موب جسٹس، نامنظور
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 18 / ستمبر / 2024
عید میلاد النبی پورے ملک میں حسب روایت بڑے ذوق شوق اور جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے مگر کچھ باتیں توجہ طلب ہیں جیسے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے میلاد شریف کے نام پر ہونے والی بد تہذیبی پر جس غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہ ہمارے لیے آئینہ ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب محترم کا مسلک وہابی یا دیوبندی نہیں تھیٹھ بریلوی مکتبہء فکر ہے۔ آپ فرما رہے ہیں کہ گزشتہ روز میں اسلام آباد سے براستہ موٹروے لاہور آیا تو 12 ربیع الاول کے میلاد جلوس میں پھنس کر رہ گیا 15 منٹ کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوا۔ جلوس کے آغاز میں بینڈ باجا تھا پھر گھوڑوں کی بگھیاں اور پھر ٹرالیاں، گلیوں میں جگہ بہ جگہ ٹرالے کھڑے کر کے ڈیک سے بلند آواز میں نعت کے نام پر موسیقی کانوں کے پردوں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ نوجوانوں کی بے مقصد آوارگی سے شریعت کا کھلواڑ کیا جا رہا تھا۔ بچوں کے ہاتھوں میں باجے تھے ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا رقص شتر بےمہار کی طرح سڑکوں کو بلاک کیے ہوئے تھا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے علما کرام سے مطالبہ کیا کہ وہ جشن میلاد کے نام پر ہونے والے طوفان بدتمیزی سے اعلان لا تعلقی کریں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی تو ایسی بد تہذیبی والی مذہبی ثقافت کے داعی نہ تھے آپ لوگ مستحبات کو اتنا مت بڑھائیں کہ عوام انہیں فرض سمجھ لیں۔ پھر آپ علما بھی اسے نہ روک سکیں یہ بے ہنگم ہلڑ بازی میلاد کے نام پر دھبہ ہے۔
جامعہ نعیمیہ کے مہتمم محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ایک باوقار دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے دادا حضرت مفتی محمد حسین نعیمی نہ صرف اہل سنت والجماعت کی آواز تھے بلکہ تمام دینی مسالک و طبقات میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ راغب نعیمی صاحب کے والد محترم ڈاکٹر سرفراز نعیمی زندگی بھر سچائی کے علمبردار رہے۔ ہمیشہ مذہبی جنونیت و انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف رواداری وانسان نوازی کی بات کی۔ اسی حق گوئی کی پاداش میں طالبانی دہشت گردوں نے جامعہ نعیمیہ میں گھس کر ان پر خودکش حملہ کیا۔ یوں انسانیت امن بھائی چارے اور اعتدال پسندی کی یہ آواز مقام شہادت پر سرفراز ہوئی۔جان دے دی مگر ظلم و جبر اور مذہبی جنونیت کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے۔ آج انہی کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی پاکباز صوفیا کرام خواجہ غریب نواز حضرت نظام الدین اولیا، حضرت داتا گنج بخش اور حضرت مادھو لعل حسین سرکار کے پیغام محبت کو اسی لگن اور محبت کے ساتھ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جنونیت پر تدبر اور ہلڑ بازی پر تہذیب و شائستگی لانا اپنا مشن خیال کرتے ہیں۔
درویش سے گفتگو میں ایک مرتبہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے فرمایا تھا کہ کسی ایسےشخص پر ہاتھ اٹھانا جو نہتا ہو اور جنگ نہ کر رہا ہو، ہرگز جہاد نہیں۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں خدمات سر انجام دینے والے رہنماؤں یا پادریوں یا ان کے عبادت گزاروں پر حملہ آور ہونا بھی جہاد نہیں، دہشت گردی ہے۔ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کو گرانا یا اسے نقصان پہنچانا حتیکہ کافروں کے کھیتوں کو اجاڑنا یا درختوں اور باغات کو نقصان پہنچانا بھی جہاد نہیں۔ دہشت گردی ہے۔ آج انہی کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی فرما رہے تھے کہ توہین مذہب پر کسی کو قتل کا فتوی جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ اگر کسی نے توہین کی بھی ہو تو اس کی سزا دینا ریاست یا حکومت کا کام ہے کسی فرد گروہ یا تنظیم کو شریعت نے ایسا کوئی حق نہیں دیا۔ آج معاشرے میں انتہا پسندی اور جنونیت زوروں پر ہے ہر شخص توہین کے الزام پر خود ہی سزا دینے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اسلام ہی نہیں ہمارے آئین اور قانون کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ہجوم کا موب جسٹس ناقابل قبول ہے۔ یہ غیر شرعی وغیر قانونی ہے
