مائنس عمران خان سیاست نہیں ہوگی: بیریسٹر گوہر علی

  • سوموار 09 / ستمبر / 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا  ہےکہ این او سی ہو یا نہ ہو اگلا جلسہ لاہور میں کریں گے۔  عمران خان پر کیسز ختم ہو چکے ہیں تو اگر ایک سے دو ہفتے میں قانونی طور پر عمران خان رہا نہ ہوا تو ہم عمران خان کو بھی خود رہا کریں گے۔ اسلام آباد میں جلسے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ مائنس عمران  سیاست قبول نہیں ہوگی۔

پاکستان تحریک انصاف نے اتوار کو اسلام آباد میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنگجانی مویشی منڈی میں جلسے کا انعقاد کیا جس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسے میں شرکت کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بڑی تعداد میں قافلے پہنچے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا سینکڑوں گاڑیوں، ہیوی مشینری اور ہزاروں کارکنوں پر محیط قافلہ سنگجانی انٹر چینج سے ہوتا ہوا جلسہ گاہ پہنچا تو شرکا نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ وہ حق کی بات کررہا ہے، آج تو ہم جابر حکمران کے خلاف آواز اٹھا کر جہاد کررہے ہیں لیکن اگر ظلم بند نہ ہوا تو ہم اپنی جان سے جہاد کریں گے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارا ہزاروں ارب روپیہ لوٹنے کے بعد این آر او کون دے رہا ہے، این آر او دینے والوں تم ہار چکے ہو اور عمران خان جیل میں بیٹھ کر جیت چکا ہے۔ تم ذلیل ہو رہے ہو، اس کو جیل میں عزت مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سپریم کورٹ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے جو فیصلہ کیا اور این آر او دیا، تو اس سے میرے 25 کروڑ عوام کو کیا فائدہ ہوا۔ میرا ہزاروں ارب لوٹا ہوا روپیہ تم نے معاف کردیا۔ تمہیں جواب دینا پڑے گا ورنہ تمہارے اوپر سوالیہ نشان ہو گا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ منہ زبانی کہنے سے کہ تم سیاست نہیں کرتے کچھ نہیں ہوتا، سیاست تو کر ہی تم رہے ہو، کسی اور کو تو چھوڑ ہی نہیں رہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں آج سن رہا تھا کہ خواجہ آصف کہہ رہا تھا کہ جنرل فیض حمید نے ریٹائرمنٹ کے بعد رابطے رکھے۔ کیا جنرل فیض حمید ہمیں جہیز یا وراثت میں ملا تھا۔ تمہارا جنرل تھا، اپنا ادارہ ٹھیک کرو، اپنے جرنیل ٹھیک کرو، اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔ جنرل فیض کو ڈی جی سی اور ڈی جی آئی ہم نے بنایا، اب غلط کرے ہمارے کھاتے میں اور اچھا کرے تو تمہارے کھاتے میں۔ اپنے ادارے کی اصلاح کرو، اگر تم نے فوج کو ٹھیک نہ کیا تو ہم کریں گے، یہ ہماری فوج ہے اور اس میں ہمارے بھائی ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ این او سی ہو یا نہ ہو، اگلا جلسہ لاہور میں ہو گا، اگر مینار پاکستان اجازت ہو گی تو ٹھیک ہے لیکن مینڈیٹ چوروں ہم سے پنگا مت لینا، پنگا لیا تو تمہارا وہ حال کریں گے کہ تمہیں بنگلہ دیش بھول جائے گا، چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ عمران خان کے وکلا نے بتایا کہ ان کے کیسز ختم ہو چکے ہیں، ایک سے دو ہفتے میں قانون طور پر عمران خان رہا نہ ہوا خدا کی قسم تو ہم عمران خان کو بھی خود رہا کریں گے۔ میں آپ کی قیادت کروں گا اور پہلی گولی میں کھاؤں گا۔ اب پیچھے مت ہٹنا کیونکہ اگر ہم پیچھے ہٹے تو نہ دوبارہ ایسا موقع ملے گا نہ دوبارہ ایسا لیڈر ملے گا۔

اس سے قبل اسلام آباد کی انتظامیہ نے جلسے کے لیے جاری کردہ این او سی کی مبینہ خلاف ورزی پر پی ٹی کو جلسہ ختم اور جلسہ گاہ فوری خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جلسہ ختم کرنے کے تحریری احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جلسہ وقت پر ختم نہ کر کے پی ٹی آئی نے شرائط کی خلاف ورزی کی۔

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے جلسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اقتدار کی راہداریوں کی کنجیوں کے حامل لوگوں کو ایک چیز بتانا چاہتا ہوں کہ اپنی قوم کے بارے میں سوچو، اس جم غفیر کو اقلیت نہ سمجھو، ان لوگوں کی آواز کو مت دبانا، غیراہم مت سمجھنا۔ راستے بند مت کرو، راستہ نکالو اس سے قبل کہ ملک بند گلی میں چلا جائے۔ یاد رکھو کہ جس نے قوم کی آواز کو دبایا وہاں قوم ملک نہیں رہتی۔ وہاں کوئی ادارہ نہیں رہتا۔

قبل ازیں جلسے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر نے کہا کہ آج یہ جلسہ گاہ، یہ رکاوٹیں جس چیز کی گواہی دیتی ہیں کہ حکمران خوفزدہ ہیں اور وہ آپ سے، مجھ سے اور ہم سب سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ سب سے بڑھ کر عمران خان سے خوفزدہ ہیں۔

جلسے سے تحریک انصاف کے رہنماؤں علی محمد خان، اعظم سواتی، عالیہ حمزہ، عمر چیمہ، سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