کا ایک نظر میں جائزہ لیں تو کیا کمال لوگ نظر آئیں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے کئی ترجمان ہر حکومت میں فٹ ہو جاتے ہیں اور جس منہ سے کسی حکمران کی تعریفیں کر کر کے اپنے منہ ٹیڑھے کر لیتے تھے، اس کے جاتے ہی دوسری حکومت میں شامل ہو کر اسی حکمران کے خلاف شکایات کی گٹھڑیاں کھول کر بولتے ان کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔ اب کوئی ان کی پہلی باتوں پر یقین کرے یا نئے انکشافات کو درست مانے؟ ایسے لگتا ہے کہ ان ترجمانوں کو کہیں سے تربیت دے کر پلانٹ کیا جاتا ہے۔
اب اس طرح کے ترجمانوں کی بات حکمران مانتے رہیں گے تو ملکی حالات کی سمت درست کیسے ہوگی؟ اس وقت جو ملک کے حالات ہیں ان میں کسی ایسے ترجمان، کسی ایسے دانشور، کسی ایسے مشیر کی ضرورت ہے جو حکمرانوں کو تاریخ یاد کروائے اور ملک میں افہام تفہیم کی طرف بڑھنے کا مشورہ دے۔ کوئی ایسا مشیر یا ترجمان ہو جو ماضی کی نہیں بلکہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی غلطیوں کی نشاندہی کرے۔ جو حکومت کو پارلیمانی اصولوں پر چلنے کا مشورہ دے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے اور عوام کو حقیقی ریلیف دلانے کی بات کرے۔
گزشتہ دنوں ن لیگ کے ایک دانشور سینیٹر نے فرمایا ہے کہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ part of the problem تھی اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ part of the solution ہے۔ اگر ہم عرفان صدیقی صاحب کی اس بات کو درست مان لیں تو پھر ہمیں 47 سے یہ حساب نکالنا پڑے گا اور فاطمہ جناح کے خلاف سازشوں، سقوط ڈھاکہ، بھٹو صاحب کے عدالتی قتل سمیت ان تمام زیادتیوں اور پاکستان کی تباہی کا کا ذمہ دار کس کس کو ٹھہرانا ہے۔ سوچنا پڑے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کس کس سیاستدان نے کب کب آمروں کے ساتھ مل کر جمہوریت کے خلاف سازشیں کیں اور ملکی ترقی کے پیہیوں کو توڑا ہے۔!
پاکستان کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے کسی کو تو سچ بولنا ہوگا، کسی کو تو سچ سننا ہوگا، کیا موجودہ اسٹیبلشمنٹ واقعی بگاڑ کو درست کرنے میں سنجیدہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ کیوں نہیں سیاست سے الگ ہو کر صرف ملکی سرحدوں تک محدود ہو جاتے؟ کیا اب یہ بات کسی سے پوشیدہ ہے کہ اس وقت ملک کا سارا انتظام اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہا ہے؟ اگر کوئی سچ بولنے کی جرات کر سکتا ہے تو چند وفاقی وزارتوں کا سوال ہی پوچھ لے کہ ان لوگوں کو وزارتیں کس کے ایما پر دی گئی ہیں؟ پارلیمانی نظام کے اندر تو صرف منتخب لوگوں کو ہی وزارتیں ملتی ہیں جن کو عوام نے منتخب کیا ہو، جن کا تعلق کسی جماعت سے ہو۔ اور وہ اس شعبے کا ماہر ہو جو وزارت اسے دی گئی ہو۔ جن ممالک کی اسٹیبلشمنٹ پارٹ آف دی پرابلم نہیں بلکہ پارٹ آف دی سلوشن ہے ان ممالک کے عوام کو اپنے سپہ سالار کے نام کا بھی پتا نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کسی کی مرغی کا چوزہ زخمی ہو جائے تو وہ بھی انصاف کی اپیل آرمی چیف صاحب سے کرتا ہے۔
اگر موجودہ اسٹیبلشمنٹ واقعی پارٹ آف دی سلوشن ہے تو فوری طور پر اعلان کریں کہ ملکی نظام چلانا سیاستدانوں کا کام ہے ہمارا کام سرحدوں کی حفاظت ہے۔ اور آج کے بعد ہماری کسی بھی خفیہ ایجنسی کے کسی بھی فرد کو سیاسی سرگرمیوں میں دیکھا جا سکے گا، نہ کسی فرد کو اٹھایا جائے گا۔ ہمارے لیے تمام جماعتیں برابر اور تمام سیاستدان قابل احترام ہیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ واقعی سیاستدانوں پر اعتماد کرتی ہے اور ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتی تو میرے خیال سے کسی وزیراعظم کے ساتھ کسی ملٹری سیکرٹری کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
نوٹ: میں وہی لکھتا ہوں جو میرے خیال میں ملکی مفاد میں ہو۔ میں کسی سیاستدان کے ساتھ ہوں نہ کسی کا مخالف ہوں فوج کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ مگر چاہتا ہوں کہ ہماری افواج بہادر، پیشہ ور اور سیاست سے پاک ہو۔ میری خواہش ہے کہ ملک کا بچہ بچہ فوج کی نہ صرف عزت کرے۔ بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوج کے شانہ بشانہ ہو۔