کابینہ کا اجلاس مؤخر، آئینی ترامیم آج بھی قومی اسمبلی میں پیش نہیں ہوں گی

  • سوموار 16 / ستمبر / 2024

آئینی ترامیم کی آج کابینہ سے منظوری غیر یقینی ہو گئی ہے۔ اس لیےقومی اسمبلی میں بھی آج آئینی ترامیم پیش نہ کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس تاحال طلب نہیں کیا گیا ہے۔ جب کہ آئینی ترامیم سے متعلق خصوصی کمیٹی میں اتفاق رائے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن کی کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر متفقہ فیصلہ ہو۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئینی ترامیم پر ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے۔ آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کے بعد ہی مسودہ قومی اسمبلی اورسینٹ میں پیش کیاجائے گا۔ موجودہ صورت حال میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جس کے بعد حمزہ شہباز بھی لاہور روانہ ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی کمیٹی میں جب فیصلہ ہوجائے گا اور مولانا فضل الرحمٰن راضی ہوجائیں گے تو یہ بل وفاقی کابینہ میں پیش ہوگا۔ پھر قومی اسمبلی و سینٹ میں پیش کیاجائے گا۔ آئینی ترمیمی بل آج بھی قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کا 3 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے، جس میں  شہریت ترمیمی بل 2024 بھی شامل ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس بھی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں گزشتہ روز بھی پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ جس کی وجہ حکومت کی جانب سے بھرپور کوششوں کے باوجود اپوزیشن اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کوئی بھی اتفاق رائے نہ ہونا ہے۔ حکومت تاحال دو تہائی ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

 

دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آج قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جائیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون مطلوبہ اکثریت مانگتا ہے اگر حاصل نہیں ہے تو کوئی قیامت نہیں آتی۔ آئینی ترامیم ہو جائیں گی، اس میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئینی مسودہ کبھی سامنے نہیں آتا۔ مسودہ پہلے ایوان میں پیش ہوتا ہے، اس وقت نمبر گیم کا مسئلہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن بہت ساری چیزوں پر مطمئن تھے۔