آبادی کے طوفان پر کنٹرول مگر کیسے؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 27 / ستمبر / 2024
معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف نے اپنے صدارتی خطاب میں جہاں دیگر مقررین بالخصوص ڈاکٹر ارشد چوہان کی اٹھائی گئی تشویش اور تجاویز کا جائزہ پیش کیا، وہیں حکومت کی بے حسی کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے دو کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اس کے بالمقابل ایک ارب 40 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں یہ تعداد سوا کروڑ سے بھی کم ہے ہمارے اتنی بھاری تعداد میں سکولوں سے باہر بچے کس حال میں ہیں؟ کیا کسی کو اس کی فکر ہے؟ کیا ہمارا اجتماعی رویہ یہی نہیں ہے کہ کچھ نہ کہو چپ رہو؟ ڈاکٹر شاہینہ آصف نے سلائیڈوں کی مدد سے پاکستان میں پسے ہوئے طبقات بالخصوص ہمارے نونہالوں کے دکھوں کو اجاگر کیا اور اپنی اس دردمندی کا اظہار کیا کہ یہ ملک بد نصیب ڈوب رہا ہے اور برسر اقتدار طبقات کو اس کا ادراک تک نہیں۔
معروف کالم نگار اور دینی سکالر پیر ضیا الحق نقشبندی نے کہا کہ ہمارے یہاں خواہ مخواہ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ آبادی کو کنٹرول کرنا خلاف اسلام ہے حالانکہ جب قرآن نازل ہو رہا تھا اس وقت تب کے رائج الوقت طریقہ کار کی مطابقت میں صحابہ کرام نے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق دریافت فرمایا تو انہیں اس کی اجازت بخش دی گئی۔
یہ ملک بدنصیب معاشی بدحالی میں اس وقت جس قدر بھی پاتال تک گرا پڑا ہے البتہ آبادی بڑھانے میں اس کا کوئی مقابل نہیں۔ آبادی میں آج ہمارا ملک الحمدللہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور 2050 میں جب موجودہ آبادی ڈبل ہو جائے گی۔ تو یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہوگا۔ ڈاکٹر ارشد چوہان اور ڈاکٹر شاہینہ آصف کے سیمینار میں اس نوع کی مثالیں تو خوب دی گئیں کہ ایک کشتی میں اگر 50 بندوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو لیکن سو بیٹھ جائیں تو بیچ منجدھار کے جب وہ ہچکولے کھائے گی تو اس وقت بیٹھنے اور بٹھانے والوں کو کو سننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ہمارے شامی صاحب نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ہال میں 500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اب یہاں اگر دو ہزار لوگوں کو لے آیا جائے تو وہ ہنگامہ مچے گا کہ لوگ سیمینار کو بھول جائیں گے۔
وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے جتنی چاہے منصوبہ بندی کر لیں جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے یہ تمام وسائل اور انفراسٹرکچر کو کھا جائے گی۔ مسئلہ محض خوراک کا نہیں دیگر انسانی حاجات بھی ہوتی ہیں۔ تعلیم صحت، روزگار اور رہائشی ضروریات کے اپنے تقاضے ہیں۔ یہ تو سبھی بولتے ہیں کہ بچے اتنے ہی پیدا کرو جتنے آپ کے وسائل ہیں، اس وقت ہماری فی کس آمدنی 1200 ڈالر ہے جبکہ صحت پر ہمارے جی ڈی پی کا صرف 1.2 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ یہی حال تعلیم کا بھی ہے، جتنی آبادی بڑھ رہی ہے اتنی ہی غربت، بیماری، بے روزگاری، مہنگائی اور آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس ملک بدنصیب میں لوگوں کو متوازن خوراک چھوڑ پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھوٹ رہی ہیں پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت نے عقل و شعور کو نگل لیا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ یہاں خاندانی منصوبہ بندی پر کھل کر اظہار خیال کرنا بھی گویا کوئی جرم یا گناہ کبیرہ کا کام ہے۔ 60s کی دہائی میں جب جنرل ایوب کی حکومت تھی تب فیملی پلاننگ یا خاندانی منصوبہ بندی کی مہم چلائی گئی۔ گمان کیا جاتا ہے کہ مذہبی لوگوں نے اس کی اتنی مخالفت کی کہ ایوب کی عدم مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی قرار پائی۔ لہذا اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے ایسی کاوش ہی چھوڑ دی۔
یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ حکومتیں ایسے ایشوز کو اپنے لیے نہ توچیلنج سمجھتی ہیں اور نہ ملکی و قومی مفاد میں سٹینڈ لیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مقتدر طبقات فیملی پلاننگ کی مخالفت کرنے والوں کو نہ صرف یہ کہ قابو کریں بلکہ میڈیا کے ذریعے ان کے خطرناک منفی پروپیگنڈے کو استدلال کے ساتھ غلط ثابت کریں لیکن جنونی ذہنیت کے خلاف سٹینڈ لینےکیلیے اتا ترک جیسے دل گردے والی قیادت مطلوب ہوتی ہے نہ کہ ہمارےجیسی بزدل و نا اہل، اقتدار کی بھوکی، موقع پرست اور لالچی قیادت۔
اس ملک بدنصیب میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے منعقدہ سیمینار میں جو تجاویز زیر بحث آئیں ان میں سے ایک تعلیم بالخصوص ویمن ایجوکیشن کو فروغ دینے اورمعاشی طور پر انہیں خود مختاری تک پہنچانے کے حوالے سے تھی یہ بھی کہا گیا کہ بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کرنے کی بجائے دیر سے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ بھی کہ ہمارے کچھ طبقات مانع حمل ادویات یا کنڈوم وغیرہ کے استعمال کو برا سمجھتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں اور بچیوں کو جنسی تعلیم لازماً دی جائے تاکہ وہ اپنے اچھے برے کی پرکھ کے قابل ہو سکیں۔ یہ بحث بھی ہوئی کہ کتنے دنوں بعد تک اسقاط حمل کروایا جا سکتا ہے جب تک کہ لوتھڑے میں جان نہیں آتی۔
درویش عرض گزار ہے ہماری سوسائٹی میں بچیوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ لوگ بیٹے کے چکر میں زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتے چلے جاتے ہیںْ ہماری مساجد میں اولاد نرینہ کیلیے باقاعدہ دعائیں منگوائی جاتی ہیںْ ایک بیٹا ہو بھی جاتا ہے تب بھی بیشتر گھرانوں میں بیٹوں کی جوڑی بنانے کے لیے مزید کئی بچے پیدا کیے جاتے ہیںْ اگر کسی کا بیٹا نہیں ہے محض بیٹیاں ہیں تو ہماری روایتی سوسائٹی اسے بیچارہ یا محرومی کا شکار کیوں سمجھتی ہے؟ ویسٹ میں ایسا رویہ کیوں نہیں؟
امریکی صدر بل کلنٹن کی ایک ہی بیٹی ہے۔ صدر باراک اوباما کی دو بیٹیاں ہیں۔ صدر بش جونئیر کی بھی بیٹیاں ہی ہیں، بیٹا کوئی نہیں۔ کیا ان کے پاس پیسوں کی کمی ہے۔ آخر وہاں ایسی بیچارگی کیوں نہیں جس میں ہماری سوسائٹی مرے جا رہی ہوتی ہے اور ایسے والدین کو احساس محرومی دلاتی ہے؟ درویش نے جتنا غور کیا ہے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کی جڑیں ہماری قدامت پسند مذہبی ذہنیت میں پیوست ہیں۔ کوئی اس ایشو پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ آخر ہماری سوسائٹی میں لڑکی لڑکے سے کمتر کیوں گردانی جاتی ہے؟ اکثر لوگ اس رویے کی مذمت کرتے پائے جائیں گے لیکن یہ محض لپ سروس یا دکھاوا ہی ہوتا ہے۔ درحقیقت جب ہم بظاہریہ کہتے ہیں کہ بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے تو یہ بھی ایک بہت بڑی منافقت ہوتی ہے۔ جونہی درویش ایسے لوگوں سے یہ پوچھتا ہے کہ اگر بیٹے اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ بقول آپ کے بیٹیاں اپنے ماں باپ کی بیٹوں سے زیادہ ہمدرد اور غمگسار ہوتی ہیں تو آئیے مل کر یہ مہم چلاتے ہیں کہ کسی بھی باپ کی وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حصہ برابر قرار دیا جائے، جس طرح ترکی مصرتیونس مراکو اور ایسے دیگر کئی مسلم ممالک میں باقاعدہ قانون سازی کرتے ہوئے اس جنسی امتیازی رویے یا Discrimination کو ختم کر دیا گیا ہے، آپ بھی میرے ساتھ اس تحریک کا حصہ بنیں۔
