مودی پاکستان کیوں نہیں آرہے؟

اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کی تئیسویں سربراہی کانفرنس اکتوبر میں منعقد ہو رہی ہے جس کی تیاری کے لیے ایس سی او کے وزرائے تجارت کا اجلاس ان دنوں اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے۔

تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانا اور اقتصادی ترقی و خوشحالی کے منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ملک بدنصیب پاکستان اس وقت معاشی بدحالی کی جس پاتال میں گرا پڑا ہے اس کا تقاضا ہے کہ یہ نہ صرف ایس سی او کے رکن ممالک سے اقتصادی روابط بڑھائے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص بھارت کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات قائم کرے۔ اور اس حوالے سے سارک کی اہمیت کو بھی سمجھے۔ پاکستان ہزاروں صدیوں سے بلکہ ابتدائے آفرینش سے خطہ ہند کا جزو لاینفک رہا ہے جس کے سامنے ایک یا پون صدی کی کوئی اہمیت نہیں۔ تاریخی تہذیبی، نسلی اور لسانی طور پر ہماری ایکتا کا یہ عالم ہے کہ امریکا، کینیڈا، یورپ یا آسٹریلیا تو رہے ایک طرف ہمارے جتنے بھی اسلامی عرب ممالک ہیں، بالخصوص سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات ان میں تو ناچیز نے آنکھوں سے ملاحظہ کیا ہے کہ ہمارے پاکستانیوں کی جتنی قربت اور دوستی اپنے انڈین ہندو بھائیوں سے ہوتی ہے، اتنی اپنے اسلامی عرب بھائیوں سے نہیں ہوتی۔ بلکہ عربوں کے منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں بات تک نہیں کر پاتے۔

پاکستانی دوستوں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں ہندوؤں کے ساتھ یوں بھائیوں کی طرح باہم شیروشکر ہو کر ایک ہی مکان یا کمرے میں یوں گھل مل کر رہ رہے ہو۔ جبکہ ہمارے لیڈر نے کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ جواب میں اکثر ایک نیا سوال اٹھا دیا جاتا ہے کہ اگر ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے تو پھر ہندوستان میں 24 کروڑ مسلمان کیوں اکٹھے رہ رہے ہیں؟ وہ کفرستان سے ہجرت کر کے پاکستان کیوں نہیں آجاتے؟

ہم واپس شنگھائی تعاون تنظیم پر آتے ہیں جس کا بنیادی مقصد ہی رکن ممالک میں تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم انڈیا کو جب تک اپنا ازلی دشمن نہ گردان لیں، ہمیں کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہم انڈیا سے تجارتی تعلقات بحال نہیں کر سکتے۔ حالانکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انڈیا اور چائنہ تمام تر مخالفت کے باوجود تجارتی تعلقات میں بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ لیکن ہم نفرتوں کے بیوپار میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ انڈین پیاز، آلو اور ٹماٹر دبئی سے منگوا کر اپنے عوام کو کھلاتے ہیں، ان پر ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھاتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے تو انڈین پرائم منسٹر مودی کو ایس سی او سمٹ میں اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے اب اگر وہ تشریف نہیں لا رہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ درویش عرض گزار ہے کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ کالم ہذا کا مدعا ہی یہ ہے کہ ہم وہ سب کچھ کریں جنہیں اعتماد سازی کے لازمی و بدیہی تقاضے قرار دیا جاتا ہے۔ پچھلی طویل دہائیوں میں ہم باہمی اعتماد کو اس بے دردی سے برباد کر چکے ہیں کہ اب اس کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ ناچیز کو اچھی طرح یاد ہے کہ تین اگست2016 کو اسلام آباد میں منعقدہ سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے انڈین وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ تشریف لائے تو اس وقت ہمارے پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار  نے اپنے طاقتوروں کی نظروں میں اپنا چھوٹا قد بڑا کرنے کے لیے آداب میزبانی کی دھجیاں بکھیر دیں۔ یوں معزز مہمان کو دورہ ادھورا چھوڑتے ہوئے واپس جانا پڑا۔

وہ یہ کہتے ہوئے یہاں آئے تھے کہ اگر پاکستان ہماری جانب صرف آتنک واد یا دہشت گردی کو چھوڑ دے تو ہم نہ صرف مذاکرات کے لیے تیار ہیں بلکہ اچھی ہمسائیگی کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے بھی بھرپور تعاون فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ جب کوئی ملک میزبان ہو تو ڈپلومیسی یا سفارت کاری کے تقاضے وہ ہرگز نہیں ہوتے جس نوع کی زبان ہمارے اس متذکرہ وزیرنے استعمال کی تھی۔ جو بعد ازاں سیاست میں بھی گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔

