آئین کی بالادستی اور پارلیامنی تعاون یقینی بنایا جائے: بلاول بھٹو

  • بدھ 11 / ستمبر / 2024

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا۔ سیاست اپنی جگہ لیکن ہمین ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا۔ ہم نے سیاست کو گالی بنادیا ہے۔ ہم باہر جو سیاست کریں وہ ہمارا مسئلہ ہے لیکن ایوان کےاندر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، سیاست اہپنی جگہ لیکن ہمین ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ حکومت کاکام آگ بجھنا ہے، مزید آگ لگانا نہیں۔ اپوزیشن کا بھی یہ کام نہیں کہ ہر وقت گالی دے، ہمیں اپنی ذمہ داریون کو دیکھنا ہوگا۔ انہیں نبھانا ہوگا۔ اگر حکومت یہ سوچے گی کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہےتو یہ ایک دن کی خوشی ہوگی۔ اگلے دن آپ بھی اسی جیل میں ہوں گے۔ اگر ہم آپس کی لڑائی میں لگے رہے تو ملک کیسے آگے بڑھےگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر حکومت کا کردار یہ ہے کہ عمران خان نے ہمیں جیل میں بند کیا تھا، اب ہم نے پتھر کا جواب پتھر سے دینا ہے تو ایک دن کے لیے ہم خوش ہوں گے لیکن کل میں اور آپ اسی جیل میں ہوں گے۔ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو میری ان سے صرف اتنی مخالفت تھی کہ جس سسٹم کے لیے میرے خاندان نے قربانیاں دی ہیں، وہ چلے۔ اسی وجہ سے بنیظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کیا، 18ویں ترمیم کی، این ایف سی ایوارڈ منظور کرایا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پہلے چیف الیکشن کمشنر حکومت کی مرضی سے ہوتا تھا۔ ہماری ترمیم کے بعد اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کی مشاورت کے بعد تعینات ہوتا ہے۔ عبوری حکومت میں اپوزیشن، وزیر اعظم کی مشاورت اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن دینے سمیت یہ تمام چیزیں ہم نے کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے میرے والد، والدہ کو جیل میں ڈالا یا آپ کے رہنما چند مہینے کے لیے جیل میں ہیں۔ آپ ان کا کیس ہر سطح پر لڑیں لیکن یہاں آکر عوام کی خدمت کریں۔ ان کے کام کریں، ہمارا بھی حکومت سے اختلاف رائے ہوتا ہے۔ الیکشن مہنگائی کے نکتے پر لڑا، جہاں مناسب سمھا تنقید کی۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

