مڈل ایسٹ خطرناک موڑ پر
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 02 / اکتوبر / 2024
ایران کا اسرائیل پرحملہ، سینکڑوں میزائل داغ دیے، لبنان سے بھی راکٹ حملے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں درجنوں دھماکے۔ دارالحکومت سمیت پورے اسرائیل میں سائرن، تمام شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا حکم۔
امریکا واسرائیل میں ہنگامی اجلاس، واشنگٹن نے اسرائیل کو حملے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا۔ ایران نے کہا ہے کہ یہ اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کی شہادتوں کا جواب ہے۔ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو بقول ایرانی رہبر علی خامنائی اگلا حملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔ ایران عراق لبنان شام غزہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں شہریوں کا جشن، بیروت میں شہریوں کی خوشی سے آتش بازی۔ حماس حزب اللہ اور حوثیوں نے ایرانی حملے کو دلیرانہ اقدام قرار دے دیا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹرز پر راکٹ حملہ کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحیر احمر اور عرب میں تین اسرائیلی جہازوں پر میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کا اسرائیل پر حالیہ حملہ اپریل میں ہونے والے حملے سے دوگنا طاقتور حملہ تھ۔ا واضح رہے کہ اس حملے میں اگرچہ اسرائیل کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا مگر اپنے بچاؤ میں انہوں نے ایئر ڈیفنس آئرن ڈوم سسٹم کی جو مہنگی ترین ٹیکنالوجی استعمال کی تھی، اس سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ عراق میں شیعہ مزاحمتی گروپ کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کےخلاف کاروائی میں تعاون کیا تو وہ عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے عبرانی زبان میں اسرائیل کو انتباہ کیا ہے کہ ہم فتح کے قریب ہیں اور پہلے سے زیادہ خطرناک۔
روس نے ایرانی حملے کے بعد کہا ہے کہ مڈل ایسٹ کی صورتحال بائیڈن انتظامیہ کی مکمل ناکامی ہے جبکہ بشمول امریکا مغربی ممالک نے ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ دفاعی سسٹم آئیرن ڈوم کی بدولت ان کا زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ اس مہنگے ترین ائر ڈیفنس سسٹم کے تحت حملہ آور میزائلوں کو فضا میں ہی گرایا جا سکتا ہے۔ البتہ تل ابیب میں فائرنگ کی اطلاعات ہیں جن میں آٹھ یہودی ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حملے سے اسرائیلی انفراسٹرکچر کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اس کی تفصیلات ہنوز میڈیا میں نہیں آئی ہیں۔
ماقبل اسرائیل نے 27 ستمبر کو بیروت میں حزب اللہ کے زیر زمین ہیڈ کوارٹر پر ہزاروں ٹن وزنی 85 بنکرز بموں سے سخت حملہ کیا تھا جس میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے ساتھ ان کے نائب اور ایرانی پاسدارن انقلاب کے آپریشنل کمانڈر عباس نلفروشان سمیت درجن بھر لوگ مارے گئے تھے۔ حسن نصراللہ ایک ایسا جہادی لیڈر تھا جس نے گزشتہ تین دہائیوں سے اسرائیلیوں کے ناک میں دم کر رکھا تھا ایرانی صدر روحانی کی جنوبی ایران میں پراسرار موت اور تہران میں حماس لیڈر اسماعیل ہانیہ کی پراسرار ہلاکت کے بعد بیروت کے زیر زمین بنکر میں حسن نصراللہ سے چھٹکارا، اسرائیل کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی موصول ہوئیں تھیں کہ ہنیہ کے بعد حماس کا نیا چیف یحییٰ سنوار بھی ایک اسرائیلی حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ حزب اللہ لیڈر حسن نصراللہ پر جان لیوا حملے سے قبل اس نوع کی اطلاعات بھی تھیں کہ اسرائیل نے حزب اللہ پر سائبر پلس حملہ کیا۔ پیجرز، واکی ٹاک،سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، ریڈیو ڈیوائسز اور سولر پینلز میں نصب بارودی مواد کے ذریعےسینکڑوں دھماکے ہوئے، جن میں 32 کے قریب ہلاکتوں کے علاوہ سینکڑوں زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
