وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کا افغانستان سے براہ راست معاملات طے کرنے کا اعلان
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد پہلی بار صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور منظر عام پر آئے۔ انہوں نے پشاور میں بار کونسلز ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب میں اداروں سے کہا ہےکہ وہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کی بہتری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان جو غیر قانونی طور پر جیل میں ہیں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ خان صاحب آپ نے جو نظریہ ہمیں دیا، جو نظریہ آپ نے قوم کو دیا، اس نظریے پر ہم قائم ہیں۔ اس سے ہمیں کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ کوئی جھکا سکتا ہے۔ میں اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی اصلاح کر لو۔ اپنی اصلاح کر لو۔ آپ کی اصلاح میں پاکستان کا فائدہ ہے۔ آپ کی اصلاح میں اس قوم کا فائدہ ہے، آپ کی اصلاح میں آپ کا اپنا فائدہ ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہ کام شروع کررہے ہیں کہ میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد نہیں جا سکتا تو چیلنج کرتا ہوں کہ آؤ مجھے گرفتار کرو۔ غلط پالیسیوں والوں سے کہتا ہوں کہ رحم کردو جن کی پالیسیوں سے نقصان ہو رہا ہے ان کا نام لے کر نشاندہی کریں۔
میں کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کے پاس مجھے وفد بھیجنے دو۔ وہ ہمارے پڑوسی ہیں مگر کسی کو پرواہ ہی نہیں۔ میرا خون بہہ رہا ہے میں کب تک برداشت کروں گا؟ میں اعلان کرتا ہوں کہ خود افغانستان سے بات کروں گا۔ وفد بھیجوں گا، افغانستان کے ساتھ بیٹھ کر بات کروں گا اور مسئلہ حل کروں گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں پاکستان کا شہری اور آزاد انسان ہوں، آپ کو مجھے جواب دینا پڑے گا، آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا۔ میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کسی سے انتقام نہیں لیا اور نہ ہی صوبائی اداروں کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کیا۔ ہم نفرتیں نہیں پیدا کرنا چاہتے کیونکہ اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔ اپنے حق، انصاف اور حقیقی آزادی کے لیے بات کرنا ترک نہیں کریں گے۔ آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ اگر میں یہ بات کروں تو پھر کہا جاتا ہے کہ میں لوگوں کو اکسا رہا ہوں، آج بھی صوبے کے اندر چلینجز ہیں۔ ان لوگوں کے غلط اقدامات کی وجہ سے مجھے چیلجنز کا سامنا ہے۔
علی امین نے کہا کہ ’چاپلوس ہوں نہ کسی کا چمچہ اور نہ کسی کا غلام ہوں۔‘ صحافی ہمارے بھائی ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ کچھ لوگ آئین کی بالادستی، کرپشن پر بات نہیں کرتے پھر میرے پیچھے شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر میں نشاندہی نہیں کروں گا تو اصلاح کیسے ہو گی۔ اگر آپ میری نشاندہی نہیں کریں گے تو میری اصلاح کیسے ہوگی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیب احتساب کے لیے نہیں انتقام کے لیے بنا۔
دریں اثنا خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ 9 ستمبر کی رات وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی اسٹیبلشمنٹ کے ایک ادارے سے ملاقات ہوئی۔ جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور سے جب رات گئے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے ایک ادارے کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں صوبے کے حالات پر بھی بحث ہوئی اور سیاست پر بھی بات ہوئی اور اسی وجہ سے علی امین گڈاپور کو دیر ہو گئی۔ سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے کال آ رہی تھی نہ جا رہی تھی اور اسی لیے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
یاد رہے کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد جب تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور منظر عام سے غائب ہو گئے تھے، جس کے بعد وہ گزشہ رات سامنے آئے اور انہوں نے پشاور میں بار کونسلز ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب کیا۔
پروگرام اینکر شاہزیب خانزادہ نے بیرسٹر سیف سے پوچھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات اگر طویل ہوئی تو کیا یہ تلخ بھی ہو گئی تھی؟ جس کے جواب میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’وہ اس ملاقات کو تلخ تو نہیں کہیں گے لیکن جب بھی سیاسی پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کسی ادارے میں ملاقات ہوتی ہے تو بعض باتیں اچھی ہوتی ہیں، بعض باتیں شاید انہیں پسند نہیں آتیں۔ کچھ باتوں پر سیاسی جماعتوں کو اعتراض ہوتا ہے تو عام بات چیت ہوئی ہے اور کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس نشست کی طوالت اور سگنلز کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا، تو اس صورتحال سے یہ تاثر بنا کے انہیں زبردستی کہیں رکھا گیا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں۔ اینکر نے بیرسٹر سیف سے سوال کیا کہ یہ ملاقات کس کی خواہش پر ہوئی تھی؟ جس کے جواب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ اور سکیورٹی اداروں سے رابطہ کرنا سینیئر حکومتی اہلکار کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔‘
شاہزیب خانزادہ نے پھر سوال کیا کہ کیا یہ ملاقات اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی؟ جس کا بیریسٹر سیف نے کوئی واضح جواب نہیںں دیا۔ پروگرام اینکر کے اس سوال پر کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں ہو گی تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اب علی امین گنڈاپور بھی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے؟ اس کے جواب میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’عمران خان نے چھ لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی امور پر بات چیت کے لیے نامزد کیا تھا لیکن علی امین گنڈا پور تو وزیراعلی ہیں اور ایک صوبے کے سربراہ ہیں تو میں نہیں
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی، قانونی اور انتظامی امور پر رابطہ ہوتا ہے تو وہ تو کرنا پڑتا ہے وہ مجبوری ہے لیکن عمران خان کے حکم کے مطابق سیاسی امور پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ختم ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے 22 اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا گیا تھا۔