انگریز اور انگریزی زبان

بہاول پور کے ایس ای کالج میں پروفیسر نسیم صدیقی ہمیں انگریزی پڑھاتے تھے۔ میں اِن دِنوں ایف ایس سی کا طالبعلم تھا۔ صدیقی صاحب ایسے عمدہ اور شاندار استاد تھے کہ ہماری کلاس کے تمام طالب علم اُن کے پیریڈ میں ضرور حاضر رہتے۔

اُن کے تدریسی انداز کی وجہ سے انگریزی زبان سے میری دلچسپی بڑھتی گئی۔ اس وقت مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ میں ایک دن انگلینڈ جا کر آباد ہو جاؤں گا اور انگریزی زبان ہی مستقل ذریعہ اظہار بن جائے گی۔ میں گزشتہ دِنوں بہاولپور پہنچا تو حافظ صفوان کے ذریعے نسیم صدیقی صاحب سے رابطہ کر کے اُن سے ملنے گیا تو وہ خوش ہوئے۔ میں بہت دیر تک اُن کے ساتھ رہا۔ وہ گفتگو کرتے رہے میں سنتا رہا۔ وہ مجھے اپنی زندگی سے بہت مطمئن نظر آئے۔ میں بھی اُن کی باتیں سن کر سرشار ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے انگریزوں اور انگریزی زبان کے بارے میں استفسار کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ پورے یورپ کے 44ممالک ہیں صرف یونائیٹڈ کنگڈم کی سرکاری زبان یا آفیشل لینگوئج انگریزی یا انگلش ہے یا پھر ری پبلک آف آئرلینڈ اور مالٹا میں انگریزی کو دفتری زُبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جرمنی، فرانس سمیت کسی بھی یورپی ملک میں نہ تو انگریزی بولنے کو ترجیح دی جاتی ہے اور نہ ہی یہ ممالک اپنی ملکی یا مادری زبانوں کے بارے میں کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔

میری بات سن کر نسیم صدیقی صاحب حیران ہوئے اور مسکرا دیے۔ اللہ رب العزت ہمارے اساتذہ کو صحت مند اور خوشحال رکھے۔ میں جب بھی پاکستان جاتا ہوں تو کئی پڑھے لکھے احباب مجھ سے انگریزی میں بات چیت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں عام طور پر ایسے دوستوں کو بہت انکساری سے یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غلط انگریزی بولنے کی بجائے صحیح اردو، پنجابی یا سرائیکی زبان میں مجھ سے بات چیت کریں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ انگلش زبان کے حوالے سے میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ لکھنے پڑھنے والی زبان اس انگریزی زبان سے یکسر مختلف ہوتی ہے جو عام طور پر گفتگو کے لئے انگلستان میں استعمال ہوتی ہے۔ میں جب نیا نیا لندن آیا تھاتو کئی مہینے تک مجھے انگریزی بول چال اور لہجے کی بالکل سمجھ نہیں آتی تھی اور میں حیران ہوتا تھا کہ گورے جس انگریزی زبان میں بات چیت کرتے ہیں وہ میری سمجھ سے بالاتر کیوں ہے؟ کچھ مہینے بعد مجھے ایسٹ لندن کی ایک سٹیشنری فرم کے ویئر ہاؤس میں جزوقتی ملازمت کا موقع ملا جہاں کوئی ایک فرد بھی اردو یا پنجابی بولنے والا نہیں تھا۔ مجھے ہر روز 4گھنٹے اس فرم میں مجبوراً انگریزی بولنا اور سننا پڑتی تھی جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصے میں مجھے انگریزی بول چال اور مختلف لب و لہجے سمجھ آنے لگے اور روانی سے انگریزی بولنے میں بھی سہولت ہو گئی۔ قارئین کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں ہزاروں تارکین وطن اور خاص طور پر اوورسیز ایشیائی ایسے ہیں جو ستر اور اسی کی دہائی میں یہاں آئے تھے اور آج تک بھی انگریزی زبان بولنے یا پوری طرح انگلش لب و لہجے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اِن لوگوں کی اکثریت نے برطانیہ آ کر اپنے ہی لوگوں کے پاس ملازمت کرنے کو ترجیح دی جہاں انہیں انگریزی زبان میں بات چیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

