دہشت گردوں سے مذاکرات مسئلہ کا حل نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 13 / ستمبر / 2024
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا عزم دہرایا ہے۔ اور کہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ہمہ قسم عناصر کی بیخ کنی کی جائے گی۔ انہوں نے خیبر پختون خوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ فوج انہیں مکمل تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
دوسری طرف خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کے بعد اب تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے افغانستان سے بات چیت کی تائید کی ہے۔ اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے علی امین گنڈا پور کی طرف سے افغانستان وفد بھیجنے اور دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے صحافیوں کے اس سوال کو مسترد کیا کہ وزارت خارجہ کے ہوتے ایک صوبائی چیف ایگزیکٹو کیسے ایک غیر ملک سے مذاکرات کرسکتا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ’دفتر خارجہ کو چھوڑو۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ان لوگوں کو علی امین گنڈاپور کے پاؤں پکڑنے چاہئیں کہ خدا کے واسطے جا کر افغانستان سے بات کرو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی بات چیت کی کوشش کر رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
ایک سنگین قومی مسئلہ کے بارے میں ملکی فوج اور ایک اہم سیاسی پارٹی کی طرف سے دو متضاد آرا کا سامنے آنا مستحسن نہیں ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ دراصل قومی سلامتی کے سوال پر بھی اثر انداز ہورہا ہے۔ عمران خان یا خیبر پختون خوا میں ان کے وزیر اعلیٰ کو اس سے غرض نہیں ہے کہ ان کی بیان بازی سے صرف ملک دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ پاکستان کو بلیک میل کرکے اور اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کریں گے۔ اسلام آباد نے کبھی بھی کابل سے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا لیکن ابھی تک طالبان حکومت افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کی روک تھام میں تعاون پر آمادہ نہیں ہے۔ کابل حکومت کا عام طور سے یہی مؤقف ہوتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندروانی معاملہ ہے۔ افغان حکومت اس سلسلہ میں کوئی مدد فراہم نہیں کرسکتی۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے، پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز کے باوجود طالبان رہنما اس حقیقت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف حلیف بنانے میں کامیاب نہیں ہورہا تو خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ محض اس بنیاد پر کیسے کابل حکومت کو اپنا سخت مؤقف تبدیل کرنے پر راضی کرسکتے ہیں کہ دونوں پشتو بولتے ہیں۔ اگر مشترکہ زبان اور ثقافتی اثاثہ ہی دہشت گردی کے خلاف کسی مفاہمت کے لیے اہم ہوتا تو تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد کے پی کے میں پشتون بھائیوں کو ہی نشانہ نہ بنا رہے ہوتے۔ پاکستانی حکام کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس بارے میں کوشش کرچکے ہیں۔ وہ تو طالبان کے ہم زبان ہونے کے علاوہ ایک ہی مذہبی سوچ کے حامل ہیں اور متعدد طالبان لیڈر کسی زمانے میں مولانا کے زیر انتظام قائم مدرسوں میں تعلیم بھی پاچکے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ حقیقت یہی ہے کہ طالبان کی حکومت ٹی ٹی پی کے ذریعے مسلسل پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے۔ تاکہ اسلام آباد سے افغان پناہ گزینوں کے علاوہ تجارت وغیرہ کی ایسی سہولتیں حاصل کرسکیں جو پاکستانی معیشت کے لیے مہلک ثابت ہورہی ہیں۔
ایک صوبائی حکومت کی طرف سے اچانک براہ راست افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے پر زور دینا اور اسے سیاسی نعرہ بنانے کی کوشش کرنا بے معنی ہے اور اس کے قومی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ خارجہ امور اور دہشت گردی جیسے حساس موضوع پر تحریک انصاف ایسی بیان بازی کے ذریعے ہوسکتا ہے اپنے ووٹروں کے کچھ حلقوں کو خوش کرسکے لیکن اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد بہت خوشیاں منائی تھیں۔ ان کے چہیتے آئی ایس آئی کے اس وقت سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید بھی فوری طور سے کابل گئے تھے اور چائے کی پیالی ہاتھ میں پکڑ کر صحافیوں کو یقین دلایا تھا کہ ’سب ٹھیک ہوجائے گا‘۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مصالحت کے لیے بات چیت کا طویل سلسلہ شروع کیا تھا اور کسی حتمی وعدے یا معاہدے کے بغیر ہی کئی ہزار جنگ جوؤں کو پاکستان آکر آباد ہونے کی سہولت فراہم کی تھی۔
عمران خان اور ان کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو سب سے پہلے ا س بات کا جواب دینا چاہئے کہ ان کی تمام تر خیر سگالی کے باوجود کیا وجہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ہتھیار پھینکنے اور کسی معاہدے پر عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ اس ذلت آمیز ناکامی کے بعد تو عمران خان اور تحریک انصاف کو موجودہ حکومت اور پاک فوج کو یہی مشورہ دینا چاہئے تھا کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ کابل حکومت بھی قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس لیے ان کے دباؤ میں آنے کی بجائے دہشت گرد عناصر کے خلاف تندہی سے موجودہ مہم کو کامیاب بنایا جائے۔ پاک فوج اس سے پہلے بھی دہشت گردی کا قلع قمع کرچکی ہے لیکن خطے کے حالات تبدیل ہونے اور پاکستان میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں نرم حکمت عملی کی وجہ سے حالات ایک بار پھربگڑ ہے ہیں۔ ان حالات کو مزید مذاکرات کے ذریعے درست کرنے کا امکان نہیں ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے ضرور خوشگوار تعلقات استوار ہونے چاہئیں لیکن کسی بھی ملک کو دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پاکستان پر دباؤڈالنے اور اپنی شرائط منوانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
