مشرق وسطیٰ میں ناکام امریکی پالیسی
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 02 / اکتوبر / 2024
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے شعلے کم کرنے اور عالمی قوانین پر عمل درآمد میں کردار ادا کرے۔ تاہم دنیا کی نگاہیں اس وقت نیویارک میں ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے زیادہ اسرائیل کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز ایران کے میزائل حملوں کے بعد یہ اندازے قائم کیے جارہے ہیں کہ اسرائیل کا رد عمل کتنا شدید ہوگا اور یہ جنگ مزید کتنی پھیل سکتی ہے۔
اسرائیل حجم اور رقبے میں کم تر ہونے کے باوجود عسکری قوت کے لحاظ سے مشرق وسطیٰ کی سب سے طاقت ور فوج کا حامل ہے۔ اس کے پاس جدید لڑاکا طیارے، میزائل و ڈرون اور دفاع کے لیے میزائل شکن نظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ مکمل طور سے اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ حماس کے خلاف کارروائی ہو یا حزب اللہ کو تباہ کرنے کی نیت سے لبنان پر حملہ یا ایران سے ’انتقام‘ کے نام پر سبق سکھانے کا عزم، اسرائیل کی کامیابی یقینی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود دیکھا جاسکتا ہے کہ اسرائیل لگ بھگ ایک سال سے غزہ کے مکمل طور سے محصور علاقے میں جنگ اور 42 ہزار شہریوں کو ہلاک کرنے کے باوجود نہ تو اپنے ایک سو سے کچھ زیادہ یرغمالی باشندوں کورہا کروا سکا ہے اور نہ ہی حماس کا مکمل خاتمہ ممکن ہؤا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس جنگی کارروائی میں حماس کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان کے متعدد جنگجو بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ اسرائیلی اندازے کے مطابق ان کی تعداد سولہ سترہ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل حماس کو مکمل طور سے ختم کرنے میں ناکام ہے۔
گزشتہ روز جس وقت ایران درجنوں بلاسٹک میزائیلوں کے ذریعے اسرائیل میں متعدد ٹھکانوں پر حملے کررہا تھا ، عین اسی وقت بعض جنگجو تل ابیب میں شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اس دہشت گرد حملہ میں 8 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حماس نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسے عالمی قانون کے مطابق دہشت گردی ہی قرار دیا جائے گا لیکن حماس یا اس کے حامی اسے جائز جنگی کارروائی کہتے ہیں۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر حماس یا اس کے ہم خیال گروہوں کی لڑائی اسرائیل اور اس کی فوج کے ساتھ ہے تو پھر اس جنگ میں شہریوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ سامنے آتا ہے کہ اسرائیل کا ہر شہری جائز جنگی نشانہ ہے کیوں کہ اسرائیل صرف فلسطینیوں ہی کو نہیں بلکہ تمام عرب باشندوں کو ’جائز‘ ٹارگٹ سمجھتا ہے۔ اس بحث میں یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ اگر حماس یا حزب اللہ کی جنگ جوئی دہشت گردی ہے تو اسرائیل جب علی الاعلان شہریوں کو جنگ میں ملوث سمجھ کر جائز نشانہ قرار دیتا ہے تو اس وقت عالمی ضمیر کیوں خاموش رہتا ہے۔ خاص طور وہ عالمی ضمیر جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے پاس ’یرغمال ‘ ہے۔ کیوں کہ سلامتی کونسل میں سیکرٹری جنرل کی درمندانہ اپیل کے باوجود جب کسی فیصلہ کا وقت آئے گا تو امریکہ کا نمائیندہ ہر اس قرارداد کو ویٹو کردے گا جس میں اسرائیل سے جنگ بندی اور صبر و تحمل سے کام لینے کے لیے کہا جائے گا۔
حماس کے مقابلے میں اسرائیل کی ہزیمت کو سمجھنے کے لیے کسی غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اسرائیل انتہائی بے دردی سے اسکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملے کرتے ہوئے پورے پورے خاندانوں کو ختم کرے گا تو زندہ بچنے والے بچے اور نوجوان ایسا ہتھیار بن جائیں گے جسے کوئی بھی جنگ جو گروہ اسرائیل کے خلاف نعرہ لگا کر استعمال کرسکتا ہے۔ اس لیے غزہ یا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی جنگ جوئی نہ تو اس کی سکیورٹی میں اضافہ کرے گی اور نہ ہی اسرائیلی شہری کبھی امن سے رہ پائیں گے۔ اسرائیل کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ اس نفرت سے لاحق ہے جو فلسطینی اور عرب نوجوانوں کے دلوں میں پل رہی ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اپنی بے پناہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر اس پر قابو پاسکتا ہے لیکن فلسطینی خاندانوں کو ہلاک کرنے ولا ہر واقعہ اس نفرت میں اضافہ کرتا ہے۔ اسرائیل نفرت ختم کرنے کی بجائے نفرت کرنے والوں کو ختم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اسی لیے تمام ترعسکری طاقت اور امریکہ کی مکمل اعانت و امداد کے باوجود وہ اپنی حفاظت کے حوالے سے پریشان رہتا ہے۔
