عورت کو گالی
- تحریر علی اصغر عباس
- اتوار 15 / ستمبر / 2024
آج کل میڈیا میں علی امین گنڈاپور کی خواتین صحافیوں اور مخالف خواتین سیاسی لیڈروں کے بارے میں مغلظات بکنے کے بہت چرچے ہیں ۔ گالی بکنا غصے کی انتہا ہوتی ہے۔
بعض اوقات لوگ ایک گالی کا خمیازہ ساری عمر بھگتتے ہیں۔ اس کا اندازہ لگانا ہو تو کسی بھی حوالات یا جیل کا چکر لگا کر وہاں اسیروں کے انٹرویوز کریں۔ ان کی باتیں سنیں تو آپ بہت سوں کو کف افسوس ملتے کہتا سنیں گے کہ کاش میں نے کسی کی ایک گالی پر طیش میں آکر اس کو نہ مارا ہوتا تو مجھے پولیس والوں کی روزانہ سینکڑوں گالیاں اور جوتے نہ کھانے پڑتے ۔ ان پچھتاوا کرنے والوں کی داستانیں عام کی جائیں تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو جائے جو اس سب سے عبرت حاصل کرکے خود کو سدھار لیں ۔
سیانے کہتے ہیں کہ گالی بکنے والا اپنی شخصیت کا پردہ چاک کر کے اپنی خاندانی اصلیت کو سامنے لاتا ہے ۔ بدقسمتی سے گالیوں کی بدزبانی میں دشنام طرازی کا محور گھروں میں بیٹھی ہوئی وہ ماں ، بہنیں ، بیٹیاں بنتی ہیں جن کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ ان کے گھر کے مرد بیچ بازار میں ان کے جسموں سے کپڑے نوچ کر ان مستورات کو سر عام برہنہ کر رہے ہیں، جنہیں وہ اپنی عزتوں کے رکھوالے جانتی ہیں۔ وہ تو غیر مردوں کی غلاظت بھری زبانوں سے ان کے ابدان کے اعضا کی جیتے جی بے حرمتی کروا رہے ہیں ۔ جنسیت زدہ مریضانہ ذہن کے حامل افراد کی گندی سوچ انہیں زیر ناف بدن کے حصے کی بدبودار غلاظت سے ہر دم اس بری طرح سے آلودہ رکھتی ہے کہ بازار میں چلتی پھرتی عورتیں ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں میں سگی ماں ، بہن بیٹی کو بھی ہوسناک نظروں سے دیکھتے ہیں ۔
بدقسمتی سے مغربی معاشرے کی کہانیاں پڑھنے والے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں نے تو مقدس رشتے بھی سان پر رکھ لیے ہیں ۔ آج کسی گھر میں ماں بیٹا اکیلے رہتے ہوں کہ بہن بھائی یا باپ بیٹی، گٹر بنے دماغ ان کے بارے میں بھی شیطانی خیالات کے تانے بانے بنتے ہیں ۔ اس میں دیکھا جائے تو بنیادی غلطی ماں کی ہوتی ہے جو بیٹے کو گلی محلے میں کھیلنے کے لیے بھیجنے سے پہلے اپنے علاقے کے بارے میں جانکاری حاصل نہیں کرتی اور نہ اپنے گھر میں اسے رشتوں کی اہمیت اور ان کی تقدیس کا شعور دیتی ہے ۔
مشرقی معاشرے میں بیٹی کو تو پرایا دھن گردانتے ہوئے اس کی تربیت اس نہج پر کی جاتی ہے کہ وہ اپنے نئے گھر میں جاکر ماں باپ کا مان رکھے ۔ لڑکیاں بے چاری ماں باپ کی لج پالنے کے لیے انجان لوگوں کو اپنا بنانے کی تگ و دو کرتی ہیں لیکن اگر ان کا شوہر ہی بد خصلت نکل آئے ، بدقماش اور بد فطرت ہونے کے ساتھ ساتھ بد کردار اور بد زبان بھی ہو تو پھر بےچاری لڑکی تو زندہ درگور ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے آج کل یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ والدین کو اولاد کی تربیت میں لڑکیوں سے بھی زیادہ لڑکوں کی ذہن سازی اور شخصیت و کردار سنوارنے پر زیادہ زور دینا چاہیے ۔ کیونکہ مرد نے گھر اور باہر دونوں جگہ فعال کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ اچھے اخلاق و عادات و خصائل کا حامل ہوگا تو نہ صرف خاندان کے لیے نیک نامی کمائے گا بلکہ معاشرے کو بھی اپنی صلاحیتوں سے مستفید کرے گا۔
بات چلی کہاں سے تھی نکل کسی اور طرف گئی ۔ در اصل ہمارے سیاستدان طبقے کی طرز سیاست اور کردار و عمل کے تضادات نے ہمارے ذہنوں کو مسائل کے انبوہ میں اس بری طرح الجھا دیا ہے کہ اب کسی انسان کا معتدل اور متوازن رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ بد خصلت اور بد فطرت کرپشن میں لتھڑے نام نہاد سیاست دانوں نے پورے معاشرے میں فساد برپا کر رکھا ہے۔ ان فسادیوں کو جب تک اوقات میں لانے کے لیے بے رحمانہ احتساب کا عمل شروع نہیں کیا جاتا قوم و ملک ، بالخصوص ۔نسل نو کا مستقبل مشکوک رہے گا ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے ۔ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے تو گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور یقیناً میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں۔