لاہور میں شگفتہ شاہ کے نارویجین ادب کے تراجم پر ادبی نشست

ترجمہ نگاری کے عمل کو تخلیق نو سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک ماہر مترجم کی دیگر خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی مانی جاتی ہے کہ وہ دونوں زبانوں پر مکمل عبور رکھتا ہو تا کہ وہ زبان و بیان اسلوب اور ان تکنیکی مہارتوں کا بہ خونی استعمال کر سکے جو اس زبان کا خاصہ ہیں جس سے وہ ترجمان کر رہا ہے۔

اور بعینہ وہ اس زبان کی باریکیوں اور نزاکتوں سے پوری طرح آگہی رکھتا ہو جس زبان میں وہ ترجمہ کر رہا ہے ۔ شگفتہ شاہ صاحبہ کی ذات میں یہ جملہ خوبیاں موجود ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’’کھنوت ہامسن اور دیگر ادیبوں کے افسانے‘‘ میں موجود 19 کے 19 افسانے زبان و بیان پر ان کی قدرت، نارویجین تہذیب و ثقافت اور سماجی و اخلاقی اقدار سے گہری واقفیت کا پتہ دینے کے ساتھ ساتھ اردو زبان پر قدرت اور بامحاورہ ترجمہ کرنے کی صلاحیت کا بھرپور اظہار ہیں۔ ان سب خوبیوں نے مل کر ان کے اس کام کو منفرد حیثیت عطا کر دی ہے۔

شگفتہ شاہ پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عمر کے ابتدائی برسوں میں ہی ناروے چلی گئیں۔ اب انہیں ناروے میں رہتے ہوئے 40 برس سے اوپر ہو گئے۔ ناروے جا کر بھی انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور نارویجین زبان و ادب سے گہری شناسائی حاصل کی۔ ادب کی طرف میلان ان کی فطرت میں شروع سے ہی شامل تھا۔ اس فطری صلاحیت کا انہوں نے نارویجین سے براہ راست اردو تراجم کیلئے استعمال کرتے ہوئے اب تک چار اہم تراجم اردو دنیا کو پیش کیے ہیں۔ ان کے یہ تراجم اس حوالے سے اہم حیثیت کے حامل ہیں کہ اس میں انہوں نے انیسیویں صدی کے اہم ادیب بیورن ستیار بیورنسن (1910۔ 1832) ، (جو ناروے کے قومی ترانے کے خالق بھی ہیں) سے لے کر کھنوت ہامسن اور فرودے گرتین 1960، تک کے اہم افسانہ نگاروں بشمول الیگژندر شیل لاند، امالیے سکرام ، راگنل بیولسن، اوسکر بروتن، آرتھر عمرے، ارشیل آسکیلاسن کے نمائندہ اور منتخب افسانوں کے تراجم شامل کیے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان افسانوں کے تراجم کے مطالعہ کے دوران میں نے گویا ایک نئی اور ان دیکھی دنیا کی سیاحت کی۔ الیگژندر شیل لاند کے افسانہ ’’رقص کا سماں‘‘ کہ جس میں موجود لڑکی کا کردار پیرس سے تعلق رکھتا ہے اور جس کے ذریعے طبقاتی تقسیم کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ باقی کہانیوں میں ہمیں ناروے اور خاص طور پر اوسلو اور دیگر نارویجین شہروں کی زندگی کی سماجی، تہذیبی ، معاشی اور معاشرتی جھلکیاں ملتی ہیں۔ ہم ان کہانیوں میں کم و بیش ڈیڑھ دو سو سالہ ناروے کو سانس لیتے محسوس کرتے ہیں۔ ایک طرف اگر ہمیں بیورن تیسارنے کی کہانی ’’باپ‘‘ میں ایک نارویجین باپ کی بے بسی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف الیگژینڈر اور لیوناردہ میں محبت کو نہ پا سکنے کے دکھ میں اپنی ہی محبت کو جان سے مار دینے جیسا اقدام نظر آتا ہے۔

پھر ’’کھارن‘‘ میں معصوم کھارن کو یہ پتہ چلنے پر کہ وہ جس مرد سے خاموش محبت کیے جا رہی ہے، وہ پہلے سے ہی بیاہا ہوا ہے، اپنے آپ کو ختم کر لینا۔ امالیے سکرام کی کہانی ’’کھارن کی کرسمس‘‘ میں اکیسویں صدی کی شروع کی نارویجین عورت کی قابل رحم ہستی کا پتہ چلتا ہے۔ تو فرودے کرتین کی کہانی ’’ایک ٹیلی فون کال‘‘ میں کہ جو محض ایک ٹیلی فون کال ہی نہیں، ایک مرد کی موت پر تین انسانوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہوئی ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ کہانی کہ جس میں جاپان اور ناروے کے دو تہذیبی شہروں اور وہاں کی خواتین کی جذباتی اور نفسیاتی واردات کو بیان کیا گیا ہے۔ جن کا شوہر ایک ہی ہے۔ جو جاپانی ہے اور جب اس کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کی نارویجین بیوی، جاپانی بیوی کو اس کی موت کی اطلاع دینے کیئے یہ فون کال کرتی ہے تو ایک نہایت پیچیدہ صورتحال کی حامل کہانی جنم لیتی ہے۔

