عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے: وزیر دفاع
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف واقعاتی شواہد ایسے ہیں کہ ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے۔
ان کے مطابق قانون کے مطابق جب معاملہ داخلی سلامتی اور پاکستان کی سالمیت کے دائرے میں چلا جائے تو پھر کسی کا بھی فوجی ٹرائل ہو سکتا ہے۔ ایک ٹی انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملٹری کورٹ میں پہلے بھی ٹرائل ہوتے رہے ہیں، آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ہمارے قانون اور ملٹری قوانین کے تحت لوگوں کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’دن بدن یہ چیز واضح ہوتی جا رہی ہے کہ عمران خان کا ٹرائل وہاں پر ہوگا۔‘
خیال رہے کہ عمران خان اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں اب فوج کی عدالت کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ خواجہ آصف اس سے قبل یہ کہا تھا کہ اگر فوجی عدالت میں عمران خان کا ٹرائل ہوا تو اوپن ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد جو تحقیقات ہو رہی ہیں ’کوئی انفارمیشن میرے تک نہیں پہنچی۔ یہ تحقیقات فوج کر رہی ہے، یہ صیغہ راز ہے۔ میری رسائی نہیں ہے، ہو بھی تو تبصرہ نہیں کروں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت واضح بات ہے۔ احتجاج ملٹری ٹارگٹس تک کیوں لیڈ کیا گیا۔‘ ان کے مطابق وہ اس کا دفاع تو نہیں کرتے مگر یہ بات ہے کہ رستے میں ’صوبائی اسمبلی کی عمارت، گورنر ہاؤس اور سویلین سرکاری عمارتیں تھیں مگر ان پر حملہ نہیں کیا گیا۔‘ ساری دنیا میں سویلین عمارتوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ امریکہ میں کیپٹل ہل میں مظاہرین گھس گئے تھے مگر انہوں نے پینٹاگون اور ملٹری بیس پر حملہ نہیں کیا۔ فوج سے متعلقہ عمارتوں تک نہیں گئے۔
جس شہرمیں مظاہرہ ہوا فوج کے اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا، یہ بنیادی چیز ہمیں لیڈ کرتی ہے کہ فوج کے اندر سے کچھ افراد ان کو ’ڈائریکٹ‘ کر رہے تھے۔ ایک پلاننگ کہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے تحریک انصاف کی ایک خاتون کارکن، شہریار آفریدی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے نو مئی کے دن بیانات ایک سکرپٹ کا حصہ لگتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ’لازمی طور پر یہ پلاننگ عمران خان کی تھی۔‘ آج بھی عمران خان اخبارات میں آرٹیکل بھی لکھتے ہیں، ان کی ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں، وہ ٹوئٹر (ایکس) پر بھی فعال ہیں۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار چھن جانے کا جو درد بانی پی ٹی آئی کو تھا وہ جنرل فیض کو بھی تھا۔ ’فیض حمید آرمی چیف بننا چاہتے تھے، پانچ کی لسٹ میں ان کا نام تھا، اس سلسلے میں انہوں نے میری پارٹی کی قیادت کو بھی ’اپروچ‘ کیا، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آپ آرمی چیف بنانے کی حمایت کریں گے تو میں وفاداری کے ساتھ نبھاؤں گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں کچھ ضمانتیں بھی دیں۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل فیض کی بانی پی ٹی آئی سے رفاقت رہی ہے۔ فیض حمید جب سے گرفتار ہوئے ہیں وہ اس کی داستانیں سنا رہے ہوں گے۔ ان کی خواہش ہوگی کہ سارا ملبہ کسی اور پر ڈال دیں، وہ کہیں گے کہ اگر میں اس سازش میں شریک بھی تھا تو اس کے جو مقاصد تھے وہ میرے نہیں بانی پی ٹی آئی کے تھے کیونکہ وہ وزیراعظم تھے اور میں ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر احکامات پر عمل کر رہا تھا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ عمران خان کے اقتدار سے بے دخلی کے بعد فیض حمید بھی سویلین ہو گئے تھے۔ پھر دونوں نے ملک پر قبضے کا جو کوشش کی وہ ناکام ہوئی۔ جب بغاوتیں ناکام ہوتی ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے؟ خواجہ آصف کے مطابق عمران خان نے جو گڑھا دوسروں کے لیے کھودا تھا خود اس میں وہ گرے ہیں۔