مخصوص نشستوں اور آئینی تجاویز کا قضیہ

حکومت عدالتی اصلاحات کے لیے آئین میں  ترمیم کی  تجاویز کو ’خفیہ‘ رکھتے ہوئے ، ان کے لیے پارلیمنٹ  میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اب ہزیمت شدہ حکومت  اس معاملے میں  رائے عامہ ہموار کرنے کا راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  حالانکہ حکومت کو ترامیم  خفیہ رکھ کر تجسس   پیدا کرنے کی بجائے، شروع سے ہی  ان ترامیم کو مباحثہ اور عام غور وخوض کے لیے پیش کرنا چاہئے تھا۔

وفاقی حکومت  کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  حلیف جماعتوں کے نمائیندوں کے ہمراہ  بدھ کے روز مجوزہ آئینی ترمیمی پیکیج کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ اور  مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے  معلومات فراہم کریں گے۔ اعظم نذیر تارڑ پریس کانفرنس میں مجوزہ  آئینی ترمیم میں شامل اہم نکات کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے تاکہ اس  بارے میں ابہام  دور ہوسکے۔ حالانکہ یہ ابہام خود  حکومت کی ناقص حکمت عملی اور ناجائز ہتھکنڈوں کی وجہ سے پیدا ہؤا ہے۔ شہباز شریف کی حکومت نے غلط طور سے یہ قیاس کرلیا تھا کہ  مولانا فضل الرحمان بظاہر مزاحمت کرتے ہوئے، بالآخر پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر حکومتی ترامیم کے حق میں ووٹ دیں گے ۔ اس طرح یہ ترامیم کسی تشہیر کے بغیر آسانی سے منظور ہوجائیں گی اور حکومت اس کے ’ثمرات‘ سے استفادہ کرسکے گی۔

اب کہاجارہا ہے کہ وزیر قانون اعظم  نذیر تارڑ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیں گے۔ یعنی یہ اعتراف کیا جارہا ہے کہ معاملات کو خفیہ رکھ کر آئینی ترامیم لانا احمقانہ اور غیر جمہوری طریقہ تھا۔ ایسی اہم قانون سازی کے لیے عوامی منظر نامہ سے دور سودے بازی اور گٹھ جوڑ سے شبہات  اور سیاسی انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بعد از وقت عقل کے ناخن لینے سے حکومت آئینی ترامیم کے ایجنڈا  کی تکمیل میں کامیاب ہوتی یا نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ حکومت ابھی تک مولانا فضل الرحمان کو اس حوالے سے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ خبروں کے مطابق  مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے   مولانا فضل الرحمان کی ’ہٹ دھرمی‘ کے بعد کھل کر سامنے آنے اور آئینی  ترامیم پر رائے عامہ ہموار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے آج دن کے دوران میں مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات   کرنے سے گریز کیا البتہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات ضرور کی ۔ جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس ملاقات کے بعد  آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 199 میں ترامیم کی مخالفت کی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پی پی پی ہمیں اپنا مسودہ دے گی، ہم اسے دیکھیں گے اور اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گے۔ پی پی پی کے وفد کے ایک رکن نے اعتراف کیا کہ جے یو آئی ف کی ٹیم مجوزہ آئینی ترامیم کی شقوں اور اثرات پر مرکوز رہی۔ حکومت سے جے یو آئی (ف) کی قیادت کی جانب سے کسی مطالبے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی پی پی کے وفد نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کسی اور موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