یہ سبھی کہانیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، جن کے مطالعے کے بعد شگفتہ شاہ سے ہمارا اور زیادہ نارویجین فکشن کے ترجمہ کا مطالبہ یقیناً بے معنی ہی ہو گا اور اس کی بنیادی اور بڑی خوبی ان کہانیوں کے تخلیقی تراجم ہیں۔ جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی لگتی ہے کہ انہیں چونکہ نارویجین سے براہ راست اردو میں ڈھال دیا گیا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ انہوں نے ترجمے کیلئے ایسی سلیس، رواں اور بامحاورہ اردو برتی ہے کہ کہانیاں پڑھتے ہوئے بے ساختہ دل سے داد نکلتی ہے۔

راقم (زاہد حسن) نے ان خیالات کا اظہار ’’کہانی گھر‘‘ کے خصوصی اجلاس می کیا۔ آزاد مہدی کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس ’’مطالعہ کتاب‘‘ کیلئے مخصوص کیا گیا تھا۔ جس میں شگفتہ شاہ کی تراجم پر مشتمل تصنیف ’’کھنوت ہامسن اور دیگر ادیبوں کے افسانے‘‘ پر گفتگو کی گئی۔ لاہور ٹی ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں شفیق احمد ، محمد احمد ، دعائے نور ، فریدہ احمد ، ریاض رضی اور دیگر ادبا نے شرکت کی۔

دعائے نور  نے کتاب میں شامل فرودے گریتین کا افسانہ ، ایک ٹیلی فون کال پڑھ کر سنایا۔ جس پر بات کرتے ہوے فریدہ احمد نے کہا کہ محض تین کرداروں پر مشتمل یہ بیانیہ افسانہ ایک شاہکار ہے۔ جس میں جہاں ایک طرف دو مختلف ملکوں اور تہذیبوں کی نمائندہ خواتین کی جذباتی اور نفسیاتی سطح پر ترجمانی کی گئی ہے، جس میں کہانی کے مرکزی کردار کی موت کا پتہ تو چلتا ہے۔ تاہم ہمارے سامے احساسات صرف خواتین کے ہی سامنے آتے ہیں۔ اس پر صاحب صدر آزاد مہدی نے صاحب مضمون سے اس ترجمے میں سے کچھ نمائندہ اقتباسات دوبارہ پڑھ کر سنانے کیلئے کہا تو تقریب میں موجود حاضرین کے سامنے ایک نمائندہ اقتباس پڑھا گیا جسے سننے والوں نے بے حد پسند کیا۔ نہ صرف پسند کیا بلکہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جلد سے جلد ان افسانوں کو پڑھنا چاہیں گے۔ اقتباس جو اس محفل میں پڑھا گیا، وہ یہ تھا:

’ڈبے میں موجود خطوط خوبصورت اور شاعرانہ تھے۔ اس میں کچھ تصویری پوسٹ کارڈ تھے جن میں جاپان کے برف پوش پہاڑوں اور جھاگ اڑاتی لہروں کے قدرتی مناظر دکھائے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ پر محبت کرنے والے جوڑوں کی تصاویر بنی تھیں لیکن خطوط زیادہ تر سیاہ قلم کے ساتھ سادہ اور سفید کاغذوں پر تحریر کیے گئے تھے۔
خطوط کے اس ڈھیر کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں کئی جواب طلب سوالات کلبلا رہے تھے۔ میں یہ تو جان چکی تھی کہ میرا شوہر اس جاپانی خاتون کے ساتھ ایک خوش و خرم زندگی بسر کرتا رہا تھا اور اس نے اپنی آدھی زندگی اس خاتون کے ساتھ بسر کی تھی۔ جبکہ اس کیلئے تو وہی ایک بھرپور زندگی تھی۔ انہیں آپ سے محبت تھی۔

دوسرے سرے سے میگاگے کی آواز ابھری۔ وہ آپ سے کبھی بھی جدا نہیں ہونا چاہتے تھے اور میں نے بھی ان سے کبھی اس بات کا تقاضا نہیں کیا تھا‘۔

سو، اسی طرح کے رواں ، سلیس اور خوبصورت زبان و بیان کے حامل ترجمے کے بارے میں صاحب صدارت آزاد مہدی نے کہا کہ ہم جیسے آدھی سے زیادہ عمر گزار چکے لوگوں کیلئے نارویجین فکشن سے یہ براہ راست ترجمہ ایک سوغات ہی تو ہے کہ ہم جو روس، فرانس، امریکا اور دیگر یورپی ممالک کے ادیبوں کے ہی تراجم پڑھتے چلے آئے۔ دنیا اور یورپ کے انتہائی شمال میں واقع اس ملک کے تراجم دراصل اردو اور اردو پڑھنے والوں کیلئے شگفتہ شاہ کے  احسان سے بڑھ کر ہے۔