ہماری ترجیح: علم وتحقیق یا کھیل کود؟

بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا، خدا بخشے ہمارے ایک بزرگ دوست ارشاد احمد حقانی ہوا کرتے تھے جو جنگ میں ایسے ہی چھائے ہوئے تھے جیسے آج ہمارے محترم چوھدری سہیل وڑائچ۔ اس ایشو پر بحث ہو سکتی ہے کہ حقانی صاحب کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان کے تمام احباب نے کیوں آنکھیں موندلیں؟

ان کے اوپر کچھ لکھنا تو دور کی بات کبھی کسی نے بھولے سے تذکرہ تک نہیں کیا حالانکہ جب وہ جنگ ایڈیٹوریل پیج کے انچارج تھے تو لوگ ان کی شان میں قصیدے لکھا کرتے تھے۔ جنہیں وہ اکثر اپنے کالموں کی زینت بناتے۔ اس درویش نے بھی ان کے کئی انٹرویوز کیے جنہیں انہوں نے مابعد اپنے کالموں میں شائع فرمایا۔

ایک روز بابائے صحافت محترم الطاف حسن قریشی سے کہا کہ حقانی صاحب تو خود کو اس طرح پیش فرماتے ہیں جیسے عصر حاضر کے مجدد ہوں۔ قریشی صاحب اپنے مخصوص و منفرد انداز میں گویا ہوئے ’افضال ریحان صاحب آپ نے بڑی زیادتی فرما دی ہے، آپ نے حقانی صاحب کا مقام اتنا ہلکا کیوں کر دیا۔ آپ انہیں کم از کم بنی اسرائیل کی طرف بھیجے ہوؤں جتنا رتبہ تو عنایت فرما دیتے‘۔

کسی کو شکوہ شکایت جو بھی ہو حقانی صاحب بہر حال اچھا لکھنے والوں میں تھے اور پھر ان کے موضوعات رسمی نہیں حقیقی و جاندار ہوتے۔ ان کی اتنی اتھارٹی تھی کہ جو لکھتے تھے چھپتا تھا ہماشما کی طرح نہیں کہ ایڈیٹنگ کے نام پر مثلہ بنا ڈالا جائے۔ انہیں یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ ان پر ہفتے میں دو دن کی بندش نہ تھی جتنے آرٹیکل وہ چاہتے اور جتنی قسطیں مطلوب ہوتیں، کون تھا جو ان پر قدغن لگا سکے۔ اپنی اس سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے نامہ بروں کو بھرپور جگہ دیتے۔
درویش نے حالیہ دنوں اپنے “لالچی قومی ہیروز” کے حوالے سے ایک کالم لکھا جس کے کچھ حصے شائع ہوئے، کچھ رہ گئے۔ یہ کالم بنیادی طور پر ہمارے نیزہ باز کھلاڑی ارشد ندیم کے حوالے سے تھا کہ اس نے گولڈ میڈل کیا جیتا ہے کہ ہمارے لیڈر لوگ باؤلے ہوگئے ہیں۔ وہ کھلاڑی خود حیرت زدہ ہے کہ اس نے اتنا بڑا کارنامہ کیا نہیں جتنی پذیرائی دی جا رہی ہے۔ آپ لوگ پذیرائی ضرور دیں لیکن عوامی ٹیکسز سے جمع کی گئی رقوم کو اتنی بے دردی سے نہ لٹائیں۔ ایک طرف رونا رویا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ہمارے دوست ہمیں دیکھتے ہیں تو بولتے ہیں دیکھو بھکاری آگیا۔ عوام ہیں تو وہ بجلی بلوں اور مہنگائی کے ہاتھوں لاچار ہو کر بلک رہے ہیں۔ مکانوں کے اتنے کرائے نہیں جتنے بجلی کے بل آرہے ہیں۔

قومی سطح پر وسائل کی کمیائی کا رونا ہر روز رویا جاتا ہے۔ ڈوب مرنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے ڈھائی کروڑ بچے سکول جانے سے قاصر ہیں ملک مہنگائی ہی نہیں دہشت گردی کی بھی زد میں ہے کے پی میں ہر روز ہماری سیکیورٹی فورسز پر حملے ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں پنجابیوں سے نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہیں بسوں سے اتار کر مارا جا رہا ہے۔ بلوچ نوجوانوں کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں ہو رہا۔ گزشتہ سات دہائیوں سے وہ اسٹیبلشمنٹ کے کڑے شکنجے میں ہیں۔ خاں قلات سے لے کر ان کی پوری قیادت جناب میر غوث بخش بزنجو، جناب عطااللہ مینگل، جناب عبدالصمد اچکزئی اور پھر نواب اکبر بگٹی کے ساتھ جو زیادتیاں یہاں رواں رکھی گئی ہیں اور جس ظلم و جبر سے وہ آج بھی گزر رہے ہیں اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

آج سردار اختر مینگل نے اگر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے تو صورت حال کی سنگینی کا ادراک کیا جائے۔ ان کے دکھوں کو سنا اور حل کیا جائے۔ پارٹیشن کے بعد کی ابتدائی دہائیوں میں ہمارے بنگالی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھی کچھ اسی نو کی زیادتیاں کی گئی تھیں۔ حتی کہ خود جناح نے ان کی بنگلہ بھاشا تک چھین لینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور بنگالیوں نے اپنا بنگلہ دیش ہم سے الگ بنالیا۔ بنگالی زندہ اور باشعور قوم ہیں۔ ان کے ہیرو کی بیٹی نے بھی اگر ان کے ساتھ زیادتی کی ہے تو انہوں نے اس کی بھی پرستش نہیں کی۔ بلکہ حساب برابر کر دیا ہے۔ ان کی اسی خود اعتمادی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے جواں سال لڑکوں نے پاکستان کی ہوم گراؤنڈ پر ہمیں خوب دھویا ہے ۔کرکٹ کی زبان میں جسے کہتے ہیں وائٹ واش، یقیناً وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

