ایک گلاس دودھ
- تحریر محمد حسن
- سوموار 23 / ستمبر / 2024
(ایک بنگلہ کہانی سے متاثر ہو کر)
وبائی مرض پھیلنے کے بعد لاکھوں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ بہت سارے خاندان بکھر گئے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے غربت کی لکیرکے نیچے عوام الناس کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
شہر میں غریب لوگوں کی ٹولی سبھی کے سامنے عیاں ہورہی تھی۔ سڑکوں پر رات کے وقت کا منظر دیکھتے ہی دل منہ کو آجاتا۔ پہلے پہل شہر کے لوگ غریبوں کی مدد کرنے میں پیش پیش نظر آتے تھے لیکن غریب عوام میں روز افزوں اضافہ سے شہر کے لوگ اکتا گئے ہیں اور اب وہ انہیں نظر انداز کررہے ہیں ۔
گاؤں میں ایک لڑکا جس کے والدین اس وبائی مرض میں فوت ہوگئے تھے اور اس کی دیکھ بھال کو کوئی موجود نہیں تھا۔ خوشحال گھرانے کا یہ لڑکا پڑھنے لکھنے میں بہت تیز تھا۔ اس لئے اس کے اسکول کے ایک ساتھی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ شہر چلا جائے تاکہ وہاں کسی کی مدد سے وہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کر لے۔ لڑکے کو یہ مشورہ پسند آیا۔ اس نے شہر کا رخ کر لیا۔ گاؤں سے قریب چھوٹے سے شہرمیں پہنچتے ہی وہاں اس نے غریبوں کو مدد مانگنے پر لوگوں کی جھڑپیں دیکھیں۔
لڑکے نے مدد مانگنے کو عیب سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کے پاس کچھ رقم تھی۔ اس نے اس پیسے سے وہاں روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کردیا۔ وہ دن میں کاروبار میں مصروف رہتا اور شام کے بعد ایک گھر کے باہر لگی روشنی کے نیچے پڑھائی کرتا۔ شام کے بعد یہ راستہ باکل سنسان ہوجاتا اور لوگوں کی چہل پہل بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی۔ اب وہ پورے دن محنت کرتا اور شام کو مطالعہ، جو اس کا روز کا معمول بن گیا۔
اسی اثنا ایک خاتون کی نظر اس پر پڑی۔ پرانے اور گندے کپڑوں میں ملبوس یہ لڑکا ہر دن اپنے مطالعہ میں مصروف رہتا ہے۔ لڑکے کی عمر لگ بھگ اس کے بیٹے کی عمر کی تھی۔ اس خاتون کا بیٹا اور شوہر سمیت خاندان کے دیگر افراد اس وبائی مرض میں جان بحق ہو گئے تھے۔ اب یہ خاتون گائے کا دودھ بیچ کر اپنا گزارا کررہی تھی۔ ایک روز وہ لڑکا کام سے تھکا ہارا صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا، مطالعہ کا بھوت ایسے سوار تھا کہ وہ مطالعہ میں مصروف ہوگیا۔ اسی دوران اسے بہت بھوک لگی۔ اس نے سوچا کہ پاس والے گھر جا کر کھانے کے لئے کچھ مانگ لائے۔ کیونکہ پیٹ کی آگ بھلا کس کو چین سے رہنے دیتی ہے۔
لڑکا کھانے کی امید میں اس خاتون کے گھر گیا۔ صدا لگائی تو اس گھرسے خاتون نکلی۔ پوچھا کیا بات ہے تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ وہ کھانے کے بارے میں بات کرنے سے گھبرا رہا تھا۔ اس نے کھانے کی بات کئے بغیر ایک گلاس پانی کا پوچھا۔ خاتون لڑکے کی حالت دیکھ کر سمجھ گئی کہ وہ بھوکا ہے۔ چنانچہ وہ لڑکے کے لئے دودھ کا ایک بڑا گلاس لے آئی۔ لڑکے نے آہستگی سے دودھ پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے باہر آیا۔ اب اسے کچھ جسمانی طاقت محسوس ہوئی۔ پھر وہ اپنے مطالعہ میں مگن ہوگیا۔