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارے قانون نے کئی سزائیں طے کر رکھی ہیں جیسے کے گستاخی رسالت کے لیے سزائے موت اور قرآن کی بے حرمتی پر عمر قید امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزا تین سال قید، صحابہ واہل بیت کی توہین پر سزا سات سال قید۔ اب ان تمام امور پرکسی فرد یا گروہ کو کوئی حق نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے یا کوئی اس نوع کا فتوی دے۔ میرے والد علامہ سرفراز نعیمی کو مساجد اور مزارات پر حملوں اور قتل کے خلاف فتاوی دینے پر شہید کر دیا گیا تھا۔ میں نے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف قتل سے متعلق فتاوی غیر شرعی و غیرآئینی قرار دیا تو مجھے بھی شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ دھمکیاں دی گئیں، چار پانچ سو ایسے میسجز آئے جو ناقابل بیان ہیں۔ قتل کا فتوی دینا یا قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف کی کوشش غیر شرعی و غیر آئینی ہے۔ کسی شخص نے توہین کی ہے اور آپ کو اس کا علم ہے پھر بھی آپ کو یہ حق نہیں کہ خود اس پر ہاتھ اٹھائیں۔ ہماری مذہبی جماعتوں نے توہین رسالت کے معاملے کو سینسیٹائز کر دیا ہے۔ ہمارے پنجاب میں 60 ہزار مساجد ہیں اور صرف 439 کاکنٹرول اوقاف کے پاس ہے۔ اس تناظر میں درپیش مسائل کی جڑ کو سمجھا جائے۔
ہماری سوسائٹی کی موجودہ گراوٹ کس قدر اذیت ناک جاۓ عبرت ہے کہ یہاں قاضی فائز عیسی جیسے مدبر و انسان نواز چیف جسٹس کو دہشت زدہ کرنے کیلیے قتل کی دھمکیاں ہی نہیں انعامات اور فتاوی تک جاری کر دیے جاتے ہیں۔ اور طاقتوروں میں بھی اتنا یارا نہیں کہ اس ننگی دہشت و بربریت کا قلع قمع کریں۔ سوسائٹی کے کمزور طبقات کو یہ کیا تحفظ دیں گے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین کی ذمہ داری پر فائز شخصیت اگر اس جنونیت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کیا طاقتوروں کو اس اندوہناک صورتحال کی تحقیقات کرتے ہوئے اس صریحی دہشت کا سدباب نہیں کرنا چاہیے؟
اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین کے علاوہ سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے بھی درویش کی گہری نیاز مندی، قربت اور دیرینہ دوستی ہے۔ ان کے منہ سے بھی اس نوع کی گفتگو اکثر سننے کو ملتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے اہل علم یا محققین کی اپروچ میں اور گلی محلے کے عام مولوی صاحبان کی سوچ میں کس قدرتفاوت ہے۔ اس ملک بد نصیب میں آج بلاسفیمی کے ایشو کو جس طرح خوفناک بنا دیا گیا ہے، اس سے بین المذاہب احترام اور مکالمے کی روایت مسخ کر دی گئی ہے۔ نتیجتاً سوسائٹی سے تحمل برداشت، رواداری، یگانگت، بھائی چارے اور انسان نوازی کا خاتمہ خوفناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ آج دین اور اسلام کے نام پر وہ کچھ عوام پر مڑھا جا رہا ہے جس کا خود پیغمبر اور صحابہ کرام کے ادوار میں تصور تک نہ تھا۔ آج ان بدعات پر یہاں طوفان بدتمیزی اٹھایا جاتا ہے۔
ابتدائے آفرینش سے مذاہب کی مقصدیت تو انسانی دکھوں کو بانٹا اور ان کا مداوا کرنا رہی ہے۔ خلق خدا کو بلا تمیز و تخصیص “عیال اللہ” یعنی خدا کا کنبہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خدا کا سب سے پیارا وہ ہے جو اس کے کنبے سے پیار کرے۔ اور سب سے ناپسندیدہ و مبغوض وہ ہے جو بندگان خدا کو تکلیف دے۔ کوئٹہ میں ایک انسان کو سرکاری تحویل میں جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، ایسی ذہنیت والوں کو یہ پڑھتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ:
سلام اس پر جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
جس نے خون کے پیاسوں کو عبائیں دیں
جس نے گناہ گاروں کو فرمایا کہ یہ میرے ہیں