بات ہو رہی تھی عمران خان کے بعد ہمارے نئے کھلاڑی ہیرو ارشد ندیم کی جس پر انعامات ونوازشات کی بارش ہو رہی ہے۔ ویسے تو ہر سال مختلف ترقی یافتہ ممالک کے کھلاڑی بیسوں گولڈ میڈل جیت کر اپنے ممالک لے جاتے ہیں لیکن ہم لوگ آخر کیوں اتنے پاگل ہوئے رہے ہیں؟ کیا ایک کھلاڑی ہیرو کا ایسا ہی تلخ تجربہ کافی نہ تھا جسے ہمارے میڈیا نے اٹھا اٹھا کر قوم کی گردنوں پر ہی نہیں حواس پر بھی سوار کر دیا۔ ہم لوگ دیگر مہذب اقوام کی طرح متوازن رویہ کیوں اختیار نہیں کرتے ہیں؟
یہ کالم چھپا تو بہت سے احباب نے اس پر اپنا فیڈ بیک دیا۔ بالخصوص ہمارے دوست طاہر یوسف صاحب نے یہ گلہ کیا کہ آپ کھیل کو علم کے بالمقابل نہ لائیں۔ طاہر صاحب کا خوبصورت استدلال ہے کہ “کھیل کے میدان میں کوئی چاہے کتنا بڑا کارنامہ ہی سرانجام دے لے علم و ادب یا تحقیق میں کی گئی خدمات سے ان کا موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ کھیلوں کو علمی تحقیقات کے برابر لا کھڑا کرنا از خود زیادتی ہے‘۔

اسی طرح ہمارے دوست شہباز انور صاحب جو خود بھی رائٹر اور اچھے شاعر ہیں، اپنے احساسات باایں الفاظ رقمطراز ہیں کہ ’میرے قابل احترام بھائی افضال ریحان صاحب آپ کے علم میں ہے کہ میں آپ کے کالموں کا مستقل (اور سنجیدہ) قاری ہوں۔ روزنامہ جنگ سے بھی پہلے پاکستان سمیت جہاں بھی آپ کا کالم چھپتا رہا ہے، میں کوشش کرتا رہا ہوں کہ وہ مس نہ ہو ۔ اس کی وجہ ایک تو آپ کے ساتھ ایک تعلق خاطر ہے جو ظاہر ہے برسوں نہیں عشروں پر محیط ہے دوسرا آپ کا غیر جانبدارانہ اور منطقی اسلوب نگارش اور  Realistic approach ہے۔ ( یقین جانیں میں ہر کالم نگار کے کالم پر تبصرہ نہیں کرتا، صرف ان چند کالم نگاروں کے کالموں پر کمنٹس پاس کرتا یا (موافقت و مخالفت میں ) رائے کا اظہار کرتا ہوں جن کو میں اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ اور ظاہر ہے آپ ان چند میں سے ایک ہیں۔ پیارے دوست اپنے اس کالم میں بھی آپ نے ہمیشہ کی طرح قومی ہیروز کے حوالے سے بڑی مدلل اور منطقی بات کی ہے اور قوم کی دانش اور اس کے " آئیڈیلز " کے بارے میں بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ میری رائے میں صرف قوم ہی نہیں ہمارے حکمران بھی حد درجہ غیر متوازن سوچ کے حامل ہیں۔ ان کی ترجیحات سے ان کے ذاتی مفادات کہیں زیادہ ہیں۔ آپ نے کھیلوں کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مایہ ناز کھلاڑیوں کو بھی اپنی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرنے پر مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ علم وادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو نظر انداز کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شاید آپ کے ذہن سے حال ہی میں سرکار کی طرف سے قومی اعزازات کی بندر بانٹ کا معاملہ نکل گیا۔ ورنہ جس غیر ذمہ داری گھٹیا سوچ اور پرلے درجے کی اقربا پروری کا مظاہرہ اس مرتبہ کیا گیا ہے، اس نے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔جن" نابغوں " کو قومی اعزازات سے نوازا گیا ہے، وہ خود ان نوازشات پر پریشان ہو گئے ہوں گے۔ انتہائی شرم ناک بات ہے یہ ہمارے آج کے حکمرانوں کے لیے ، کیا قومی ایوارڈز کے لیے منتخب کیے جانے والوں میں کوئی سائنسدان، کوئی انجینئر، ریسرچ سکالر، معیشت دان، ریاضی دان یا زرعی ماہر بھی شامل ہے ؟

 تمام مہربانیاں اپنے خدمت گزاروں، ذاتی تعلق رکھنے والوں چاپلوسوں، کرپشن کے دھندے میں دھنسے ہوئے " فنکار وں "، ڈرامہ نگاروں ( یا ڈرامہ بازوں) شو بز کے لوگوں ہی کے لیے کیوں مختص کی گئی ہیں؟ کیا مستقبل میں کوئی ماہر ، کوئی سکالر، کوئی سائنسدان ریاضی دان یا ماہر اقتصادیات بھی اس ملک میں پیدا ہو سکے گا؟‘