لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت، تل ابیب پر حزب اللہ کا میزائل حملہ

  • بدھ 25 / ستمبر / 2024

اسرائیل نے منگل کی رات بھی جنوبی لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل سے کام لینے کے مطالبہ کیا ہے۔

حزب اللہ نے تل ابیب کے نزدیک موساد کے ہڈ کوارٹرز کو بلاسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اسرائیلی حکام نے اس حملہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میزائل کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا اور اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہؤا۔  خیال ہے کہ حزب اللہ اب بھی اسرائیل پر مہلک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔  اس میزائل حملہ کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت نوٹ کی گئی ہے۔

لبنان کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی رات ہونے والے تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید چھ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 بچوں سمیت مرنے والوں کی کل تعداد 560 سے زیادہ ہو گئی ہے

ادھر حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو ہونے والے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے میزائل اور راکٹ سسٹم کے انچارج کمانڈر ابراہیم قبیسی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں کے پیش نظر ہزاروں لبنانی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور ان افراد نے اب سرکاری سکولوں، عمارتوں اور عارضی مراکز میں پناہ لے رکھی ہے

اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے بیروت جیسے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ حزب اللہ کے کارندے شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بین الاقوامی ایئر لائنز کی جانب سے بیروت سے اپنی پروازیں معطل کرنے کے اعلان کے بعد زیادہ تر پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ بیروت ایئرپورٹ لبنان کا واحد سویلین ایئرپورٹ ہے۔ تاہم لبنان کی قومی ایئر لائن کے علاوہ عراقی اور ایرانی ایئر لائنز ابھی بھی کام کر رہی ہیں۔

لڑائی میں شدت آنے کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

اس دوران پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ ویٹیکن سٹی میں اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ وہ ’لبنان سے آنے والی خبروں سے غمزدہ ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں شدید بمباری سے ہلاکتیں اور تباہی ہوئی ہے۔‘