دہشت گردی کے بارے میں افغانستان کے ساتھ کے تعلقات کے تناظر میں معاملے کے اس پہلو پر بھی غور ہونا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ افغان حکومت براہ راست وفاقی حکومت سے معاملات طے کرنے کی بجائے خیبر پختون خوا کی حکومت کے ذریعے مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کر ملک میں افتراق کی صورت حال پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ علی امین گنڈا پور اور عمران خان کو کھلے دل سے یہ بتانا چاہئے کہ افغانستان سے مذاکرات کی بات کرتے ہوئے ، آخر خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کا کاندھا کیوں استعمال کیا جارہا ہے۔ کیا خیبر پختون خوا حکومت اور تحریک انصاف داخلی سیاست میں پریشانیوں کے تدارک کے لیے اس معاملہ میں افغانستان کا ’ترجمان‘ بننے کی کوشش تو نہیں کررہے؟ علی امین گنڈا پور خیبر پختون خوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا حوالہ دے کر افغانستان سے بات چیت کا اعلان کررہے ہیں ۔ بلکہ ایک تقریر میں تو وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ انہیں وفاقی حکومت یا اداروں کی پرواہ نہیں ہے۔ وہ خود ہی وفد افغانستان بھیجیں گے۔
حالانکہ وزیر اعلیٰ کے طور پر وہ قومی سلامتی پر فیصلے کرنے والی ایپکس کمیٹی کے بھی رکن ہیں اور دو روز پہلے کئی گھنٹے تک اسٹیبلشمنٹ کے مہمان رہنے کے طریقے نے بھی واضح کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے قریبی اور گہرے تعلقات ہیں۔ البتہ باہر آکر وہ یہ عوامی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا علی امین گنڈا پور اب فوج کے فیصلوں اور سیاسی اثر ورسوخ کے خلاف بغاوت کی قیادت کرنے والے ہیں۔ حالانکہ ایسا کوئی قیاس گمراہ کن اور جھوٹ ہوگا۔ البتہ جب عمران خان جیل میں بند ہونے کے باوجود کسی واضح اور ٹھوس معلومات کے بغیر علی امین گنڈا پور کی حمایت میں سخت بیان بازی کرتے ہیں تو اس سے سیاسی ماحول ہی خراب نہیں ہوتا بلکہ ملکی سلامتی کو بھی اندیشے لاحق ہوتے ہیں۔ یہی پاکستان کے دشمنوں کی بھی خواہش ہے۔ عمران خان کو سیاسی جوش و ولولے یا سادہ لوحی میں ایسی حکمت عملی سے گریز کرنا چاہئے۔
عمران خان ایک طرف کسی طرح اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی مشکلات کا خاتمہ ہو اور وہ کسی طرح اقتدار تک پہنچ سکیں تو دوسری طرف وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے قومی مفاد کے برعکس بیان بازی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ افغانستان سے صوبائی حکومت کی بات چیت کے حوالے سے ان کا بیان اسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اسٹیبلیشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہی انہوں نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ سوموار کی رات علی امین گنڈا پور اپنی مرضی سے کہیں نہیں گئے تھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں پکڑا ہؤا تھا۔ یہ مؤقف خیبر پختون خوا کی حکومت اور علی امین گنڈا پور کے دعوؤں کے برعکس ہے۔ عمران خان شاید سمجھ رہے ہوں گے کہ ایسی بلیک میلنگ سے فوج کو پریشان کیا جاسکے گا اوروہ اپنی شرائط پر کوئی سیاسی راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ملکی تاریخ کے سرسری جائزے سے ہی اس حقیقت تک پہنچا جاسکتاہے کہ فوج کو اان ہتھکنڈوں سے دباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کا قلع قمع کرنے کے لیے ملک کی سب سیاسی قوتوں کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔اس مقصد کے لیے کسی میثاق جمہوریت قسم کی دستاویز کے ذریعے سب سیاسی پارٹیوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ کسی صورت فوج کی مدد سے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی ہائیبرڈ نظام حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ملک میں امن و امان بحال رکھنا اور جنگ جو عناصر کا خاتمہ پاک فوج کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس حوالے سے آرمی چیف کے اس عزم کا خیر مقدم ہونا چاہئے کہ فوج پوری قوت سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر سے نبرد آزما ہوگی۔ قلیل المدت سیاسی مفادات کے لیے اس عزم کوکمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناپسندیدہ اور ناقابل قبول ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ کسی دہشت گرد گروہ یا اس کی پشت پناہی کرنے والی کسی حکومت کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ پاکستان کو مجبور سمجھ کر اس سے اپنی شرائط پر سمجھوتہ کرنے کا خواب دیکھے۔
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ یا تو پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے افغان حکومت کی پراکسی ہے یا یہ عناصر سیاسی انتشار پیدا کرکے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس گروہ اور اس کے پشت پناہوں سے اسی صورت میں مذاکرات کارگر ہوسکیں گے جب وہ غیر مشروط طور سے ہتھیار پھینکنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے پر آمادہ ہوں۔