محمد ﷺ کی ذات مکمل ضابطہ حیات ہے
- تحریر محمد زیشان جاوید
- منگل 17 / ستمبر / 2024
یہ آپ کا عقیدہ ہے محبت ہے اور اپ کی ایک سچی لگن ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا اظہار ہے اور بے شک اس کا صلہ آپ کو ضرور ملے گا۔ لیکن اس سب سے علاوہ اور بہترین عمل جو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بتائی گئی تعلیمات کے مطابق گزاریں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مشکل ہے کیونکہ سچ کا راستہ اور دین کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ اس میں اپ کو بہت سے مواقع پر الگ ہونا ہوتا ہے۔ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ جس طرح اگر لوگ حرام کما رہے ہیں تو اپ کو حرام سے بچنا ہے۔ اگر لوگ جھوٹ بول رہے ہیں تو اپ کو جھوٹ سے بچنا ہے۔ اگر لوگ زنا کر رہے ہیں تو آپ کو زنا سے بچنا ہوتا ہے۔ اگر لوگ دھوکہ دے رہے ہیں تو اپ کو دھوکہ دینے سے بچنا ہے۔ انسانیت کی خدمت کرنی ہے۔ نہ صرف انسانیت کی بلکہ اس دنیا میں جتنے بھی جاندار ہیں، حیوان ہیں، کسی کو نقصان نہیں پہنچانا۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اج کل ایک ٹرینڈ بن گیا ہے، لوگ دین کی بات تو سنتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ جبکہ دین کی بات کو سننا صرف ایک ثواب ہے لیکن اس پہ عمل کرنا ایک جہاد بھی ہے۔ آج کے اس دور میں دین کے اوپر تھوڑا سا عمل کر لینا بھی بہت بڑا جہاد ہے۔
اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں آج سے پڑھنا شروع کریں تو اپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ایک مکمل نمونہ حیات ہے۔ ایک مکمل طریقہ کار ہے، زندگی کو گزارنے کا۔
آپ کو اندازہ ہوگا، ایک چھ سال کا بچہ جو اپنی ماں کو خود دفناتا ہے، جس کا نہ کوئی باپ ہے، نہ کوئی ماں ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور نبوت کی مہر لگنے کے بعد کہ اس وقت جب کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ماننے کے لیے راضی نہیں تھا کس طرح سے ان کے اپنے خاندان نے ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ برا بھلا کہا گالیاں دیں۔ گھر سے نکال دیا حتی کہ مکہ سے نکلنا پڑا۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر آپ کے گھر والے آپ کو گھر سے نکال دیں تو آپ پر کیا گزرے گی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صرف گھر سے نہیں ان کو مکہ شہر سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔
وہ وقت ضرور یاد کریں جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مکہ سے نکالا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سوچا کہ میں طائف چلا جاتا ہوں۔ وہاں کے لوگ مجھے تسلیم کر لیں گے مجھے قبول کر لیں گے۔ لیکن وہاں پر بھی ان کے ساتھ ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ اور اوباش لڑکوں کو ان کے پیچھے لگا دیا گیا اور انہوں نے پتھر مارے جس کی وجہ سے آپﷺ زخمی ہو گئے۔ اور اتنا زخمی ہوئے کہ ان کا خون ان کی نعلین مبارک تک آ گیا۔ لیکن سرور کائنات کے منہ سے کبھی بھی کوئی بد دعا نہیں نکلی۔
یہ وہ وقت تھا جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے کچھ صحابہ کرام رات کو خفیہ طور پر ملتے تھے اور کچھ احکامات جو اللہ کی طرف سے وحی کی صورت میں نازل ہوتے تھے، وہ ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے۔ یہ وہ مشکل وقت تھا کہ کسی بھی وقت کوئی بھی قتل کیا جا سکتا تھا۔ وہ رات یاد کریں جس طرح پورے مکہ کے لوگ نہ صرف کفار بلکہ یہود و نصاری سب مل کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے نکلے۔ وہ وقت بہت ہی ہولناک اور بہت ہی مشکل تھا۔ ذرا سوچیں جس شخص کے لیے پوری کائنات بنائی گئی، اس کو اپنے ہی شہر سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ ایک آزمائش تھی جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر تسلیم خم قبول کی۔ اور اللہ تعالی کی راہ پر نکل پڑے اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے باقاعدہ طور پر ایک سلطنت کا اعلان کیا اور مدینہ میں اسلامی قانون نافذ کیا اور یہودیوں کی منڈی میں سب سے پہلی دکان عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعے خریدی۔ اور اسلامی قوانین کے مطابق چلائی تاکہ لوگ وہاں سے خرید و فروخت کر سکیں، اور جائز منافع کے ساتھ تجارت کر سکیں۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے پوری منڈی خرید لی۔ اور مدینہ میں باقاعدہ طور پر اسلامی قوانین کے مطابق تجارتی بازار قائم کیا۔
اس کے بعد اسلامی فوج تشکیل دی گئی اور باقاعدہ طور پر ایک سلطنت کا اعلامیہ جاری کیا۔ ایک اسلامی ائین متعارف کرایا۔ اپنی سلطنت مدینہ کی حدود متعین کی گئیں اور اپنی فوجیں بارڈرز پر لگا دی گئیں۔ جس چیز کو مکہ کے کفار نے تسلیم نہیں کیا اور انہوں نے اعلان جنگ کیا۔ اس طرح اسلام کی تاریخ میں باقاعدہ طور پر جنگوں کا آغاز ہؤا۔ اگر آپ اس چیز کو ایک فکر کے ساتھ پڑھنا شروع کریں اور اس کو سمجھیں کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحریک کا اغاز کیا اور ایک شخص نے پوری دنیا پر اسلام کو پھیلایا۔ یہ آسان نہیں تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت ساری قربانیاں دیں۔ وہ جو کائنات کے بادشاہ ہیں، ان کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ آج اپ کے گھر میں سب کچھ آپ کو اللہ کی رضا سے کھلا ملتا ہے۔ لیکن کائنات کے شہنشاہ کائنات کے بادشاہ نے اپنا وقت بہت ہی مشکل حالات میں گزارا۔ جب انہوں نے اپنے پیٹ پر پتھر تک باندھے۔ لیکن انہوں نے کبھی اللہ کے سامنے ناشکری نہیں کی۔ بلکہ دنیا کو بھی یہ چیز دکھائی کہ اللہ سے ہر حال میں راضی رہنا چاہیے۔ یہی امتحان ہے۔ کیونکہ دنیا مختصر ہے جبکہ اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تو موت کے بعد ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بہت مشکل حالات میں زندگی گزارتی رہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کردار ان کی شخصیت ان کے اسوہ حسنہ اور ان کی تعلیمات یہ سب ہمارے لیے صرف اور صرف کہانی اور قصے نہیں ہونے چاہئیں، ہمارا ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ آج کا دن رحمتوں اور خوشیوں کا دن ہے۔ آج سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا میلاد ہے۔ ان کی آمد ہے تو آج کے دن ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ کم از کم ہم ان کی تعلیمات پر ایک ایک کر کے عمل کرنا شروع کریں۔
یقین کریں آپ کے ایک عمل سے اللہ اتنا خوش ہوگا کہ آپ کو باقی مراحل میں بھی کامیاب کرتا جائے گا۔ میں بھی ایک طالب علم ہوں۔ میں بھی اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ دعا ہے کہ ہم سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالی ہماری عبادات کو اور ہماری محبتوں کو قبول فرمائے۔ آمین