ایران پاکستان گیس پائپ لائن

ہمارے ہاں ایک محاورہ ہے کہ سانپ کے منہ میں چھپکلی نگل سکے نہ اگل سکے۔ اس محاورے کے پیچھے چھپی حقیقت یہ ہے کہ سانپ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے اور زمین پر رینگنے والی مخلوق کو کھا جاتا ہے۔ ایک بار سانپ نے چھپکلی کو منہ میں ڈال لیا مگر وہ سانپ سے بھی زیادہ زہریلی اور قابو نہ آنے والی مخلوق نکلی۔

اب سانپ کے لیے مسئلہ بن گیا کہ اگر چھپکلی کو نگلتا ہے تو یہ اپنی موت کو دعوت دینے والی بات ہے اور اگر چھپکلی کو باہر اگلتا ہے تو پھر سانپ کی کمزوری ظاہر ہوتی اور عزت جاتی ہے. ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پاکستان کے گلے میں پھنسی چھپکلی ہے لیکن یہاں کمزوری یا عزت کی بات کے ساتھ ساتھ گھاٹے یا نقصان کا چکر بھی ہے۔ اگر پاکستان اپنی حدود میں پائپ لائن بچھا کر معاہدے کی تکمیل نہیں کرتا تو پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں 18 ارب ڈالر ہرجانے کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اگر تکمیل کرتا ہے تو امریکی پابندیوں کا سامنے کا خدشہ ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔

اب پہلا سوال یہ ہے کہ کمزور تھی تو لڑی کیوں کے مصداق اگر ٹانگوں میں ہمت نہیں تھی تو معاہدہ کیا کیوں کر تھا؟ کیا معاہدہ کرنے سے پہلے بین الاقوامی قوانین اور امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا ادراک نہیں تھا؟ یہ معاہدہ 2013

 میں صدر زرداری نے اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے کچھ دیر پہلے کیا تھا۔ یا یوں کہیے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جاتے جاتے ایران سے گیس خریدنے کا ایک ایسا معاہدہ کر گئی جس پر عملدرآمد مشکل تھا۔ اس وقت بعض مبصرین کا خیال تھا کہ چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو سکون سے کام نہیں کرنے دیا گیا بالخصوص صدر زرداری کو پانچ سال سخت دباؤ میں رکھا گیا اور ان کی صدارت کا زیادہ عرصہ انہیں ایوان صدارت میں قیدی کی طرح گزارنا پڑا تھا اور پھر زرداری صاحب جاتے جاتے اگلی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینے کے لیے ایسا معاہدہ کر گئے جو اسٹیبلشمنٹ اور اگلی حکومت جو ن لیگ کی تھی کے لیے گلے کی ہڈی بن کر پھنس جائے۔

اس بات میں وزن اس لیے بھی ہے کہ اگر زرداری صاحب اس معاہدے میں سنجیدہ ہیں تو اب اس کی تکمیل کرنا ان کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اب وہ ایک بار پھر صدر بھی ہیں، وفاقی حکومت ان کے سہارے پر ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بھی مثالی ہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے کیے گئے معاہدے پر عمل نہیں کروا سکتے؟ زرداری صاحب کے یہ معاہدہ کرنے کی نیت تو وہ جانتے ہیں یا اللہ جانتا ہے لیکن بطور پاکستانی زرداری صاحب کے اس کارنامے کو ہم ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ میرے خیال میں یہ معاہدہ پاکستان کی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں انرجی کا بحران ہے۔ بالخصوص پاکستان کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ پچھلے تین سال سے نئے گیس کنکشن پر پابندی عائد ہے اور بیشتر علاقوں میں گیس کی شدید لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے.

ایران کئی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عالمی اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کا نظام اچھا چل رہا ہے. اس وقت پوری دنیا میں ایران وہ ملک ہے جو اپنے عوام کو سب سے کم قیمت بجلی فراہم کر رہا ہے۔ اور اپنی ضرورت جو 90 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے پوری کرنے کے بعد ایران عزاق، ترکیہ اور وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی بجلی فروخت کر رہا ہے. اور پاکستان کو بھی متعدد بار سستی بجلی کی پیشکش کر چکا ہے۔ لیکن پاکستان ایران کے ساتھ تجارت سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ شاید پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد نہیں ہے۔ اگر بھارت، عراق، ترکیہ، وسط ایشیائی ریاستیں اور کئی افریقی ممالک ایران کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا؟

ہمیں اس بات کا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے کیا پابندیاں ہیں؟ اگر امریکہ کی طرف سے کوئی یکطرفہ پابندی ہے تو پاکستان کو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے ملکی مفاد کے مطابق دنیا کے ساتھ تعلقات اور تجارت کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ 2013 میں ہونے والے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے فوری بعد ایران نے اپنی طرف سے پائپ لائن پر کام شروع کر کے لگ بھگ 3 برس میں مکمل کر لیا تھا۔ اور تب سے پاکستان کی طرف سے کام کا منتظر ہے۔ یہ ایران نے پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے اتنا زیادہ صبر کیا ہے اور اب جا کر یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرتا تو معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جا سکتا ہے، جس سے پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے ایوانوں سے بھی کئی بار یہ صدا اٹھتی ہے کہ اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا جائے لیکن وفاقی حکومت لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے وقت ضائع کر رہی ہے۔ 2013 سے 2018 تک ملک پر ن لیگ کا راج رہا، پھر ساڑھے تین سال عمران خان کی حکومت رہی، دو سال پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار رہے۔ اب ایک بار پھر ن لیگ کی پیپلز پارٹی سمیت دوسری اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت ہے لیکن کسی بھی حکومت یا جماعت نے اس منصوبے پر پیشرفت نہیں کی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس معاہدے پر عملدرآمد میں سول حکومت بااختیار ہی نہیں ہے۔ اور یہ کہیں اور سے ڈکٹیشن لیتے ہیں بہرحال جو بھی ہو، یہ منصوبہ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے پیچھے جو بھی محرکات ہیں وہ عوام کے سامنے لانے ہوں گے۔ اور وزیر اعظم کو یہ سارا معاملہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں سامنے رکھنا چاہیے۔ اور اس پر کھلی بحث کروا کر ایسا فیصلہ کیا جائے جو پاکستان کے مفاد میں ہو اور جس سے یہ بھی ظاہر ہو کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تجارت کے معاملات میں اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے۔

ہم باوجود اس کے کہ اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل کروانے سے معذور رہا، اقوام متحدہ کے قوانین کا احترام کرتے ہیں۔ مگر کسی یکطرفہ پابندی کو قبول نہیں کر سکتے۔