امریکا معاملے میں مداخلت نہ کرے: ایران کی واشنگٹن کو تنبیہ

  • بدھ 02 / اکتوبر / 2024

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کرے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ہم نے امریکی فورسز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے سے دور رہیں اور مداخلت نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران میں سوئس سفارتخانے کے ذریعے یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور وہ اس کے ردعمل کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس سوال پر کہ ایران کے بارے میں کیا ردعمل سامنے آئے گا، جس کا جو بائیڈن نے جواب دیا کہ اس وقت اس پر بات چیت جاری ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اور مضبوط کارروائی کی ہے، جو ریاست کے جائزحق دفاع اور سلامتی و خودمختاری کے تحفظ سے متعلق ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں ناصر کنانی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے بہادری سے کام لیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے لبنان میں اپنی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔ اسرائیلی فوج کے دو عہدیداروں نے بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے تقریباً 200 بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔

ادھر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ ’یہ ممالک جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن لانا چاہتے ہیں۔‘ مغربی ممالک اس خطے سے ’دفع ہو جائیں‘ تاکہ خطے میں موجود ممالک امن سے رہ سکیں۔ ایران کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ منگل کی رات اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کا حکم آیت اللہ خامنہ ای نے دیا تھا، جو ایک محفوظ مقام پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگلا حملہ اس سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ اسرائیل پر حملے کے بعد آیت اللّٰہ خامنہ ای  نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اسرائیل کو وارننگ دی۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے کو فیصلہ کن ردعمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو پیغام دیا ہے کہ یہ ان کی طاقت کا صرف ایک گوشہ ہے، ایران کے ساتھ تنازع میں نہ پڑیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراغچی نے واضح کیا کہ ایران کی کارروائی ختم ہو چکی ہے تاہم اگر اسرائیل مزید جوابی کارروائی کرتا ہے تو اس کا جواب بھرپور اور اس سے بھی زیادہ طاقت سے دیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے حملوں کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایران ان کے جوابی کارروائی کے عزم کو نہیں سمجھتی، جو بھی ہم پر حملہ کرے گا، ہم ان پر حملہ کریں گے۔

اس دوران اسرائیل میں ایرانی میزائیلوں سے ہونے والے نقصانات کی کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کے رپورٹر نے  تل ابیب کے شمال میں بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے ایک مقام کا مشاہدہ کیا۔  رپورٹر کے مطابق ہم ایک تجارتی مرکز کے باہر  دو یا تین انتہائی بری طرح سے تباہ کاریں موجود تھیں۔ ان کے پاس ہی ملبے کا ڈھیر ہے۔ کل رات یہاں ایک بہت بڑا گڑھا تھا، جو شاید 8 سے 10 میٹر گہرا تھا۔ اس گڑھے کو اب بھر دیا گیا ہے تاہم اس سے دھماکے کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اسرائیل کے دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے بہت سے راکٹس کو ناکارہ بنا دیا لیکن اس کے باجود بہت سے راکٹ یہاں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہیڈکوارٹر یہاں سے کافی قریب ہے تو ممکن ہے کہ ایران کا ہدف وہ ہی ہو۔