اصلاحات کے سبب پاکستان میں مہنگائی کم ہونے، معاشی بہتری کا امکان ہے: ایشیائی ترقیاتی بینک

  • بدھ 25 / ستمبر / 2024

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے قرض پروگرام کے تحت اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی کم ہوئی ہے اور معاشی ترقی میں اضافے کا امکان ہے۔

ستمبر کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جاری آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 24 -2023 میں پاکستان کی شرح نمو 2.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سال آئی ایم ایف کی طرف سے فراہم کیے گئے 3 ارب ڈالر کے قلیل مدتی قرض نے ملکی میں معاشی استحکام لانے میں مدد کی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں سال جولائی میں تین سالہ 7 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا  منظور ہؤا تھا۔ قرض کی باضابطہ منظوری کے لیے فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج ہوگا جس کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پُر امید ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری کے بعد ملک میں معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔ یہ معاہدہ سرکاری مالیات کو مضبوط کرنے، سماجی اخراجات اور تحفظ کو بڑھانے، زرمبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے، سرکاری اداروں سے مالیاتی خطرات کو کم کرنے اور نجی شعبے کے تحت ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک کے معاشی حالات اب بھی منفی خطرات سے دوچار ہیں۔ اے ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑے پیمانے پر بیرونی مالی ضرورت کے انحصار کی وجہ سے اس کی اقتصادی صورتحال بیرونی آمدنی میں کسی بھی کمی کے باعث غیر یقینی کا شکار ہے، جس سے کثیر الجہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے بروقت رقوم کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔

پالیسی کے نفاذ میں کوتاہیاں آمدن کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جس سے شرح تبادلہ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں نئی حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی اصلاحات کو سراہا گیا ہے تاہم اسے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، ادارہ جاتی تناؤ کے باعث اور آمدنی میں کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے بیرونی طور پر سب سے بڑا خطرہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں ہیں جن میں خوراک اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ملکی معیشت پر اثرات ہیں۔