واضح رہے کہ سیریا کے تعاون سے اسرائیل کے خلاف اس نوع کے پیجرز حزب اللہ والے عام استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس سائبر حملے کے جواب میں حزب اللہ ملیشیا نے اسرائیلی صنعتی و تجارتی بندرگاہ حیفہ پر ڈیڑھ سو میزائل داغے جس سے اس کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ اس نو کی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ ایران اپنے پاسداران لبنان بھیج رہا ہے اور اسرائیل زمینی طور پر لبنان کے اندر داخل ہونے کے لیے جنوبہ لبنانی سرحدی دیہات اور قصبوں میں ہزاروں الٹی میٹم پوسٹر پھینک رہا ہے کہ عوام ان علاقوں سے نکل جائیں تاکہ اسرائیلی حملے کی صورت میں ان کا جانی نقصان نہ ہو۔
اس تمامتر تباہ کن صورتحال کا آغاز گزشتہ برس 7 اکتوبر کو اس وقت ہوا جب حماس کے جنگجو بغیر کسی آگاہی والٹی میٹم کے اچانک 25کلومیٹر اسرائیل کے اندر گھس گئے۔ انہوں نے زمینی فضائی اور سمندری راستوں سے یکبارگی ایسا حملہ کیا تھا جس میں عید کپور کی خوشیاں مناتے، موسیقی پروگرام میں ناچتے گاتے 1200اسرائیلی مارے گئے تھے۔ ہزاروں زخمی ہوئے اور ڈھائی سو کے قریب اسرائیلی نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو حماس کے یہ جنگجو یرغمالی بنا کر غزہ لے گئے۔ وہ دن اور آج کا دن اسرائیلی قیادت کبھی سکون سے نہیں بیٹھی۔ انہوں نے لگاتار حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جدھر سے بھی انہیں اپنی قومی سلامتی کو خطرہ دکھتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ حزب اللہ اور حماس کا خمیر ہی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر استوار ہے۔ حماس کا پاپولر ترین نعرہ پوری دنیا میں گونجتا رہتا ہے:
From River to See, Palestine Free
یہاں ریور سے مراد دریائے اردن ہے جس کے ویسٹ بینک پر محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی برسر اقتدار ہے۔ جب حماس والے یہ کہتے ہیں دریائے اردن سے سمندر تک فلسطین فری تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس سرزمین پر اسرائیل کے لیے ایک انچ کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے روایتی طور پر راسخ العقیدہ شدت پسند یو این کے دو ریاستی حل کو بھی اسی طرح ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں امن کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ آج اگرچہ پوری دنیا میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر اسرائیل کا اصرار ہے کہ سات اکتوبر سے ہمارے جو بے گناہ شہری حماس والوں نے یرغمال بنائے ہوئے تھے جن میں سے کچھ مارے گئے کچھ کا تبادلہ ہوا ہے۔ پھر بھی سوا سو کے قریب یہ یرغمالی آج بھی حماس جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں۔ جب تک انہیں نہیں چھوڑا جاتا جنگ بندی قبول نہیں۔
اس جنگ کا یہ پہلو بھی پیش نظر رہے کہ اس میں شیعہ سنی کی واضح تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف ایران اور اس کے شیعہ ہم نوا ہیں جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور تقریباً تمام سنی عرب ممالک ہیں جو پوری جنگ سے قطعی لا تعلق ہی نہیں بلکہ ایرانی میزائلوں کو اسرائیل کی جانب جاتے ہوئے اپنے خطوں کا استعمال نہیں ہونے دینا چاہتے۔ جارڈن اس میں پیش پیش ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لیے یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ اور راس العیسی پر حملے کیے ہیں تو بشمول سعودی عرب عرب لیگ کا کوئی ملک اس کے خلاف نہیں بولا۔
موجودہ صورتحال میں خدشہ ہے کہ اسرائیل ایرانی سپریم لیڈر خامنائی کو ہانیہ کی طرح ٹارگٹ نہ کرے یا اس کی آئل ریفائنری کو تباہ کر دے۔ کیونکہ اس وقت ایران میں اسرائیل کے ہمدرد لاکھوں میں ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم یو این میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کا کوئی گوشہ ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہے۔