نسل پرست اور انتہا پسند

انتہا پسند اور نسل پرست دنیا کے ہر ملک اور ہر خطے میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ اگرچہ اِن کی تعداد بہت محدود اور مُٹھی بھر ہوتی ہے۔ مہذب ملک ایسے تنگ نظر اور نفرت انگیز لوگوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے مؤثر قوانین بناتے اور اُن پر عملدرآمد کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔

دیگر ممالک کی طرح یونائیٹڈ کنگڈم میں بھی نسل پرست اور انتہا پسند موجود ہیں لیکن برطانیہ میں انسانوں سے نفرت کے جرم یعنی ہیٹ کرائم  (HATE CRIME) سے بہت سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ اس لئے یو کے میں انتہا پسندی اور نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ 60 کی دہائی میں نیشنل فرنٹ کے نام سے انگریز انتہا پسندوں نے ایک تنظیم قائم کی تھی جو برطانیہ میں آباد امیگرنٹس اور نسلی اقلیتوں کے خلاف سرگرمِ عمل رہی۔ اس تنظیم کے بانیوں اور رہنماؤں نے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا اور ہمیشہ ان کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ یعنی برطانوی عوام کی اکثریت نے انہیں ہر سطح پر مسترد کیا۔ بعد ازاں یہ تنظیم اپنی موت آپ مر گئی لیکن پھر یہ انتہا پسند انگلش ڈیفنس لیگ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے۔ 27جون 2007 میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا واحد ایجنڈا مسلمانوں اور اسلام کی مخالفت تھی اور اس کے رابطے دنیا بھر میں اسلام مخالف تنظیموں سے استوار ہوئے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے برطانوی نسل پرست اور انتہا پسندوں کے لئے اُن لوگوں تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے جنہیں وہ بوقت ضرورت اکسا کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ 29جولائی 2024 کو ساؤتھ پورٹ مرسی سائیڈ کے علاقے میں ایک 17سالہ لڑکے ایکسل روڈا کوبانا نے بچوں کے ایک ڈانس کلب میں چاقو سے حملہ کر کے 3بچوں کو قتل اور آٹھ کو شدید زخمی کر دیا۔ یہ لڑکا عیسائی ہے اور کارڈف میں پیدا ہوا جبکہ اس کے والدین کا تعلق روانڈا سے ہے۔

اس سانحے کے فوراً بعد برطانوی نسل پرستوں نے سوشل میڈیا پر یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ قاتل لڑکا مسلمان اور امیگرنٹ ہے جس کے بعد انتہا پسندوں نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں مسلمانوں اور امیگرنٹس کے گھروں اور کاروباری مراکز پر حملے شروع کر دیئے۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس سانحے کی شدید مذمت کرنے کے علاوہ نسل پرستوں سے سختی سے نمٹنے کے احکامات جاری کئے۔ چنانچہ پولیس کی خصوصی فورس تشکیل د ی گئی۔ 400سے زیادہ انتہا پسندوں اور نسل پرستوں کو گرفتار کر کے اُن کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے فوری طور پر عدالتی کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ حکومت اُن لوگوں کی سرکوبی کرنے کے لئے بھی تیزی سے سرگرمِ عمل ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کے ذریعے برطانیہ میں بدامنی کو ہوا دینے اور انتہا پسندی کا پرچار کرنے کا آغاز کیا اور لوگوں کو مسلمانوں اور امیگرنٹس کے خلاف اُکسانے کی تحریک دی۔ ابتدائی طور پر نسل پرستوں کے نام نہاد لیڈر ٹامی رابنسن اور سٹیفن پاکسلے لینن کے نام سامنے آئے ہیں جنہوں نے سانحہ ساؤتھ پورٹ کی آڑ میں نسلی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز کاروائیوں کا آغاز کیا۔

لندن کے علاوہ مانچسٹر، برمنگھم، بریڈ فورڈ، لیول پول اور دیگر کئی شہروں میں نسل پرستوں کے مظاہروں اور نسلی اقلیتوں پر حملوں کا برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سختی سے نوٹس لیا تاکہ اس ملٹی کلچرل ملک اور معاشرے میں امن و امان کو قائم رکھا جا سکے۔ اور مختلف مذاہب اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری کسی قسم کے خوف وہراس کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ حالات میں سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئیٹر، ٹک ٹاک، وٹس ایپ وغیرہ) ایک ایسا خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جس کا مہلک اور خطرناک استعمال دن بہ دِن بڑھتا جا رہا ہے۔ سانحہ ساؤتھ پورٹ کے بارے میں جب نسل پرستوں نے جھوٹ اور بہتان کا سہارا  لے کر اس کا سوشل میڈیا پر پرچار اور پراپیگنڈا کیا تو چند منٹوں کے اندر کئی لاکھ لوگوں تک یہ جھوٹ پہنچ گیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی صداقت کی تصدیق کئے بغیر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ یعنی نسل پرستوں کا نیٹ ورک سوشل میڈیا کی وجہ سے چند منٹوں میں لوگوں کو اکسانے میں کامیاب ہو گیا۔