ایسے لوگوں کی بیگمات بھی گھروں میں رہ کر انگلش زبان سے ناآشنا رہیں۔ موجودہ صدی کے آغاز میں برطانوی شہریت کے حصول کے لئے انگریزی زبان لکھنے پڑھنے اور لائف اِن یو کے ٹیسٹ پاس کرنے کی پابندی لگائی گئی تاکہ اس ملک میں مستقل قیام کرنے والوں کو یہاں کی زبان اور طرزِ زندگی سے کچھ نہ کچھ شناسائی حاصل ہو سکے۔ اس وقت پوری دنیا میں رابطے کی سب سے بڑی اور ماڈرن زبان انگریزی ہے۔ ڈیڑھ بلین سے زیادہ لوگوں کا ذریعہ اظہار یہی انگلش زبان ہے۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ یہ زبان ڈیڑھ ہزار سال قدیم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کی پہلی ڈکشنری 1755 میں شائع ہوئی، انگلش کے 30فیصد الفاظ لاطینی، پرتگیزی، فرانسیسی، ہسپانوی، جرمن اور دیگر زبانوں سے مستعار لئے گئے ہیں بلکہ انگریزی زبان کے حروف تہجی بھی قدیم لاطینی اور رومن زبان کی تبدیل شدہ شکل ہیں۔ موجودہ دور میں بھی ہر سال تقریباً آٹھ سو نئے الفاظ انگلش ڈکشنری میں شامل کئے جاتے ہیں۔ دنیاکے 195ممالک میں 60ملکوں کی سرکاری زبان انگریزی ہے۔

انگلش زبان کے ارتقا کے حوالے سے ولیم شیکسپیئر کو بابائے انگریزی سمجھا جاتا ہے جس نے اس زبان میں ایک ہزار سات سو نئے الفاظ کا اضافہ کیا۔ انڈیا اور پاکستان سمیت دنیا کے ایسے تمام ممالک جو کسی نہ کسی زمانے میں انگلستان کے زیر تسلط رہے ہیں وہاں انگریز سے آزادی کے بعد بھی حکمران طبقے کی زبان کو فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام لوگ فرفر انگریزی بولنے والوں سے بڑی جلدی مرعوب ہو جاتے ہیں خاص طور پر کسی سرکاری دفتر یا سرکاری افسر سے انگریزی میں بات کی جائے تو اس کا رویہ اور رد عمل ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ انگریزوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی غلط انگلش بولنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے بلکہ ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اُسے یہ زبان سیکھنے میں سہولت رہے۔ مجھے لندن میں رہتے ہوئے کئی بار فرانس، جرمنی، ہالینڈ، بلجیم اور یورپ کے دیگر کئی ممالک میں آنے جانے کا موقع ملا اور میں نے ہر بار ان ملکوں میں جا کر یہ بات محسوس کی کہ وہاں کے لوگ انگریزی زبان میں بات چیت کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس گریز کی وجہ انگریزی زبان سے نفرت نہیں بلکہ اپنی اور اپنے ملک کی زبان سے محبت ہے۔

یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد اقوام کا لِسانی حوالے سے یہ موقف بہت واضح اور اٹل ہے کہ ہم گونگے نہیں ہیں، ہماری اپنی ایک الگ زبان ہے جو ہماری شناخت اور پہچان بھی ہے۔ فرانس یا جرمنی کے سربراہان مملکت یا سرکاری وفود جب لندن آتے ہیں تو اپنی قومی زبان میں ہی بات چیت کرتے ہیں چاہے برطانوی حکام کو اُن سے مذاکرات کے لئے ترجمان کی ہی مدد کیوں نہ لینی پڑے۔ ایسا نہیں کہ فرانس یا جرمنی کے سربراہان یا سرکاری حکام کو انگریزی نہیں آتی بلکہ وہ اپنی زبان میں اپنا مدعا بیان کرنے میں زیادہ سہولت اور آسانی محسوس کرتے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں آپس کے رابطے کی زبان اردو ہے یعنی پنجاب سے کوئی شخص بلوچستان جائے تو وہ وہاں اردو زبان میں بات چیت سے ہی کام چلائے گا۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ کا کوئی باشندہ صوبہ سندھ جائے تو اُسے اردو کا سہارا لے کر ہی گفتگو کرنا پڑے گی۔ انگریزی زبان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اسے بین الاقوامی رابطے کی زبان سمجھا جاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ دنیا کے ہر خطے میں یہ زبان بات چیت کے لئے مددگار ثابت ہو۔

