جناح سوئم کے سامنے دو راستے؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 12 / ستمبر / 2024
ان دنوں ہمارا زیر حراست کھلاڑی اور اس کی پارٹی سخت مشکل اور اضطراب میں ہیں۔ ایک طرف انہیں زعم ہے کہ پاکستانی عوام کے وہ مقبول ترین لیڈر اور پارٹی ہیں۔ دوسری طرف ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
نہ صرف لیڈر اتنے طویل عرصے سے جیل میں بند ہے بلکہ دو نمبر یا دوسرے درجے کی قیادت بھی زیر عتاب ہے۔ حکومت کا جب جی چاہتا ہے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈال کر انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح پکڑ لیتی ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ ناکام یا کامیاب جلسے کے بعد تو اخیر ہوگئی ہے۔ منتخب ممبران قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہی دبوچ لیا گیا۔ دیگر خوف کے مارے ہاؤس کے اندر ہی محبوس ہو کر رہ گئے۔ گو یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہد والے کی تقریر قابل اعتراض تھی۔ لیکن اس مبنی بر جبر طرز عمل کی جتنی بھی مذمت کی جاۓ کم ہے۔ پارلیمنٹ کا تقدس بہرصورت ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ اگرچہ کھلاڑی کا اپنا ریکارڈ اس حوالے سے ہمیشہ قابل افسوس ہی رہا ہے۔
بہرحال کچھ ٹھوس وجوہ ہیں جن کے کارن بانی پی ٹی آئی خود کو بانی پاکستان جیسا لیڈر سمجھتے ہیں۔ درویش نے 2018 میں ان کی شان میں ایک آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا ”عمران خان بھٹو ثانی“ اس پر پی ٹی آئی کے دوستوں نے اعتراض کیا کہ آپ نے جناح ثانی کیوں نہیں لکھا؟ عرض کی اس وجہ سے کہ ناچیز کی نظروں میں یہ رتبہ و مقام تو مرحوم قائد عوام لے اڑا تھا لہذا آئندہ اس حوالے سے کوئی مضمون باندھا تو اس کا عنوان ہوگا ”عمران خان جناح تھرڈ“ درویش نے ہر سہ شخصیات کا باریک بینی سے جو جائزہ لیا ہے اس کے مطابق ہمارے ان تینوں پاپولر جمہوری لیڈران میں ان گنت خصوصیات حیران کن حد تک ایک جیسی ہیں۔ گویا ایک ہی سانچے میں ڈھلے ڈھلاۓ ہیں۔ اگر اس اشتراک، مماثلت یا مائنڈ سیٹ کی تفصیلات بیان کیں تو ڈر ہے کہیں کالم ہی نہ رک جائ۔ے اس لیے تھوڑی مدح سرائی کو بھرپور سمجھا جائے۔
اب ہم اپنے اصل سوال پر آتے ہیں کہ اتنا پاپولر اور مضبوط لیڈر جس کے لیے امریکی صدر ٹرمپ سے لے کر روسی صدر پیوٹرن تک باہیں پھیلائے کھڑے رہتے تھے۔ جس کی محبت میں عوام کالانعام ناچ ناچ کر پاگل ہو جاتے تھے۔ آج اتنی بے بسی اذیت اور مشکل میں کیوں ہے؟ پی ٹی آئی کی پریشان حالی بھی دیکھی نہیں جا رہی۔ سیاسی جلسہ کرنا تو ان کا آئینی وجمہوری حق ہے سپریم جوڈیشری تک ان کی شان میں اس قدررطب اللسان ہے کہ معزز ججز کی اتنی بھاری تعداد جب اس کے حوالے سے فیصلہ سنانے بیٹھتی ہے تو عقیدت و محبت ترازو پر کیا خود آئین پر غالب ا ٓجاتی ہے۔ وارفتگی میں آئینی شقیں تک ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ محبت تو ویسے ہی قانون کی طرح اندھی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو باشعور لوگ عاشقوں معشوقوں یا فینز سے ڈر کر رہتے ہیں کہ نہ جانے کب وہ ستم ڈھانے پر آ جائیں۔
پی ٹی آئی اور اس کی زیر حراست اعلی ترین قیادت ان دنوں کس قدر پریشان ہیں انہیں سمجھ نہیں آرہی، اپنے ستم گروں یا حریفانِ اقتدار سے معاملہ کس نو ع کاکرنا ہے۔ پیٹرول بم پھینکنے ہیں یاپھول؟ سخت دھمکیاں دیتے ہوئے پرجوش احتجاج کرنے ہیں یا پرامن مذاکرات؟ کبھی “مذاق رات” کی گردان الاپتے ہیں اور کبھی سارے مذاکراتی دروازے بند کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ اور بڑبڑاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کے نام پر اسی طرح دھوکا کیا جا رہا ہے، جس طرح کبھی شیخ مجیب الرحمن اور ان کی عوامی لیگ کے ساتھ، یحیی خاں اینڈ کمپنی نے روا رکھا تھا۔ ایک طرف بات چیت دوسری طرف خوفناک آپریشن کا پلان، ہمارے ساتھ نو مئی سے دھوکہ دہی کا یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کھلاڑی صاحب نے مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟ اپنے ان سیاسی حریفوں سے جنہیں وہ اپنے پچھلے جنم سے چور چور کہتے نہیں تھکتے ہیں۔ یا اپنے ان طاقتور مہربانوں سے جن کی بدگمانیاں 9 مئی کے بعد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔
