جرمنی میں انتہاپسند سیاسی پارٹی کی کامیابی

جرمنی کے دو صوبوں میں انتخابات کے موقع پر انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے تقریبا 30 فیصد ووٹ لے کر خود کو ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ثابت کردیا ہے۔

ابھی عوام اس دھچکے سے باہر بھی نہ نکلے تھے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سی ڈی یو  نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور جس کے نتیجے میں جرمنی کی خاتون وزیر داخلہ نے یہ اعلان کر ڈالا کہ 16 ستمبر سے جرمنی کی تمام سرحدوں پر ہونے والی تمام آمد و رفت کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ یعنی اس فوری عمل درآمد کیے جانے والے ایمرجنسی قانون کے تحت شنگن معاہدے میں طے کیے جانے والے یورپین یونین کے مابین سرحدوں کے درمیان بلا روک ٹوک سفر کی سہولت کو معطل کر کے جرمنی کی سرحدی پولیس ہر آنے جانے والے کو چیک کرے گی۔ اور اسے اپنی شناخت پاسپورٹ ویزا دکھا کر ہی جرمنی میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں شنگن معاہدے کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یورپین یونین کے مابین سرحدی جانچ پڑتال پاسپورٹ اور ویزے کی تکلفات کے استثناءکو اب قصہ پارینہ سمجھا جائے۔

سن 1989 کے دیوار برلن کے گرنے کے واقعات کے بعد، جرمنی ایک بار پھر بہت اہم سیاسی اور معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ دیوار برلن کے گرنے کے بعد ہی یورپ میں یورپین یونین کی تشکیل اور پھیلاؤ کا کام شروع ہوا تھا۔ سرحدی رکاوٹیں گرائی جا رہی تھیں۔ یورپین یونین کا تصور ایک ملک واحد کی صورت میں ابھر رہا تھا۔
یورپی یونین کے پھیلاؤ اور اس کی وجہ سے تجارتی معاہدے میں وسعت اور اس کے نتیجے میں ان ملکوں کی معاشی خوشحالی اور ترقی کا جو دور شروع ہوا تھا، بدقسمتی سے اسی دور میں امریکہ کے ایما پہ نیٹو کے پھیلاؤ کا بھی کام ساتھ ساتھ شروع ہو گیا تھا۔ نیٹو کے پھیلاؤ کے اثرات سیاسی طور پر یہ نکلنے شروع ہوئے کہ روس کے ساتھ  تعلقات خراب ہوتے گئے اور سارے کیے گئے معاہدے اور تجارت (اور پھر بعد میں یوکرین کی جنگ کی وجہ سے) معطل ہو کر رہ گئی۔

لیکن اس سے قبل افغانستان اور مشرق وسطی میں ہونے والی جنگی تباہی اور لوگوں کی بدحالی نے مہاجرین کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کو بھی جنم دیا، جس میں لوگ یورپ کی طرف ہجرت کرنے لگے تھے۔ یورپ کی طرف آنے والے مہاجرین میں نہ صرف جنگ ذدہ ممالک کے لوگ شامل تھے بلکہ ایک کثیر تعداد میں افریقی باشندے  بھی تھے جو اپنی معاشی بدحالی کے سبب ہجرت پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ اس وقت جرمنی اور یورپ ان مہاجرین کو خوش امدید کہنے میں پیش پیش تھا۔

ساتھ ساتھ یورپ میں ہنرمند افراد کی کمی سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ماہرین کی قلت نے یورپ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ایسے ہنر افراد کو اپنی جانب راغب کریں اور انہیں نوکریاں مہیا کریں۔ یورپ مگر بہت جلد ہی مہاجرین کی آمد سے پریشان بھی ہو گیا۔ لٹے پٹے بےگھر افراد کی آباد کاری، ان کی طبی اور سماجی کے اخراجات اٹھانے سے معذور نظر آنے لگا۔

یوکرین کی جنگ نے ایک بالکل ہی الگ نقشہ پیش کردیا۔ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ اب مزید بڑھ گیا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ یوکرین سے آئے مہاجرین کی وجہ سے یورپی حکومت اور عوام دونوں ہی کی توجہ صرف اور صرف یوکرینی مہاجرین تک محدود ہوگئی۔ دوسری جانب سیاسی پارٹیوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ عوام کی بے چینی اور حکومت کی مشکلات کا سیاسی فائدہ اٹھائیں۔ یوں مہاجرین کی بڑھتی تعدا ایک سیاسی ایجنڈا بن گیا۔ سیاسی پناہ گزینوں کے سیاسی پناہ ملنے کے امکانات ختم ہونے پر واپسی کا مرحلہ کافی پیچیدہ ہوتا ہے۔ جرائم پیشہ سیاسی پناہ گزین افراد کو فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیجے جانے کے مطالبات جرمنی اور یورپ میں ہمیشہ ہی ہوتے رہے ہیں۔ اب اس مطالبے میں شدت آگئی اور اسی مطالبے کی بنیاد پر انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کو جب 30 فیصد سے زائد ووٹ ملے تو بڑی سیاسی پارٹیوں میں کھلبلی مچ گئی۔

جرائم پیشہ سیاسی پناہ گزینوں کی حرکتوں سے عوام اور حکومت کے لوگ کافی پریشان اور بددل تو ہو ہی چکے تھے کہ اس دوران میں پے در پے ایسے واقعات پیش ائے جن میں سیاسی پناہ گزین ملوث تھے۔ گو کہ قانون کے تحت ان سیاسی پناہ گزین کو بہت پہلے ہی ان کے ملک واپس بھیج دیا جانا چاہیے تھا۔ سارے معاملات کو لے کر اے ایف ڈی پارٹی کی مقبولیت کو غالباً غنیمت جان کر سیاسی پارٹی سی ڈی یو نے بھی یہی نعرہ اپنا لیا۔ ان کے رہنما مسٹر میرز  نے بھی سیاسی ہیجان اور بے چینی سے فائدہ اٹھاکر اپنا سیاسی قد بڑھانے کو غنیمت جانا۔ ساتھ ہی ساتھ پارٹی کی گرتی ساکھ کو بھی سنبھالا دیا ہے۔ اور حکومت کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

وزیر داخلہ نے اعلان کردیا کہ 16 ستمبر سے جرمنی کے تمام بارڈر پر تعینات سرحدی پولیس متحرک رہے گی۔ ایسی کسی صورت حال پر یورپین یونین کے پارلیمنٹ کا ردعمل کیا ہوگا؟ یورپین یونین کے یکجا رہنے کے امکانات کس حد تک باقی رہیں گے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔ مگر جلد بازی کے اس فیصلے کے معاشی منفی اثرات ایک الگ موضوع ہے جس پر جلد ہی کچھ لکھوں گا۔