پنجگور میں پنجاب کے سات مزدوروں کا قتل
نامعلوم افراد نے سینچر کی شب بلوچستان کے شہر پنجگور میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔ پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے انہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے گولیاں مار دیں۔
ان میں سے صرف ایک بچا جبکہ سات افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے محمد ساجد، محمد خالد، محمد سلمان، محمد افتخار، محمد شفیق، محمد رمضان اور محمد فیاض کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا اور مقتولین آپس میں رشتہ دار بھی تھے۔
پنجگور پولیس کے ایس ایچ او ظہیر بلوچ کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد محنت کش تھے جو علاقے میں لوگوں کے مکان تعمیر کرتے تھے۔ یہ لوگ ایک جگہ پر کام نہیں کرتے تھے بلکہ مختلف علاقوں میں کام کرتے تھے لیکن ان کی رہائش ایک جگہ پر تھی جہاں وہ رات کو جمع ہوتے تھے۔
واقعے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے بلال نامی مزدور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دو مسلح افراد دیوار پھلانگ کر اس مکان میں داخل ہوئے جہاں یہ رہائش پذیر تھے۔ جس وقت مسلح افراد وہاں پہنچے تو یہ لوگ رات کا کھانا کھا رہے تھے۔‘
حملہ آوروں نے آتے ہی آٹھوں افراد سے کہا کہ وہ اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے ایک لائن میں کھڑے ہو جائیں۔ جب یہ لوگ کھڑے ہو گئے تو انہوں نے ان پر اندھادھند فائرنگ کی۔
پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے میں اگرچہ بلال بہت زیادہ زخمی نہیں ہوا تھا لیکن موت کا خوف ایسا ہوتا ہے کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ بلال کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تھوڑی دیر بعد جب سنبھلا تو اس نے پولیس اہلکاروں کو حملے کے بارے میں یہ معلومات دیں۔ سی ٹی ڈی نے اس واقعے کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ایک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