ہم نے دیکھنا ہے کہ حکومت کی کارکردگی اس بنیادی معاملے پر کیا ہے۔ وزیر اعظم، ان کی معاشی کی کارکردگی کے بارے میں اس ایوان کو بتانا چاہوں گا کہ 8مہینے پہلے مہنگائی کی شرح کیا تھی۔ حکومت نے اپنے لیے بجٹ میں ہدف 12 فیصد لانے کا رکھا تھا، ابھی سال بھی پورا نہیں ہوا اور مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں ہم، حکومت کے اپنے اراکین اور اپوزیشن کے اراکین حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے آر ہے ہیں، وہیں اس بات پر تعریف کرنی چاہیے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے اور مزید کمی کے لیے تجاویز دینی چاہیے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کو نقصان پہنچے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2013 سے 2018 تک ہم نے انہیں لوگوں کے ساتھ مل کر اتفاق کے ساتھ جنہوں نے میرے والد کو ساڑھے 11 سال تک جیل میں ڈالا۔ ان کے ساتھ مذاکرات کرکے، بات چیت کرکے ایسی متفقہ دستاویز لے کر آئے جس سے ہم نے صوبوں کو مضبوط کیا، پارلیمنٹ کو مضبوط کیا، عدالت کو مضبوط کیا، اس سے عوام کو فائدہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اتفاق رائے کے خلاف ایک مخصوص لابی موجود ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ اتفاق رائے جاری رہے۔ شروع دن سے اس کے خلاف سازش جاری ہے۔ کبھی افتخار چوہدری کے ذریعے، کبھی انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے۔ سیاسی جماعت کو فائدہ دے کر ہمارے سیاسی نظام کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ پہلے اختلافات ہوتے تھے تو ہم آپس میں بات کرتے تھے، اب ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ایسے چلنا ہے تو چلتے رہیں گے لیکن افسوس ہم ان بچوں کی قسمت کے ساتھ کھیل رہے ہیں جن کے مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اسپیکر قومی اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ اس ایوان کو متحرک کریں۔ پھر ہم اس ملک کو متحرک کر سکتے ہیں، اپنی سیاست، اپنے معاملات اور کیسز ہم دیکھ لیں گے۔ جب تک یہ ایوان فنکشنل نہیں ہوگا، یہ ملک فنکشنل نہیں ہوگا۔ ایک قابل احترام، سینئر بلوچ سیاستدان نے ایوان سے استعفیٰ دیا۔ مجھے بہت افسوس ہوا، ان کے استعفے کی خبر سے مایوس ہوا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے، میں ان سے کہوں گا کہ اسمبلی نہ چھوڑیں۔ ذمے داری اپنائیں، جو لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ اسمبلی میں ہوں، وہ تو خوش ہوں گے کہ آپ چھوڑیں۔ یاد دلاتا ہوں کہ جب پی ڈی ایم کی حکومت تھی، میں کہتا رہا کہ اسمبلی نہ چھوڑیں۔ ضد، جوش، جذبہ تھا۔ اسمبلی چھوڑ دی، کیا جو کرنا تھا۔ اب وہ خود بھگت رہے ہیں، نہ صرف وہ بلکہ ملک بھی بھگت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ہائی پاور کمیٹی بنائیں جس میں تمام جماعتیں بشمول وہ جماعت جو حکومت کو پسند نہیں، ان کامؤقف سنیں، جو بہتر تجویز ہوئی، اسے ہم سب ماننے کےلیے تیار ہوں گے۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہے۔ میثاق جمہوریت پاکستان کی جمہوریت میں پیش رفت تھی کہ پہلی مرتبہ دو متحارب پارٹیوں نے مل کر پارلیمانی جمہوریت کو آگے بڑھانے کی سوچ کی بنیاد رکھی۔ اس میں رخنے بھی آئے لیکن ہم 90 کی دہائی کی تلخی کی طرف نہیں بڑھے، رابطے بھی رہے، اختلافات بھی ہوئے، لیکن جب 2013۔14 میں دھرنا ہوا تو ایوان میں موجود سب پارٹیاں ایک ہوگئیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر عمران خان گرفتار ہیں تو ہماری قیادت بھی گرفتار رہی، لیکن ہم نے وہ زبان نہیں بولی۔ نہیں کہا کہ آکر انہیں آیا اڈیالہ جیل سے رہا کرائیں گے۔ انہیں عدالتوں سے رہا کرائیں، آئین و قانون کے مطابق ان کی رہائی سب کو قابل قبول ہوگی۔ اس پر کسی کو احتجاج کا حق نہیں ہے، لیکن اگر سلسہ اس طرف چل پڑا جس طرف بلاول بھٹو نے اشارہ کیا تو ادارے مفلوج ہوجائیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کرے لیکن حدود کو عبور نہ کرے۔ اسپیکر بطور کسٹوڈین آپ ایمپائر ہیں، اس ایوان کی بقا ہے تو اس ملک کی وحدت، آئین کی بقا ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کچھ ویڈیو ثبوت سامنے آئے ہیں کہ ارکان کو ایوان کے اندر سے نہیں اٹھایا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت شروع ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا ایوان اسپیکر کے پیچھے کھڑا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ہم بھاگنے والے نہیں، لیکن جبری گمشدگیاں نہ ہوں۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پرسوں رات یہاں پر نقاب پوش کالی گاڑیوں میں آئے، جو ہمارے اراکین کو اٹھا کے  لے گئے۔ اس معاملے پر پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بات کی۔ اسپیکر چیمبر میں آئی جی اسلام آباد کو بلایا گیا۔ ہم نے پروڈکشن آرڈرز کی گزارش کی تو اسپیکر نے زبانی آرڈرز جاری کیے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ابھی تک اسپیکر کے آرڈرز پر اسلام آباد پولیس نے عمل نہیں کیا۔ بات ہوئی کہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا۔ اسپیکر نے کہا کہ استحقاق سے آگے جائیں گے اور ایف آئی آر کریں گے۔