معاصر انٹرنیشنل کی تقریب رونمائی اور مشاعرہ
- تحریر علی اصغر عباس
- بدھ 02 / اکتوبر / 2024
عطا الحق قاسمی میرے ان پیارے بزرگ دوستوں میں سے ہیں جنہیں میں آج بھی بھائی جان کہہ کر بلاتا ہوں۔ کبھی شہرِ لاہور میں ان کے علاوہ میرے لئے اور بھی بھائی جان تھے ۔ خالد احمد ، نجیب احمد ، شفیق سلیمی، اجمل نیازی ، سراج منیر اور امجد اسلام امجد جو اب اپنی الگ سے دنیا آباد کرچکے ہیں۔
اللہ ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے زیادہ خوبصورت اور دلکش و پر بہار بنائے اور بھائی جان عطا الحق قاسمی و بھائی جان شعیب بن عزیز کو صحت و تندرستی کے ساتھ ہمیشہ عافیت میں ہمارے سروں پہ سلامت رکھے آمین ثم آمین ۔
عطا بھائی اور شعیب بھائی کی دلآویز شخصیات کا کمال ہے کہ وہ اپنی اپنی عمر کے دسیوں برس گزار کر بھی خود سے بیسیوں برس ہم جیسے چھوٹوں سے بھی ماشاءاللہ جواں ہمت ہیں کہ ان جیسا جواں بخت بھی کوئی کوئی ہوتا ہے ۔ عطا بھائی تو ہمیشہ سے کچھ نئے سے نیا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ سوائے نئی شادی کے اس کی بڑی وجہ تو ہماری بھابی صاحبہ کی جلال و جمال یافتہ پرشکوہ شخصیت کی عقابی روح کا کمال ہے۔ اور دوسرے بھابی جی کے تین دراک و براق صفت شیر جوان بیٹے جن میں یاسر پیر زادہ تو والد محترم کے نقوش پا پر گامزن ہے۔ مگر میری خوش گمانی ہے کہ علی عثمان و عمر قاسمی اپنے دادا حضرت بہا الحق قاسمی علیہ رحمہ کی علمی و وہبی وراثت کے امین ہیں۔
عطابھائی بحمد اللہ آج بھی ہر دم جواں ہے، زندگی کی سرمست ترنگ میں رہتے ہیں اور اپنے ذہن رسا کی نیرنگ سازی سے ہمہ وقت نیر و تاباں خیالات کی افسوں سازی سے ہمقدم ساتھیوں کو ورطہ حیرت میں مبتلا رکھتے ہیں جو اس پیرانہ سال اشہب سبک رفتار کی براقی سے سہمائے ہوتے ہیں ۔ ستاروں پہ کمندیں ڈالنے والے(فلمی ستارے نہیں) عطا الحق قاسمی نے 1979 میں لاہور سے سہ ماہی ’معاصر انٹرنیشنل‘ کا اجرا کیا تو اپنی طبع کے مطابق اس ادبی جریدے کو منفعت بخش ذریعہ معاش بنانے کی بجائے اسے ادبی رسائل کی دنیا میں نو سمت آشنا رسالے کی شناخت دی، جس نے تقریباً تین دہائیوں تک قدیم و جدید ادبی رہواروں کے تخلیقی سفر میں ان کی صلاحیتوں کے خوش نگاراں کو تزئین قرطاس کا طرہ امتیاز بنایا۔ تقریباً 35 برس بعد ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا کہتے ہوئے معاصر کے نئے دور کا آغاز کیا ہے ۔اس بار انہیں بڑے منے پرمنے شاعر و ادیب و کالم نگار اقتدار جاوید کی دوستی اور معاونت میسر آ گئی ہے ۔
اقتدار جاوید اور عطا بھائی کی قدر اشتراک شعر و ادب اور کالم نگاری ہی نہیں بلکہ دونوں پیر زادے بھی ہیں ۔ عطا بھائی تو کسی زمانے میں حضرت احمد ندیم قاسمی کی طرح اپنے نام کے ساتھ پیرزادہ بھی لکھا کرتے تھے جو انہیں کے تتبع میں لکھنا ترک کر دیا تھا ۔ اقتدار جاوید کے بارے میں علم نہیں کہ وہ خود کو پیر زادہ یا صاحبزادہ لکھتے لکھواتے تھے کہ نہیں لیکن ہیں بڑے پیر گھرانے کے فرزند جن کے بزرگوں کے آستانے مرجع خلائق ہیں ۔ یہ دونوں علمی ادبی صحافتی و روحانی شخصیات معاصر ادب کو اپنی اعلیٰ پائے کی تخلیقات سے ثروت مند کرنے کے ساتھ ساتھ اب ادبی دنیا کے ہجوم بے پناہ میں سے گوہر ہائے نایاب چننے اور ان سے ایک نئی کہکشاں بنانے کا عزم کرکے میدان عمل میں نکلی ہیں۔ اور سہ ماہی معاصر انٹرنیشنل کا پہلا شمارہ منظر عام پر لے آئی ہیں جس کی تقریب اعزازی تقسیم ( محدود حد تک) قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے دفتر میں منعقد ہوئی۔
جس میں لندن میں مقیم شاعرہ ثمینہ رحمت کی عدم موجودگی میں ان کے شعری مجموعے محبت فاتح عالم کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس پر گفتگو کرنے والوں میں میر مجلس عطا الحق قاسمی ، مہمان خصوصی اقتدار جاوید ، مہمان اعزاز کالم نگار ، شاعر ، ادیب پروفیسر ناصر بشیر ، معروف شاعر و ادیب ، ناول نگار اور نامور ماہر تعمیرات شاعر و نقاد ڈاکٹر غافر شہزاد اور شاعر و دانشور عزیز احمد شامل تھے۔ سب مقررین نے شاعرہ ثمینہ رحمت کی شخصیت و شاعری کی اپنے اپنے انداز میں بہت تعریف و توصیف کی۔ بعد ازاں مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیا گیا جس کے بعد عزیز احمد کی جانب سے شرکائے تقریب کے لیے بہت اعلیٰ درجے کی ہائی ٹی کا وسیع پیمانے پر اہتمام کیا گیا تھا۔
تقریب میں ادیبوں شاعروں اور صحافیوں کی محبوب شخصیت جناب اجمل شاہ دین نے بطور خاص شرکت کی کہ معاصر کے سفر نو کے پہلے شمارے کا انتساب ہی ان کے نام ہے۔ ان کے ساتھ دانشور و کالم نگار خورشید ندیم کی آمد نے تقریب کی رونق دوبالا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ علاوہ ازیں پروفیسر ڈاکٹر شاہد اشرف، صوفیہ بیدار، علی رضا، نوید مرزا، حسن عباسی سمیت درجنوں قلم کاروں، شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔ میزبانی کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر عائشہ عظیم نے بطریق احسن نبھائے۔