جھوٹ اور نفرت کا پرچار اور پھیلاؤ سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت آسان ہو گیا ہے۔ لوگوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر بولے جانے والے جھوٹ، غیر تصدیق شدہ اعدادوشمار اور واقعات پر نہ صرف یقین کر لیتی ہے بلکہ اُن کوشیئر اور فارورڈ کر کے فریبی اور نفرت پھیلانے والوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کر دیتی ہے۔ سانحہ ساؤتھ پورٹ کے بعد جہاں نسل پرستوں نے برطانیہ میں نسلی ہم آہنگی اور امن و امان کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی وہیں انگریزوں کی ایک بڑی تعداد نے مسلمانوں اور امیگرنٹس (تارکین وطن) سے یک جہتی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے مساجد، مندر، گردواروں اور کمیونٹی سنٹرز میں جا کر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کثیر الثقافتی معاشرے کا اہم حصہ قرار دیا جنہوں نے برطانیہ کی ترقی اور خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

ویسے بھی حقیقت یہ ہے کہ نفرت کے مقابلے میں محبت کا جذبہ زیادہ پائیدار اور دیرپا ہوتا ہے۔ سانحہ ساؤتھ پورٹ کے بعد نہ صرف نسل پرستوں کے چہرے کھل کر سامنے آ گئے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اُن کے نیٹ ورک کی مذموم کاروائیوں کا بھی پردہ فاش ہو گیا ہے، حکومتی کاروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فوری ردعمل سے یہ سچائی بھی واضح ہو گئی ہے کہ یونائیٹڈ کنگڈم میں نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس ملک میں کوئی بھی انتہا پسند اور نسل پرست دہشت گرد قانون کی گرفت سے بالاتر نہیں، مٹھی بھر لوگ اپنے مذموم اور ناپاک مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے برطانیہ کے امن و امان کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ اس ملک میں ہر شہری کے لئے مساوی حقوق کے ضابطوں اور ہر شعبہ زندگی میں ترقی کے یکساں مواقع کے قوانین کا نہ صرف احترام کیا جاتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کو بھی سو فیصد یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

میں کبھی کبھار برطانیہ میں نسل پرستی اور انتہا پسندی کے رجحان کا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں موجود نسل پرستی سے موازنہ کرتا ہوں یا برطانوی معاشرے کے مکینوں کے لئے مساوی حقوق کا جائرہ لیتا ہوں تو مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ جن اقدار اور سنہری اصولوں کو مسلمان ملکوں اور معاشروں کا حصہ ہونا چاہئے، اُن کو اِن کافر ممالک نے اپنا رکھا ہے۔ صرف اور صرف نظامِ عدل و انصاف کا موازنہ کرلیں تو غیر مسلم اور مسلمان ممالک کے عروج وزوال کی حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو جو بلاامتیاز انصاف بلکہ فوری انصاف اور مساوی حقوق یہاں میسر ہیں، وطنِ عزیز پاکستان میں رہنے والے شہری اُن سے یکسر محروم ہیں۔ تاریخ شاہد ہے اور حالات اس سچائی کے گواہ ہیں کہ جو ملک اور معاشرے عدل و انصاف کی بالادستی سے محروم ہو جائیں، انہیں زوال اور تباہی و بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ برطانیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے نئے ضابطے اور قوانین بنائے جاتے ہیں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لئے طریقہ کار کو آسان کیا جاتا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں ایسے قوانین منظور کئے جاتے ہیں جن کے ذریعے عوام کو فوری اور آسان انصاف کے حصول میں آسانی ہو۔ ہر شہری کے مساوی حقوق کا تحفظ ہو۔ انتہا پسندی اور نسل پرستی کا سدباب ہو۔

کیا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس طرح کے نظام انصاف کی توقع کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو اہل مغرب کو کوسنے یا اُن کی سازشوں کو اپنی بدحالی اور زوال کا سبب قرار دینے کی بجائے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے۔