دنیا بھر میں انگریزی بولنے والوں کے مقابلے میں انگریزی پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر ہمارے لئے ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں تو انہیں یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جاپان، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں ذریعہ تعلیم انگریزی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ ممالک ترقی یافتہ ہیں، جدید اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انگریزوں سے بہت آگے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگوں کو بھی یہ مغالطہ دور کر لینا چاہئے کہ انگریزی زبان ترقی یا فخر کی علامت ہے۔ ہمیں اپنی علاقائی زبانوں (جنہیں میں قومی زبانیں کہتا ہوں) اور رابطے کی زبان اردو پر فخر کرنا چاہئے۔ انگریزی بھی پڑھنی چاہئے لیکن ذریعہ تعلیم وہ زبان ہونی چاہئے جو پوری قوم کو سمجھ آتی ہو۔

انگریزی زبان سے مرعوب ہونے کے باعث ہم نفسیاتی طور پر اردو اور اپنی مادری زبانوں کو کمتر سمجھنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں ہماری بول چال میں انگریزی کے الفاظ کا بے دریغ استعمال بڑھتا جا رہا ہے بلکہ بول چال ہی کیا قومی اخبارات میں بھی غیر ضروری طور پر انگریزی زدہ اردو پڑھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں وزیر اعظم کی جگہ پرائم منسٹر، انتخابات کی بجائے الیکشن، ہوائی اڈے کی جگہ ایئر پورٹ، نجکاری کی بجائے پرائیویٹائزیشن وغیرہ کے الفاظ اب سرخیوں میں استعمال ہونے لگے ہیں۔ اردوکے سینکڑوں مستعمل الفاظ ایسے ہیں جن کی جگہ انگریزی الفاظ کو بلاضرورت لکھا جانے لگا ہے۔معلوم نہیں انگریزی کا بھوت کب تک ہمارے سروں پر سوار رہے گا اور ہم اچھی اردو یا اپنی اچھی مادری زبان بولنے کی بجائے غلط انگریزی بولنے کو ترجیح دیتے رہیں گے۔

کچھ عرصہ پہلے لندن سے ایک انگریز پاکستان کے دورے پر گیا جہاں اُسے اسلام آباد کے مضافات میں ایک انگلش میڈیم سکول میں جانے کا موقع ملا جہاں مختلف اساتذہ سے اُن کا تعارف کرایا گیا۔ ایک خاتون سے متعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انگریز نے لیڈی ٹیچر سے استفسار کیا کہ آر یو انگلش ٹیچر؟ تو انہوں نے شرماتے ہوئے جواب دیا ”یس آئی آر“۔ یورپی ممالک کی طرح ہمیں بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ ہم گونگے نہیں ہیں کہ بول چال کے لئے انگریزی زبان کا سہارا لیں۔ ہمارے ملک میں ہماری اپنی قومی زبانیں اور رابطے کی ایک زبان موجود ہے اور یہ زبانیں اس قدر شاندار ہیں کہ اِن میں انگریزی کی ملاوٹ کرنے یا انہیں انگریزی کے الفاظ سے آلودہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

ملاوٹ چونکہ ہم پاکستانیوں کی گھٹی میں شامل ہو چکی ہے اس لئے ہم بدنصیبوں نے اپنی زبانوں کو بھی خالص نہیں رہنے دیا۔ اللہ رب العزت ہمارے حال پر اپنا کرم فرمائے کہ ہم زندگی کے دیگر معاملات کی طرح لِسانی معاملے میں بھی آدھے تیتر آدھے بٹیر بنتے جا رہے ہیں۔