آبادی کے طوفان پر کنٹرول مگر کیسے؟

ستارہ امتیاز کا اعزاز حاصل کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر ارشد چوہان ایک متحرک انسان بلکہ بے چین روح ہیں ہمہ وقت کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی دھن ان پر سوار رہتی ہے۔

اسی لگن میں انہوں نے جہاں گائنی میں ماؤں کےزیادہ خون بہہ جانے کے کارن ہونے والی اموات سے بچاؤ کی نئی تکنیک متعارف کرواتے ہوۓ ملک اور بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، وہیں وہ ہر سال اپنی میڈیکل تنظیم کرافٹ کے تحت پاکستان بھر کے نامور گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز کی سہ روزہ کانفرنسز منعقد کراتے ہیں۔ ان کے سیمینارز میں ملک وقوم کے اہم ایشوز زیر بحث لاۓ جاتے ہیں۔ حال ہی میں پروفیسر ڈاکٹر ارشد چوہان نے لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل میں ملک بھر سے آئے سینکڑوں میلز اور فیمیلز گائناکالوجسٹ کے سیمینار میں جس تشویش ناک ایشو کو موضوع بحث بنایا ہے، وہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی۔ اس طوفان پر قابو پانے کی حکمت عملی اور اقدامات پر محیط تھا۔

سیمینار کی صدارت ملک کی مایہ ناز لیڈی گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف  نے فرمائی جبکہ مہمانان گرامی میں پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف، ملک کے ممتاز صحافی دانشور اور اینکر پرسن مجیب الرحمٰن شامی ، کالم نگار و دینی سکالر پیر ضیاالحق نقشبندی اور محکمہ بہبود آبادی کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ ثمن رائے نمایاں تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے اپنی نیک تمناؤں کا پیغام بھیجا۔ وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔
اسی طرح ایڈیٹر جنگ چودھری سہیل وڑائچ اور معروف رائٹر ڈاکٹر یونس بٹ نے بھی سیمینار میں آنا تھا مگر بوجوہ نہ پہنچ سکے۔ پروفیسر ڈاکٹر شیلا انور نے سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری بطریق احسن نبھائی۔

ڈاکٹر خلعت النسا ، ڈاکٹر عفت چیمہ، ڈاکٹر نبیلہ شامی، ڈاکٹر شمسہ ہمایوں اور ڈاکٹر معیض ارشد نے سیمینار کی رونق بڑھانے میں بھرپور کاوش کی۔
کرافٹ  کے چیئرمین ڈاکٹر ارشد چوہان نے اپنے افتتاحی خطاب میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے اعداد و شمار کے ساتھ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مضمرات اور تباہ کاریوں کی تفصیلات بیان کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ازراہ تفنن کہا ایک گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے بچے جتنے زیادہ پیدا ہوں گے ہمارا اتنا ہی فائدہ ہے، اس کے باوجود ہم اس ایشو کو پاکستان کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے ان تمام تدابیر کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں، جن سے اس طوفان کو روکا جا سکتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی آبادی اگر آٹھ ارب انسانوں پر مشتمل ہے تو اس میں ہماری جنوبی ایشیا کی آبادی اس کا 25 فیصد ہے۔ پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کی مجموعی آبادی ایک ارب 80 کروڑ سے
متجاوز ہے۔ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ جبکہ اس کی پاپولیشن گروتھ بشمول انڈیا اور بنگلہ دیش سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت عالمی گروتھ کی ایوریج 1.05 ہے جبکہ پاکستان کی گروتھ 2.4 ہے اور فرٹیلٹی ریٹ 3.6 ہے۔

اس کے بالمقابل انڈیا جو ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی کا مسکن ہے اس کا گروتھ ریٹ ہم سے نیچے 2.2 اور بنگلہ دیش کا 2.0 ہے ہماری 64 فیصد آبادی 30 سال کی عمرسے کم افراد پر مشتمل ہے آبادی کی یہ رفتار جاری رہی تو 2050 تک ہماری آبادی دگنی ہو جائے گی۔ اور ہم آبادی میں دنیا کا تیسرا بڑا گنجان آباد ملک ہوں گے۔ جبکہ وسائل اور ترقی میں پسماندہ ترین۔