آئینی ترامیم کا قضیہ اس حکومتی خوہش کا  تابع رہا ہے کہ درپردہ سیاسی جوڑ توڑ سے معاملات طے کرلیے جائیں۔ اس عمل میں مولانا فضل الرحمان کو رجھانے کی کوشش کی جاتی رہی حالانکہ   پارلیمنٹ میں ان کے کل 13  ارکان ہیں۔ ان میں  قومی اسمبلی کے 8 اور سینیٹ کے5 ارکان شامل ہیں۔ 442 ارکان پر مشتمل ایوان میں محض تیرہ ارکان کی پارلیمانی قوت رکھنے والی سیاسی پارٹی کو ’جوکر‘ کی حیثیت دے کر حکومت نے شروع سے ہی غلط حکمت عملی اختیار کی  تھی۔ حکومت کو یہ مان لینا چاہئے تھا کہ شہباز شریف کو اپنی پارٹی اور حلیف پارٹیوں کے ہمراہ بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کی حمایت کےسہارے  اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں جو خود حکومت میں شامل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی  حمایت سے  ہاتھ کھینچ لے تو شہباز شریف وزیر اعظم نہیں رہ سکتے۔ دنیا بھر میں پارلیمانی نظام حکومت میں اقلیتی پارٹیاں اقتدار سنبھال لیتی ہیں لیکن وہ کبھی اپنی حیثیت  کو فراموش نہیں  کرتیں اور پارلیمنٹ میں دوسری پارٹیوں کے مینڈیٹ کو کم وقعت نہیں سمجھتیں۔ اسی   لیے بیشتر صورتوں میں یہ انتظام کامیاب رہتا ہے تاآنکہ کوئی پارٹی کسی اصول کی بنیاد پر اس  اقلیتی حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان  کردے۔

شہباز شریف اپنی پارلیمانی حیثیت کو ذہن میں رکھے بغیر آئینی ترامیم کا قصد کر بیٹھے جس کے لیے پارلیمنٹ میں  دو تہائی اکثریت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے حکومت نے پیپلز پارٹی کے ساتھ  ’مفاہمت‘ کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام (ف) پر تکیہ کرنا  چاہا تھا۔  لیکن ا س کے لیے ہوم ورک نہیں کیا گیا۔  میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق  مولانا فضل الرحمان کی بنیادی شکایت یہ تھی کہ آئینی ترامیم کو خفیہ رکھا گیا اور ان پر عام مباحثہ کی دعوت نہیں دی گئی۔  اس شکایت کو دور کرنے کے  لیے حکومت نے جے یو  آئی ایف کو سیاسی لالچ دینے کی بھرپور  کوشش کی لیکن کسی اصولی بنیاد پر معاملات طے کرنے میں ناکام رہی۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور سینیٹر انوار الحق بھی مولانا کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔ ملاقات میں جے یو آئی (ف) کو بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت میں شمولیت کی پیشکش کی گئی۔ تاہم جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کسی پیشکش کا جواب  نہیں دیا۔  اس کی بجائے  انہوں نے  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور عوامی پاکستان پارٹی کے مفتاح اسمٰعیل کو دعوت دی جو گزشتہ چند دنوں سے جے یو آئی (ف) کے رہنما سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ’معاملات آگے نہیں بڑھے ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مجوزہ آئینی ترمیم کے بارے میں شاہد خاقان عباسی کی رائے  حاصل کی۔   بعد میں  مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی واحد دلچسپی آئین میں ترامیم کے سنجیدہ موضوع پر وسیع تر بحث کرنا ہے۔ ان کا کہنا  تھا کہ ’ مجھے ایسا نہیں لگتا کہ وہ حکومت میں کسی  عہدے کا مطالبہ کررہے ہیں‘۔

