اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن میں میثاق پارلیمنٹ کی تجویز
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے میثاق پارلیمنٹ کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم بیٹھ کر چارٹر آف پارلیمنٹ سائن نہیں کرسکتے؟ جماعتیں اکھٹی بیٹھیں یا نہیں لیکن ارکان کو تو ساتھ ہونا چاہیے، جو میں کرسکتا تھا وہ میں نے کیا۔
اسپیکرقومی اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے۔ حکومت پر تنقید ضرور کریں لیکن ذاتیات پر مبنی نہ ہوں۔ حزب اختلاف کو ایوان میں بولنے کا زیادہ موقع دیا۔ ایوان کو خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے مشاورت سے آگے بڑھنا ہوگا۔
اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کے لیے قومی اسمبلی میں 16 اراکین پر مشتمل کمیٹی بنانے کی قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ پی ٹی آئی ارکان نے نعرے لگائے کہ گرفتار اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ پی پی کے خورشید شاہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی ارکان بولنے کی اجازت مانگ رہے ہیں تو انہیں بولنے دیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو واقعہ ہوا ہے اس کی تہہ تک جانے کی کوشش کروں گا۔ جو میں کرسکتا تھا میں نے کیا۔ میں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو معطل کیا کہ انہوں نے ان لوگوں کو کیوں نہیں روکا جوپارلیمنٹ میں آئے۔ ہماری قیادت بیٹھے یا نا بیٹھے کیا ہم پارلیمنیٹرین کوئی چارٹر آف پارلیمنٹ سائن نہیں کرسکتے؟
درین اثنا اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز اور دیگر چار سکیورٹی اہلکاروں کو چار ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔
گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمان کی بے توقیری قبول نہیں۔ گرفتار ارکان پارلیمان کو فوری رہا کیا جائے۔
سوموار کی رات پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اسلام آباد پولیس نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اتوار کو اسلام آباد کے علاقے سنگجانی میں کیے جانے والے جلسے کو وقت پر ختم نہ کرنے، پولیس پر پتھراؤ کرنے اور طے شدہ روٹ کی خلاف ورزی کرنے پر منتظمین کے خلاف درج تین مقدمات کے تحت گرفتار کیا تھا۔