حلقہ ارباب ذوق کا بسلسلہ عید میلادالنبی خصوصی اجلاس

ماہ ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف رنگ و نور کا سماں بندھ جاتا ہے جس کی خاصیت یہ ہے کہ سرکار کی ولادت باسعادت کے حوالے سے محبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے محافلِ میلاد النبی اور مجالسِ نعت کا بڑے پیمانے پر اہتمام کرتے ہیں ۔

پاکستان کے نام کے ساتھ چونکہ شروع سے ہی اسلامی مملکت کا لاحقہ لگایا گیا تھا جس میں لفظ جمہوریہ بھی شامل ہے سو ان دونوں الفاظ کی مسلسل بے حرمتی کرنے کے باوجود ریاست مجبوراً اسلامی تہواروں پر عوام کو خوش کرنے کے لیے تعطیلات کا اعلان بھی کر دیتی ہے اور سرکاری سطح پر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد بھی کر لیتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قومی سیرت النبی کانفرنس کی بنیاد رکھی تھی جس کا تواتر کے ساتھ انعقاد کیا جاتا رہا ۔ وزارت مذہبی امور کی جانب سے سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر لکھی گئی کتابوں اور نعتیہ مجموعوں پر انعامات بھی تقسیم کئے جاتے رہے ہیں جس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت کے دعوت نامے سرکار دربار سے راہ و رسم رکھنے والے افراد کو جاری ہوتے ہیں۔ جن میں تبرک کے طور پر کچھ معروف علما و سیرت نگاروں کو بھی بلا لیا جاتا ہے تاکہ میزبان سرکاری افسران کی نام نہاد غیر جانبداری کا بھرم قائم رہے۔ مگر سرکاری نعتیہ مشاعروں کا حشر وہی کیا جاتا ہے جو دوسرے عام مشاعروں کا ہوتا ہے یعنی دو چار معروف نام فہرست میں ڈال کر باقی خوشامدی اور چاپلوس شاعروں کے گروہ کچے کے ڈاکوؤں کی طرح قومی خزانے پر حملہ آور کروائے جاتے ہیں ۔

سرکار جو مرضی کرے ، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عقیدت سے سرشار مخلصانہ کوششیں کرنے والے اپنے تئیں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفلیں برپا کرتے ہیں اور خوب الفت و شیفتگی کے ساتھ ۔ ایسی ہی ایک تقریب برصغیر کی قدیم ادبی تنظیم حلقہ اربابِ ذوق لاہور  نے منعقد کی جوماضی میں ربیع الاول کے حوالے سے حلقے کے منعقد ہ اجلاسوں سے یکسر مختلف اور منفرد تھی جس کا سہرا حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے متحرک و فعال سیکرٹری نواز کھرل کو جاتا ہے جو زمانہ طالب علمی سے ہی علمی ، ادبی اور سیاسی و ثقافتی تقریبات منعقد کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر سیرت النبی کانفرنس ہو کہ نعتیہ مشاعرہ یا سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی بھی تقریب کا انعقاد ، نواز کھرل کا جوش و خروش اور جذبہ معاونت کرنے والے دوستوں میں بھی کرنٹ پیدا کر دیتا ہے ۔ حلقہ اربابِ ذوق کا امسال ربیع الاول کا پروگرام اپنے عنوان " نعتیہ موضوعات کا تنوع ضرورت و اہمیت" اور شرکا کے حوالے سے بہت عمدہ اور یادگار رہا ۔

پاک ٹی ہاؤس میں نعتیہ ادب کے حوالے سے گفتگو کی مہکار اور نعتیہ کلام کی بہار جوبن پر تھی ۔۔۔ اس خصوصی سیشن کی صدارت فروغ نعت کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے معروف نعت گو شاعر ، کالم نگار ، مدیر " مدحت " ، ٹی وی اینکر اور چیئرمین نعت فورم انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی نے کی جبکہ محرک بحث کے طور پر معروف سکالر علامہ ڈاکٹر محمد شہزاد مجددی نے نعتیہ ادب کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کے جائزہ پر مشتمل بھرپور اور جامع خصوصی گفتگو کی۔ سیشن میں معاصر نعتیہ ادب ، نعتیہ ادب کی روایت اور موضوعات نعت کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کرنے اور اپنا نعتیہ کلام پیش کرنے والوں میں صادق جمیل ، علی اصغر عباس ، واجد امیر ، عبدالرزاق ایزد ، اعجاز فیروز اعجاز ، سلطان محمود ، آفتاب جاوید ، حسنین مظہری ، خواجہ جمشید امام ، میاں شہزاد ، جشن عباس شامل تھے۔

واجد امیر کا ہدیہ نعت اجلاس کے لیے معینہ موضوع کی توضیح کے طور پر بہت اہمیت کا حامل تھا۔ ہوتا بھی کیوں نہ واجد امیر عصر حاضر میں نعتیہ ادب کی تخلیق میں کمال ہنر مندی سے جوہر نایاب کی حامل تخلیقات سے نعتیہ ادب کو بھی ثروت مند کر رہے ہیں۔ نظامت کےفرائض سیکریٹری حلقہ محمد نواز کھرل نے بحسن وخوبی انجام دیے۔

آخر میں ایک نعت شریف پیش ہے:

نادم ، گناہ گار ہوں کیسے دعا کروں
کس منہ سے آج آپ سے میں التجا کروں
سرتاپا عین آپ کے مطلوب سے ہوں دور
اس حال میں حضور کا کیا سامنا کروں
فسق و فجور, کفر و ضلالت میں غرق ہوں
اس معصیت میں ڈوب کے کیا حوصلہ کروں
جس مقصدِ وحید کو پیدا ہوئے رسول
یکسر بھلا کے شرک کی میں انتہا کروں
جو اختلاف باعثِ رحمت کہا گیا
صد حیف اس دلیل پہ سب سے لڑا کروں
قرآنِ پاک قسمیں اٹھانے کو رہ گیا
درسِ حدیث سن کے تو مفسد بنا کروں
میں اپنے آئنے میں کبھی جھانکتا نہیں
دن رات دوسروں پہ مگر افتراءکروں
جن مفتیانِ شاہ نے دیں کو کیا تباہ
ان کے عذاب کے لئے, کذب و ریا کروں
جن ہستیوں کی نسبتِ تقدیس سے ہوں پاک
اصغر برے عمل سے انہی کو برا کروں
اصغر جو خود محاسبہ کر ہی لیا تو پھر
توبہ کروں اور آگے سے شرم و حیا کروں