آلودہ معاشرہ اور ماحولیاتی تناظر میں ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کی تحقیقی کاوش

ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب میں نے 1999 میں روزنامہ نیا دن کے اجرا کے لیے نوائے وقت کو دوسری مرتبہ خیر باد کہا تھا۔ اشرف جاوید پہلی بار اسی اخبار کے ساتھ صحافی کے طور پر منسلک ہوئے تھے۔

 ان دنوں وہ ملتان کے مضافاتی گاؤں میں رہتے تھے اور بہت مشکل حالات سے گزر رہے تھے۔ نیا دن میں انہیں معمولی تنخواہ ملتی تھی۔ اخبار کی سرکولیشن بہت اچھی لیکن مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ پھر یوں ہوا کہ مالکان کے باہمی تنازعات کے باعث اخبار کی بندش کا امکان پیدا ہو گیا۔ ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملی وہ اس جانب پرواز کر گیا۔ اشرف جاوید سے اس کے بعد گاہے گاہے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے سرائیکی شاعری کی، ریڈیو کے ساتھ صدا کار کے طور پر بھی منسلک رہے لیکن اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ 2013 میں ادبی بیٹھک کا اجرا ہوا تو اشرف جاوید اس بیٹھک میں باقاعدگی سے آنے لگے۔ ان کا عمومی رویہ سب کے ساتھ احترام اور محبت کا رہا۔

چند برس قبل انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ انہیں میرے شعری مجموعے درکار ہیں اور وہ اردو نظم کے ماحولیاتی تناظر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میری شاعری میں آپ کو صرف محبت اور مزاحمت کا ماحول ہی ملے گا جو تناظر آپ تلاش کرنا چاہتے ہیں شاید وہ دستیاب نہ ہو۔ اشرف جاوید حسب معمول مسکرائے اور کہا سر میں تلاش کر لوں گا۔ اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ گزشتہ ماہ ان کی کتاب موصول ہوئی اور میں نے اس کا جستہ جستہ مطالعہ کیا تو یقین جانیں لطف آ گیا۔ میری بیٹی نے خود چونکہ ماحولیات میں ایم فل کیا ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ پاکستان جیسے آلودہ ملک میں ( جہاں ماحولیاتی ہی نہیں ذہنی آلودگی بھی اپنے عروج پر ہے)  اس موضوع پر کام کرنا کتنا مشکل اور بے معنی ہے۔

اب ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کی کتاب پر بات کرتے ہیں۔ کتاب کا پہلا باب ماحولیات کے تعارف کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے جو 74 صفحات پر مشتمل ہے۔ صرف چند عنوانات ماحول کی اقسام کے حوالے سے ملاحظہ کیجیئے قدرتی ماحول، انسانی ماحول، جاندار ماحول، غیر جاندار ماحول اور پھر ان کی اقسام۔ ان اقسام کے علاوہ ماحول کو متاثر کرنے والی بہت سی آلودگیوں کو بھی تفصیل کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔

اگلا باب اردو ادب کی روایت میں ماحولیات کے عنوان سے ہے جس کا آغاز 1947 سے ہوتا ہے۔ اشرف جاوید کا بچپن چونکہ گاؤں میں گزرا اس لیے انہوں نے قدرت کے عناصر کو بہت قریب سے دیکھا۔ چرند، پرند، پھول، درخت، لہلاتی فصلیں، نہریں اور دریا سب ان کے مشاہدے میں آئے اور پھر شہر میں آنے کے بعد انہوں نے ماحول کو تباہ کرنے والے مناظر دیکھے۔ باغات کی جگہ ہاؤسنگ کالونیوں کی تعمیر ان کے مشاہدے کا حصہ بنی اور پھر جب انہوں نے مقالہ تحریر کیا تو یہ سب تجربات اس کا حصہ بنا دیئے۔

اس کتاب میں مولانا ظفر علی خان، حالی، سودا، امیر خسرو، حسرت موہانی، مولانا محمد حسین آزاد، کی شاعری اور تحریروں اور ان سے پہلے کلاسیکی شعرا اور لوک ادب سے بہت سے اشعار کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اس کتاب میں نظیر اکبر آبادی، میر حسن، ذوق، میر انیس، دیا شنکر نسیم، حفیظ جالندھری، علامہ اقبال، اختر شیرانی، ساحر لدھیانوی تصدق حسین خالد، ن م راشد، کشفی ملتانی، یوسف ظفر، قیوم نظر، اختر جعفری،  بیدل حیدری، علی سردار جعفری، جوش ملیح آبادی، تاثیر وجدان، مجید امجد، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، ظہور نظر، ساغر نظامی، احسان دانش، فارغ بخاری، اختر الایمان، خاطر غزنوی، رحمان فراز، انیس ناگی، اسرار الحق مجاز، مصطفیٰ زیدی، منیر نیازی، قتیل شفائی، احمد فراز، ناصر کاظمی، جعفر طاہر، فہمیدہ ریاض، محسن نقوی، سلیم کوثر، عرش صدیقی، اسلم انصاری، رفیق سندیلوی، آفتاب اقبال شمیم، ڈاکٹر روش ندیم، ڈاکٹر وزیر آغا، کشور ناہید، ڈاکٹر محمد امین، نوشی گیلانی، نصیر احمد ناصر، غلام حسین ساجد، ساقی فاروقی، ماہ طلعت زاہدی، غزالہ خاکوانی، علی اطہر شوکت، رضی الدین رضی، خاور اعجاز، نوشابہ نرگس، عباس تابش، پروفیسر انور جمال، نجمہ شاہین کھوسہ، انور زاہدی، ممتاز اطہر، محمد مختار علی، عمران ازفر، شہناز نقوی سمیت بہت سے شعرا کے کلام میں موجود ماحولیاتی عناصر کے تناظر میں کہے گئے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں۔

ڈاکٹر اشرف جاوید ملک نے بلا شبہ بہت عرق ریزی کے ساتھ یہ تحقیق کی۔ میں ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اگر انہوں نے اس سمت میں اسی ثابت قدمی کے ساتھ سفر جاری رکھا تو آنے والے دنوں میں مزید کامیابیاں ان کی منتظر ہوں گی۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)