یہ کہ ہم انسانی مساوات کے عالمگیر اصول کو مانتے ہوئے عورت کو کمتر اور مرد کو برتر قرار نہیں دیں گے۔ عورت کو ناقص العقل اور ناقص فی الدین کہنا چھوڑ دیں گے۔ شعوری طور پر آپ کی بیٹی بیٹے سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ لڑکا چاہے نکھٹو اور لڑکی چاہے جتنی بھی قابل ہو، آپ نے ابدی طور پر لڑکی کو لڑکے کے مقابلے میں آدھی یا ادھوری قرار دے رکھا ہے۔ اس تناظر میں سیمینار کے منتظم و مہتمم ڈاکٹر ارشد چوہان نے جب یہ تجویز پیش کی کہ ہمارے رائج الوقت قانون وراثت میں اگر کسی شخص کا صرف ایک بیٹا ہو تو وہ پوری جائیداد کا وارث قرار پاتا ہے ۔ اس کے بالمقابل اگر اس شخص کی ایک بیٹی ہو تو وہ پوری جائیداد کی وارث نہیں بن سکتی۔ وہ اپنے باپ کی وفات پر محض ون پارٹ حاصل کر سکتی ہے، بقیہ جائیداد دیگر رشتہ داران کے پاس چلی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کی دو تین یا چاہے 10 بیٹیاں بھی ہوں، سنی قانون وراثت کے مطابق وہ اپنے والد کی نہ تو پوری وارث بن سکتی ہیں، نہ پوری پراپرٹی حاصل کر سکتی ہیں۔ جبکہ شیعہ یا جعفری فقہ کے مطابق کم از کم اس مسئلے میں جنسی امتیاز پر مبنی اس نوع کی بے انصافی روا نہیں رکھی گئی۔
ہمارے دانشور طبقے کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے آواز اٹھائیں۔ درویش کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب موقع پر موجود ہمارے بظاہر روشن خیال دانشوروں نے اس تجویز کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ یہاں ماقبل ایوبی دور میں نافذ العمل ہونے والے1961 کے عائلی قوانین کے تحت سنی یا حنفی فقہ کے علی الرغم جعفری فقہ کے مطابق یک بارگی تین طلاقوں کا ایشو حل کیا جا چکا ہے۔ جسے ضیا الحق کے دور میں سنی علما کے شدید دباؤ کے باوجود ختم نہیں کیا گیا بلکہ ضیا الحق نے ان قوانین کو جن پر ان علما کو شرعی حوالوں سے شدید ترین تحفظات واعتراضات تھے باضابطہ آئینی تحفظ دلوایا۔ ملک بھر کے گائنا کالوجسٹس کی اس کانفرنس میں اٹھایا گیا یہ مطالبہ اس قابل ہے کہ اس پر ہمارے میڈیا میں ہر دو حوالہ جات کے ساتھ کھلا مباحثہ ہو، ہردو اطراف سے دلائل طلب کیے جائیں۔ یوں یہ بحث پارلیمنٹ تک پہنچے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ خالص قومی مفادات میں اگر آپ جنسی امتیازات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں یا تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کا ایک چیپٹر ڈالنا چاہتے ہیں یا بڑھتی ہوئی آبادی کے طوفان کو روکنے کے لیے آگاہی مہم کے تحت فیملی پلاننگ کے مضمون کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنوانا چاہتے ہیں یا یہ جذبہ رکھتے ہیں کہ بچیوں کو تعلیم، روزگار اور ریاستی امتیازی رویے کا سامنا نہ کرنا پڑے تو غور فرمائیں کہ آپ کے راستے میں کون لوگ ٹیرر بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں؟
یہاں تو حالت یہ ہے کہ ہمارے قانون نے نابالغ بچیوں کی شادیوں پر جو پابندی لگا رکھی ہے، ہمارا مخصوص روایتی ذہن اس کے خلاف بھی نفرت پھیلانے سے باز نہیں رہتا۔ اکثر ایسی بحث چھیڑی جاتی ہے کہ بلوغت کی عمر 18 سال کیوں ہے بچیوں کے لیے یہ عمر 16 سال ہونی چاہیے۔ درویش کہتا ہے نہیں یہ 21 سال ہونی چاہیے۔ تاکہ وہ بچی اپنا برا بھلا سمجھنے کے قابل ہو سکے۔ گھر گرہستی اور بچوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوسکے۔ کچھ اپنی تعلیم کی تکمیل بھی بہتر طور پرسکیں۔ جو اٹھارہ کی عمر میں ممکن نہیں، تو کیا حرج ہے اگر یہ عمر اکیس سال کر دی جاۓ؟
آخر وہ کون سی سائیکی ہے جو اتنی بات پر بھی بھڑک اٹھتی ہے؟ طرح طرح کے طعنے اور بے سروپا دلیلیں سننی پڑیں گی۔ دراصل ان بیچاروں کے ذہنوں میں نو سالہ بلکہ چھ سالہ بلوغت ہی کہیں پھنس کر رہ گئی ہے جو اکیسویں صدی کی شعور ی سطح پر لاکر ہی نکالی جاسکتی ہے۔ اس جنونی ذہنیت کو پسپا کیے بغیر یہاں یونیورسل ہیومن رائٹس ڈیکلریشن پر عملدرآمد ہو سکتا ہے، نہ فیملی پلاننگ جیسی خالص قومی مفاد پر مبنی سکیمیں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں۔