ملک کےمعروف دانشور اور صحافی مجیب الرحمن شامی نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن قرار دیتے ہوئے اس کا تقابل بنگلادیش سے کیا۔ شامی صاحب کا استدلال تھا کہ پاکستان ٹوٹنے سے پہلے بنگلا دیش جو اس وقت مشرقی پاکستان تھا اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ اور سیاسی طور پر یہ ایک مسئلہ بنی رہتی تھی کہ 56
فیصد کو کس طرح پیرٹی کا اصول لاگو کرتے ہوئے نمٹا جائے۔ زیادہ آبادی کی وجہ سے قومی اسمبلی میں ان کی سیٹیں بھی زیادہ بنتی تھیں۔ آج مقام حیرت ہے کہ پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی آبادی کو کس خوبی سے کنٹرول کیا ہے۔ آج وہ 18 کروڑ جبکہ ہم 25 کروڑ کے ہندسے کو بھی عبور کر رہے ہیں۔
شامی صاحب نے تجویز پیش کی کہ ہمارے قومی وسائل کی تقسیم اس وقت آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر ہم ان وسائل کو آبادی کنٹرول کرنے سے مشروط کر دیں تو حکمران طبقات اس حوالے سے ضرور فکرمند ہوں گے۔ شامی صاحب نے ڈاکٹرز کے اس سیمینار میں مدعو کرنے پر ڈاکٹر خلعت النسا صاحبہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف نے اپنی تقریر میں پاکستانی حکومتوں کی بے حسی و لاپرواہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو سوائے اپنے مفادات کے ملک و قوم کے حقیقی مسائل سے کوئی سرکار نہیں ہے۔ ایوب خان نے اپنے دور میں خاندانی منصوبہ بندی کی مہم چلائی نتیجتاً وہ عدم مقبولیت کا شکار ہو کر الیکشن ہار گئے۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے کسی بھی قیمت پر اس ایشو کو اٹھانا ہی نہیں ہے۔ تاکہ ہماری سیاست خراب نہ ہو، ملک تباہ ہوتا ہے تو ہو جائے۔ یوں سیاسی مفادات قومی مفادات پر حاوی ہوتے چلے گئے

معروف کالم نگار اور دینی سکالر پیر ضیا الحق نقشبندی نے کہا کہ ہمارے یہاں خواہ مخواہ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ آبادی کو کنٹرول کرنا خلاف اسلام ہے۔ حالانکہ جب قرآن نازل ہو رہا تھا، اس وقت تب کے رائج الوقت طریقہ کار کی مطابقت میں صحابہ کرام  نے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق دریافت فرمایا تو انہیں اس کی اجازت بخش دی گئی۔

معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف نے اپنے صدارتی خطاب میں جہاں دیگر مقررین بالخصوص ڈاکٹر ارشد چوہان کی اٹھائی گئی تشویش اور تجاویز کا جائزہ پیش کیا، وہیں حکومت کی بے حسی کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے دو کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اس کے بالمقابل ایک ارب 40 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں سوا کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر نہیں ہیں۔ ہماری اتنی بھاری تعداد میں سکولوں سے باہر بچے کس حال میں ہیں؟ کیا کسی کو اس کی فکر ہے؟ کیا ہمارا اجتماعی رویہ یہی نہیں ہے کہ کچھ نہ کہو چپ رہو؟

ڈاکٹر شاہینہ آصف نے سلائیڈوں کی مدد سے پاکستان میں پسے ہوئے طبقات کے دکھوں کو اجاگر کیا اور اپنی اس دردمندی کا اظہار کیا کہ یہ ملک بد نصیب ڈوب رہا ہے اور برسر اقتدار طبقات کو اس کا ادراک تک نہیں۔ اس ملک بد نصیب میں آبادی کے طوفان کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی یا تجاویز پر ایک نوع کا اختلاف رائے بھی ہوا، اس بحث کا جائزہ اگلی قسط میں۔