عدالتی اصلاحات کے لیے آئینی ترامیم کا امکان
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- اتوار 15 / ستمبر / 2024
حکومت کا جوڈیشل پیکج (آئینی ترمیمی بل) اتوار کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے کا امکان ہے جس کے لیے رات گئے تک سیاسی رابطے جاری رہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا وقت اچانک تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو دن ساڑھے 11 بجے طلب کیے گئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کا وقت بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اب قومی اسمبلی کا اجلاس چار بجے جب کہ سینیٹ کا اجلاس شام سات بجے ہوگا۔ دونوں ایوانوں کے اجلاس کا علیحدہ علیحدہ ایجنڈا جاری کیا گیا ہے ۔ جس میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے اور اس پر کارروائی شامل نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت دونوں ایوانوں کے اجلاس میں رولز معطل کر کے آئینی ترمیمی بل پیش کر کے منظور کرا سکتی ہے۔ حکومت کو آئینی ترمیمی بل کی دونوں ایوانوں سے منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے اجلاس میں ممکنہ طور پر عدلیہ سے متعلق ترامیم کا بل پیش ہونے کی خبریں گردش میں تھیں۔
قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تقاریر کے بعد یہ کارروائی اتوار تک ملتوی کردی گئی تھی جسے کے بعد سیاسی رابطے تیز ہوگئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکا ہے۔ ایوان میں حکومتی ارکان اس مطلوبہ تعداد میں نہیں ہے۔
موجودہ حالات میں جمیتت علمائے اسلام (ف) کی حمایت حاصل کیے بغیر حکومت کے لیے کوئی آئینی ترمیم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو آئینی ترمیمی بل کی حمایت کے لیے منانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ ہفتے کی شب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔
وزیرِ اعظم کی ملاقات کے بعد وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ہفتے شب کم از کم دو بار ملاقات کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے گھر پہنچے۔ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔
صحافیوں کے مطابق ملاقات کے بعد وہ وکٹری کا نشان دکھاتے ہوئے روانہ ہوئے۔ تاہم جے یو آئی (ف) کی جانب سے ہفتے کو سیاسی سرگرمیوں کے بعد بھی آئینی ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل بھی صدر اور وزیرِ اعظم مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن سے ہفتے کو رات گئے جہاں حکومتی وفود کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا وہیں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے آئینی ترمیمی بل پر حکومت کی حمایت نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو وزیرِ اعظم نے حکومتی اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی و سینیٹ کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ حکومتی ارکان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عشائیے میں آگاہ کیا کہ اتوار کو ہونے والے اجلاسوں میں آئینی ترمیمی بل پیش کیا جا رہا ہے جس کی منظوری کے لیے حکومتی ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور اس کا تقدس قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کے ملکی و عوامی مفاد میں قانون سازی کی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی نوعیت کے معاملات صرف پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہونا چاہییں۔
اس سے قبل ہفتے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعت تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت تاریخ کی بدترین آئینی ترامیم کرنے جا رہی ہے اور عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے پارلیمانی روایات کو پیروں تلے روندا جا رہا ہے۔ حکومت اپنے اتحادیوں سے بھی آئینی ترامیم کا مسودہ چھپا رہی ہے۔ حکومت کے پاس آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو اغوا کر کے اور دباؤ میں لا کر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کے خلاف پارلیمنٹ میں مزاحمت کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے تو آئینی ترمیمی بل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین برس کے اضافے سے متعلق تھا مگر حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کے باعث اب آئینی ترمیمی بل کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن آئینی کورٹ کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس لیے آئینی ترمیمی بل میں آئینی کورٹ کے قیام کی تجویز شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاقِ جمہوریت معاہدے میں آئینی معاملات کے لیے آئینی کورٹ کے قیام کی شق بھی شامل تھی۔ آئینی عدالت کے لیے الگ چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ نئی عدالت کا مقصد آئینی مقدمات اور مفادِ عامہ کے مقدمات کو الگ الگ کر کے عدالت عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا بتایا جاتا ہے۔
آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کو بااختیار بنانے کے لیے ترامیم بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی عدالت میں آئین کے آرٹیکل 184، 185 اور 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو گی۔ آئینی عدالت کی تشکیل میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ججز کی نمائندگی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ آئینی عدالت میں صوبوں کی طرف سے آئین کی تشریح کے معاملات بھی زیرِ غور آسکیں گے۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی کی موجودہ بنیاد کو تبدیل کر کے نیا طریقہ کار لانے کی تجویز ہے۔ جس کے تحت چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے تین ججز کے نام سامنے آئیں گے جن میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس مقرر کرنے کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو ہوگا۔
مذکورہ تجاویز پر اتحادیوں خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کی جارہی ہے۔ اب تک جن نکات پر اتفاق ہوا ہے اس کی روشنی میں آئینی ترمیمی بل کو حتمی صورت دے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ آئینی ماہرین کے مطابق آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے علیحدہ علیحدہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کرانا لازم ہوتا ہے۔ حکومت کو سینیٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 64 اور قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار ہیں۔