یہاں المیہ یہ درپیش ہے کہ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں کے بغیر نہیں بجتی ہے۔ اسی طرح مذاکرات کا ڈول بھی یکطرفہ طور پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ دوسرا فریق مذاکرات کرنے کے لیے تیار تو ہو۔ یہاں تو معاملہ کچھ اس نو ع کا ہے کہ ادھر وہ بدگمانی ادھر یہ نا توانی۔ نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے۔ مجھ سے، اورپھر یہ بھی واضح رہے کہ اتنا بڑا پاپولر عوامی لیڈر اور اتنی ہر دلعزیز پارٹی وہ ان فارم 45 والے دھاندلی زدہ لوگوں کو منہ کیوں اور کیسےلگائیں؟ اصل طاقتور جن کے سامنے یہ خوشامدی و چاپلوس خود سجدہ ریز ہیں، جو ان داتا سیاہ و سپید کے مالک ہیں، براہ راست ان کے ساتھ بات چیت کیوں نہ کی جائے؟ اگر آج وہ “نیوٹرل” ہیں تو کوئی بات نہیں ہماری حیثیت اور مقام کو تو وہ پہچانیں۔ گو آج ہم وہاں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں۔ ہماری نسبتیں قبلہ کے ساتھ اگرچہ دور کی مگر بہت گہری ہیں۔ اگر شک ہے تو اپنے فیض و برکات دونوں سے پوچھ لیں۔ یہ موقف ہے ہمارے پاپولر کھلاڑی بانی پی ٹی آئی کا۔
اس کے بالمقابل درویش کا موقف ہے کہ “ کرسکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی، اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا؟ اس شعلہ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا؟ “ عصا نہ ہوتو کلیمی ہے کاربے بنیا د، بھلا کمزور کو تاج و تخت یا اقتدار کون سا طاقتور دیتا ہے؟ یا تو اپنے پیکر خاکی میں اتنی جان پیدا کر کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
بصورت دیگر وہ جو کہتے ہیں ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دو۔ 9 مئی جو آج تمہاری اتنی بڑی پھانس بنی ہوئی ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی کو بھی اتنا ہی ہڈ اٹھانا چاہیے جتنے جوگا وہ ہو۔ حضور آپ نے اپنے فیض عام کے جھانسے میں آ کر وہ کچھ کر ڈالنا چاہا تھا جس کی آپ میں طاقت و تاب نہ تھی۔ ایسا کچھ کرنے یا بھاری پتھر کو ہاتھ ڈالنے سے قبل اپنا وزن تولنا چاہیے تھا۔ آخر ناکام بغاوت کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کے مضمرات کیا ہوتے ہیں؟ کیا یہ پیشگی پیش نظر نہیں رہنے چاہییں؟ افسوس آج بھی آپ لوگوں کی سوئی وہیں پھنسی ہوئی ہے آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ مکافات عمل ہے۔
کیا آج بھی آپ اتنے سٹوڈنٹس اپنے ساتھ باہر نکال سکتے ہیں جتنے کابل کے ستم گروں نے نکالے یا جتنے ڈھاکہ میں نکلے؟ 9 مئی ہو یا آٹھ ستمبر، اگر تو اتنے بڑے عوامی جتھے آپ لوگ بھی نکال سکتے، جتنے اکتہر میں شیخ صاحب کی عوامی لیگ نے نکالے یا 5 اگست کو ان کے مخالفین نے نکالے یا سولہ اگست چھیالیس کے دن جناح نے نکالے، پھر تو آپ بھی آج کے بانی بنگلہ دیش یا بانی پاکستان سب کچھ ہوتے۔ بصورت دیگر آپ اپنے کچھ ہمدردوں کو بیچ میں ڈالتے ہوئے، اسی طرح باہر کا راستہ ناپو جیسا کبھی ٹیڑھی راہوں کے سیدھے مسافر نے ناپا۔ اور آج پھر خاموشی کے ساتھ وہ سب پر حاوی ہے وقت بدل جاتا ہے۔ تدبر اسی کا نام ہے ورنہ لاحاصل قید میں سڑنا یا پھندے پر جھولنا کون سا مشکل ہے؟ بس تھوڑی سی حماقت چاہیے جو آپ لوگوں کے پاس بدرجہ اتم موجود ہے….
اگر کسی کی یہ خوش گمانی ہے کہ وہ کمزور عوامی حمایت کے بل بوتے پر طاقتوروں سے ٹکرائے گا اور انہیں پاش پاش کر دے گا، تو کم از کم اس وقت یہ ناممکن گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ شیخ چلی صاحب جتنی جلدی ممکن ہو ان بھول بھلیوں سے باہر نکل آئیں۔