دیکھنا ہوگا کہ اعظم نذیر تارڑ بدھ کو پریس کانفرنس میں کون سی معلومات عوامی تائید حاصل کرنے اور مولانا پر سیاسی دباؤ میں اضافہ  کے لیے پیش کرتے  ہیں۔ اگر مولانا صرف  وسیع تر مباحثہ کے اصولی مؤقف ہی کے ساتھ آئینی ترامیم کا ساتھ دینے سے انکار کرتے رہے ہیں تو  اس سیاسی بلوغت کی تحسین ہونی چاہئے۔ تاہم مولانا سمیت یہ سب لوگ ملکی سیاست کے دیرینہ کھلاڑی ہیں۔   ان کے بیانات کے درپردہ کچھ ایسے مقاصد بھی ہوتے ہیں جن کے حصول کے لیے کسی  اصول کی بات کرتے ہوئے، اپنا سیاسی وزن بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو اس حکمت عملی کا ماہر مانا جاتا ہے اور انہوں نے ایک بار پھر  چابکدستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا  ہوگا کہ کیا حکومت اور مسلم لیگ (ن) نے اس قضیہ سے کوئی سبق سیکھا ہے یا وہ مسلسل  پرانی ڈگر پر گامزن رہے گی۔    یا تو جمیعت علمائے اسلام (ف) کو زیادہ سیاسی قیمت ادا کرنے کی پیشکش کی جائے گی یا  دوسرے ہتھکنڈے کے طور پر تحریک انصاف کے ارکان میں نقب لگانے اور پھر انہیں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

تحریک انصاف کو کمزور رکھنے کے علاوہ اس کی حمایت سے جیتے ہوئے ارکان  کو توڑنے کے لیے ہی حکومت سپریم کورٹ کی طرف سے مخصوص نشستوں کی تقسیم  کے فیصلہ پر شدید بے چینی کا اظہار کرتی رہی ہے۔   البتہ 14ستمبر کو فل کورٹ کے اکثریتی 8 ججوں نے   ایک وضاحتی حکم میں الیکشن کمیشن کی سرزنش کرتے ہوئے اسے اکثریتی حکم کے مطابق فوری طور سے  تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی  کی حیثیت مان کر  پارٹی کو تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا حصہ دینے کا حکم دیاتھا۔ یہ حکم  معمول کے مطابق سپریم کورٹ کی  ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوگیا تھا اور میڈیا نے بھی اسی حوالے سے اس کی تشہیر کی تھی۔ البتہ  سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک خط میں استفسار کیا گیا ہے کہ یہ حکم کیسے عدالت عظمی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوگیا۔  خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں نہ تو سپریم کورٹ نے کوئی کاز لسٹ جاری کی اور نہ ہی  متعلقہ  فریقوں کو نوٹس بھیجے گئے۔ ایک قانون دان نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روزنامہ ڈان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کا خط ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اندرونی اختلافات کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس خط کا ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 41 ارکان کے بارے میں اکثریتی فیصلہ کے برعکس ٹال مٹول کا مزید موقع دیا جائے۔

اس ٹال مٹول کا فائدہ موجودہ حکومت کے سوا کسی کو نہیں ہورہا۔  اسی لیے الیکشن کمیشن پر جانبداری اور موجودہ حکومت کی حمایت میں فیصلے کرنے کا الزام عائد ہوتا ہے۔  اصولی طور سے الیکشن کمیشن کو ایک واضح عدالتی حکم آنے کے بعد مزید تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے نشستوں کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کردینا چاہئے تھا۔ اسی طرح شہباز حکومت کو بھی  مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملہ کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنانے کی بجائے سیاسی وسیع القلبی   کامظاہرہ کرنا چاہئے۔  تحریک انصاف  کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی چند مزید نشستیں ملنے سے موجودہ حکومت کی اکثریت ختم نہیں ہوجائے گی۔ البتہ اپوزیشن مضبوط ہونے سے   حکومت کی نگرانی سخت ہوسکتی ہے۔

ملک کے جمہوری نظام میں   قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل کرنے والی  پارٹی حکومت بناتی ہے۔ اسے عوام کی رائے سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سیاسی پارٹیاں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ گھپلا کرکے عوامی نمائیندگی کے اصول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ شہباز شریف  کو بھی مان لینا چاہئے  کہ انہیں معمولی اکثریت کی بنا پر حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسے اپنا حق سمجھنے کی بجائے عوام کی  امانت   جان کر ملک و قوم کی بہتری کے  کام کے لیے استعمال کیا جائے۔  موجودہ یا کوئی بھی حکومت  اسی اصول سے گریز کرکے سیاست دانوں کے خلوص اور نیک نیتی کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