کملا ہیرس اورڈونلڈ کا صداررتی مباحثہ، ایک دوسرے پر الزامات
امریکہ کے پہلے صدارتی مباحثے میں کملا ہیرس نے سابق صدر کو ذاتی حملوں سے جھنجھوڑ ڈالا، جس سے صدارتی مباحثے کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔
کملا ہیرس کی جانب سے کیپیٹل ہل پر حملے کے دوران ٹرمپ کے ردعمل، ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدران اور ان کی انتخابی ریلیوں کے سائز پر تنقید نے انہیں سابق صدر پر برتری دلا دی۔
بحث کے دوران دیکھا گیا کہ کملا ہیرس نے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کے ماضی کے اقدامات اور بیانات کی بنیاد پر شدید تنقید کی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے کبھی اپنی آواز اونچی کی تو کبھی سر ہلایا۔
منگل کی رات کو ہونے والے اس مباحثے کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کملا ہیرس کے حق میں نظر آیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک پول کے مطابق کملا ہیرس نے اس مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی سٹہ بازوں کی مارکیٹ نے بھی کملا کی پرفارمنس کو بہتر قرار دیا۔
امریکہ میں نومبر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے امیدواروں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والے گرما گرم صدارتی مباحثے کا اختتام ہو گیا ہے۔ اس مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے جیسے الزامات عائد کیے اور ایک دوسرے کے معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، غزہ جنگ سمیت اہم امور پر دیے گئے بیانات کی تردید کی۔
صدارتی مباحثے کے اختتام کے فوراً بعد دونوں امیدواروں کے سپورٹرز اور انتخابی مہم چلانے والوں نے اپنے اپنے امیدوار کو ’مباحثے کا فاتح‘ قرار دیا۔ کملا ہیرس کی انتخابی مہم کی انچارج جین اومیلے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں میں کوئی ربط نہیں تھا۔ وہ ناراض تھے اور جھنجھلاہٹ کا شکار تھے۔‘
دوسری جانب ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے ’مباحثے میں شاندار کارکردگی دکھائی۔‘ انتخابی مہم کے نمائندوں کرس لا سیویٹا اور سوسی وائلز نے کہا کہ ٹرمپ نے ’امریکہ کے حوالے سے ایک جراتمندانہ وژن‘ پیش کیا اور یہ کہ وہ اسی طرح اپنی کامیابیوں کے سفر کو جاری رکھیں گے۔