دوسرے دن خاتون خود ہی ایک گلاس دودھ لے کر اس کے پاس پہنچی تو لڑکا بہت حیرانی سے خاتون کی طرف تکنے لگا۔ دودھ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا کہ ’اس دودھ کے بدلے آپ کو مجھے کتنا دینا پڑے گا‘ ؟
’تمہیں کچھ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ عورت نے کہا۔
’میری ماں نے مجھ سے کہا تھا کہ کسی سے مفت کچھ بھی قبول نہ کرنا‘۔ لڑکے نے جواب دیا۔
اس لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اس کے بعد وقتاً فوقتاً وہ خاتون لڑکے کو ایک گلاس دودھ پہنچا دیتی۔ لڑکا چپ چاپ دودھ لیتا اور خاتون کا شکریہ ادا کرتا۔ اس لڑکے میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کچھ نہیں بھولتا۔
اس نے مکمل طریقہ سے ثانوی امتحانات کے لئے تیاری کرلی اور امتحان میں حصہ لیا۔ ثانوی کے امتحان میں لڑکے نے پورے شہر میں غیرمعمولی نتائج حاصل کئے۔ صحافی جب اس غیر معمولی نتائج کے حامل طالب علم سے انٹرویوکے غرض سے ملاقات کی تو اس لڑکے کے حالات زار سن کر دنگ رہ گئے۔ دوسرے روز جب یہ انٹرویو اخبار میں شائع ہوا تو شہری انتظامیہ بھی حیران ہوگئی۔ انتظامیہ نے اس لڑکے کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے اسے ملک کےاعلیٰ تعلیمی ادارے میں وظیفہ سمیت تعلیم کا انتظام کردیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ لڑکا وبا اور مہلک بیماری کی ماہرین میں سے ایک بڑا ڈاکٹر بن گیا۔ اب وہ شہر کے بڑے ہسپتال میں بر سر روزگار ہے۔ لیکن اس کو اُس شہر سے بہت ہی قربت ہے جس شہر نے اسے آج اس مقام پر پہنچایا ہے۔ جب بھی کوئی مریض اس شہر سے آتا وہ ان کا خاص خیال رکھتا۔ ان کے علاج و معالجہ میں ہر طرح کی مدد کرتا۔
اسی دوران اس شہر کی ایک عورت شدید بیمار پڑ گئی۔ مقامی ڈاکٹروں نے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اسے خصوصی ہسپتال میں جانے کا مشورہ دیا۔ جہاں مہلک اور پیچیدہ امراض کا علاج و معالجہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سائیمن کو اس خاتون کو تفویض کیا گیا۔ جب ڈاکٹر سائیمن کو معلوم ہوا کہ اس شہر سے ایک خاتون علاج کے غرض سے اس کے پاس آئی ہوئی ہے تو حسب عادت وہ فورا ًاس مریضہ سے ملنے چلا گیا۔
اس خاتون کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی نمودار ہوئی۔ اس نے پہلی نظر میں خاتون کو پہچان لیا۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ اس خاتون کو بچانا ہی پڑے گا چاہے کچھ بھی ہو۔ کافی کوششوں کے بعد ڈاکٹر سائیمن نے خاتون کو اس کی بیماریوں سے نجات دلا دی۔
ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت سے پہلے ڈاکٹر سائیمن نے ہسپتال کے اکاؤنٹنٹ سے کہا کہ وہ خاتون کے علاج کا بل تیار کرے اور اسے بھیج دے۔ ڈاکٹر سائیمن نے بل کے کونے پر کچھ لکھا اور اسے اس خاتون کو بھیج دیا۔ عورت بل کھولنے سے گھبرا رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ ہسپتال کی رقم ادا نہیں کر پائے گی۔
خاتون نے بہت ہی ہمت سے بل کھولا تو بل کے کونے پر لکھے ہوئے جملہ نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ ہسپتال کے بل کے کونے پر لکھا ہوا تھا ’آپ کے علاج کی قیمت دودھ کا پورا گلاس ہے‘۔