واضح رہے کہ اس وقت بھی بھارت میں مودی سرکار برسر اقتدار تھی اس سے قبل یہ 1996 کا واقعہ ہے جب بھارت میں نرسیما راؤ کی کانگریسی حکومت تھی اور انڈیا نے ہمیں دا موسٹ فیورسٹ نیشن کا سٹیٹس دے دیا تھا۔ سفارتی طور پر یہی اقدام ہماری طرف سے بھی اٹھایا جانا مطلوب تھا۔ مگر ادھر سے اس نو ع کی آوازیں اٹھیں کہ نرسیما راؤ کی حکومت جانے والی ہے آئندہ جو نئی حکومت آئے گی اتنا بڑا اقدام نئی حکومت کے ساتھ کیا جائے گا تو زیادہ مفید رہے گا۔ پھر ہوا یہ کہ 96 کے نئے انتخابات میں پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی کی کولیشن حکومت قائم ہو گئی۔ تب ہمارے یہاں اس نوع کی بحث چھڑ گئی کہ دی موسٹ فیورٹ نیشن کو اردو زبان میں بیان کریں تو انڈین نیشن کے لیے اتنے پیارے شبد ہمارے حلق سے نہیں اتریں گے۔ کیوں نہ ایسے الفاظ کو ہی بدل دیا جائے پھر بات یہاں تک پہنچی کہ بی جے پی کے ساتھ دوستانہ تعلقات بوجوہ ہمیں قبول نہیں ہو رہے۔

یوں وقت گزرتا گیا۔ بھارت میں کولیشن کے تحت دیو گوڈا اور اندر کمار گجرال کے بعد 1998 دوبارہ واجپائی حکومت برسر اقتدار آگئی جو بی جے پی کی مضبوط حکومت تھی اور واجپائی نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھائے نہ رکھی وہ ”اعلان لاہور“ کے لیے بس میں بیٹھ کر یہاں پہنچے لیکن واپس مڑتے ہی خود ہمارے وزیراعظم کے بقول ان کی پیٹھ میں کارگل کا چھرا گھونپ دیا گیا۔ 2014 میں پرائم منسٹر مودی لاہور آئے تو جواباً انہیں پٹھان کوٹ اور اڑی کے تحفے تھما دیے گئے۔ اس کے بعد اعتماد سازی کے فقدان میں کون سی کمی یا کسر رہ گئی تھی؟ سو نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ 2019 میں مودی نے 370 کو تحلیل کرتے ہوئے خطے کا اصل کانٹا ہی نکال باہر کیا اور اب انڈین فارن منسٹر جے شنکر صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ وہ جو ایک مذاکراتی دور تھا اب اس کا باب بند ہو چکا۔

‎ 2019 میں سفارت کاری اس سطح تک گری کے ہم نے370 کی محبت میں انڈین سینئر ہائی کمشنر اجے بساریہ کو  حکم دیا کہ فوری طور پر ہمارا ملک چھوڑ کر یہاں سے نکل جاؤ۔  اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلا لیا، اس وقت ہمارے سفارتی تعلقات انتہائی نچلی سطح تک گرے پڑے ہیں۔ پرائم منسٹر واجپائی کی خصوصی دلچسپی سے جب کراچی اور ممبئی میں ہر دو ممالک کے کلچر سنٹرز منظور ہوئے تھے تو درویش کی یہ تمنا تھی کہ اس نوع کے کلچر سنٹرز لاہور اور یو پی کے تہذیبی صدر مقام لکھنو میں بھی کھولے جائیں۔ مگر اعتماد کے بحران و فقدان میں امن کی آشا واہگہ میں کہیں زخمی ہوئی پڑی ہے۔

باایں حالات پرائم منسٹر انڈیا نریندرا مودی کو اسلام آباد مدعو کرنے سے قبل لازم ہے کہ ہم لوگ تصورات اور خوابوں کے سحر سے نکل کر حقائق کی دنیا میں آئیں۔ یہ مانتے ہوئے کہ ہماری شہ رگ ہماری ڈوبتی اور دم توڑتی معیشت ہے نہ کہ کوئی اور ایشو۔ انڈیا ہمارا ازلی دشمن نہیں ہمارا صدیوں کا ہمسایہ، ماں پیو جایا ہے۔ ہم قدیمی ہندی تہذیب و ثقافت موئن جوداڑو، ہڑپہ اور گندھارا کے وارث ہیں۔ ہمارے لیے دنیا میں اگر کوئی قوم دی موسٹ فیورٹ کہلانے کی حقدار ہے تو وہ ہماری پیاری انڈین نیشن ہے۔ جو ہماری ہڈیوں، خون یا وجود کا حصہ ہے۔ جس کے اندر خود ہم سے بھی زیادہ راسخ مسلمان بستے ہیں۔ جس کی فوج اور پولیس میں بھی مسلمان ہراول دستہ ہیں۔ جس مقدس سرزمین میں ہمارے عظیم الشان عالی مرتبت شعرا و صوفیا محو استراحت ہیں۔ وہ ہمارا بڑا بھائی ہے۔