اسرائیل کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کی پریشانی جائز اور قابل فہم ہے۔ 10 ملین آبادی کے حامل اس چھوٹے سے ملک کو چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ یہ دشمن عسکری لحاظ سے کمزور ہیں لیکن عددی اعتبار سے اسرائیل سے کہیں زیادہ ہیں ۔ یہ کثیر آبادی اور ان کی قیادت جب عسکری لحاظ سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتی تو دہشت گردی اور دشنام طرازی سے دل و دماغ میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسرائیل کو اپنی حفاظت یقینی بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ مل کر مسئلہ حل کرنے کا اقدام کرنا چاہئے تھا۔ اسرائیل چونکہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کے ذریعے امریکہ اور اس علاقے پر قابض برطانیہ کی نوآبادیاتی طاقت کی ملی بھگت سے قائم ہؤا تھا، ا س لیے شروع میں فلسطینی اور ان کی حمایت کرنے والے عرب کسی مفاہمت پر آمادہ نہیں تھے۔ یہودی عسکری گروہوں نے بھی اسرائیل قائم کرنے سے پہلے دہشت گردی ہی کے ذریعے ہزاروں سال سے ان علاقوں میں آباد فلسطینیوں کو بے گھر کیا اور ان کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرکے نئی یہودی ریاست قائم کی گئی۔ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کے ذریعے قائم ہونے والی ریاست کی بنیاد ناحق بہائے گئے خون اور ناجائز طور سے بے گھر کیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کے دکھ و کرب پر رکھی گئی تھی۔ اسرائیل نے ابھی تک اس حکمت عملی کو تبدیل کرنے اور جنگ کی بجائے مفاہمت سے معاملہ حل کرنے اور اچھے باوقار ہمسایوں کی طرح ساتھ ساتھ رہنے کا اصول ماننے سے انکار کیا ہے۔
دو ریاستی اصول کو اقوام متحدہ کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی اور امریکہ سمیت دنیا کے سب ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن نیتن یاہو کی حکومت اس اصول کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ فلسطینیوں کی مایوسی، ناکامی اور مجبوری کو دہشت گردی کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حماس ہو یا حزب اللہ انہوں نے ایران کی سرپرستی میں اسرائیل کونیست و نابود کرنے کا نام نہاد نعرہ ایجاد کیا ہؤا ہے۔ مسلسل ظلم اور ایک انتہا پسند حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ ایک ٹائم بم کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جو کسی وقت پھٹنے کو تیار رہتا ہے۔ بدقسمتی سے اسرائیل اس بم کو آگ دکھانے میں مستعد و چوکس رہتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ فلسطینی اور عرب اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں یا مسلمانوں میں یہودیوں کے خلاف عناد پروان چڑھایا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نیتین یاہو اور ان کے انتہا پسند لیڈروں کی سربراہی میں اسرائیل کی مختصر یہودی آبادی کو بھی فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں سے نفرت کرنے کا سبق ہی دیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق سے انکار کرکے اور ان کی زمینوں اور گھروں پر قبضہ کرکے، مقبوضہ علاقوں میں مسلسل نئی یہودی آبادیاں قائم کرکے، ان انتہا پسندوں کی قوت میں اضافہ کیا جاتا ہے جو اسرائیل کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کا افسوسناک نعرہ لگا کر فلسطینیوں اور عربوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ لیکن اسرائیل اپنے عمل اور اپنے طریقہ سیاست کی وجہ سے خود یہ صورت حال پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے دہشت گرد حملہ کے رد عمل میں اسرائیل کی جنگ جوئی کسی بھی معیار کے مطابق ’خود حفاظتی‘ نہیں کہی جاسکتی۔ اس سے پہلے کئی سال تک غزہ کو محصور رکھ کر باہمی نفرت میں اضافہ کے لیے مسلسل کام کیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیل نے کبھی بھی جنگ روک کر امن سے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی و شہری حقوق پر سنجیدگی سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ۔ حالانکہ سعودی عرب جیسے طاقت ور عرب ملک نے اسی شرط پر دوستی اور سفارتی تعلقات کی پیش کش کی تھی کہ فلسطینی ریاست قائم کردی جائے اور مشرق وسطیٰ میں امن بحال کیا جائے۔ بدقسمتی سے مشرق وسطی ٰ میں جنگی حالات پیدا کرنے میں اگر ایران اور اس کے پراکسی عسکری گروہوں کا ہاتھ ہے تو خود اسرائیل نے بڑھ چڑھ کر فاصلے پیدا کرنے اور جنگ بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت لبنان ہی نہیں کوئی بھی ہمسایہ ملک اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں ہے۔
اب اسرائیلی قیادت ایران سے بدلہ لینے کے لئے اسے تباہ کرنے کا عزم کررہی ہے۔ امریکہ اس منصوبے میں اسرائیل کی سرپرستی کررہا ہے لیکن اسرائیلی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ علاقے میں جنگ اور فاصلے پیدا کرکے اسرائیل کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ اس وقت متعدد وجوہ کی بنا پر امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے لیکن امریکی سیاسی حالات تبدیل ہوگئے تو دس بیس پچاس سال بعد امریکی حکمت عملی تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اسرائیل کو اس وقت بھی امن کے ساتھ فلسطینیوں اور عربوں کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ وہ جنگ کرکے اپنے وجود کے لیے ہمدردیاں جیتنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
مشرق وسطیٰ کے حالات اس وقت جس نہج پر پہنچے ہیں، ا س میں امریکہ سے زیادہ موجودہ صدر جو بائیڈن کی کمزوری، نااہلی اور قوت فیصلہ کی شدید کمی کو عمل دخل حاصل ہے۔ حماس کے حملہ کے بعد جو بائیڈن اظہار یک جہتی کے لیے اسرائیل تو پہنچ گئے لیکن اسے غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ نہیں کرسکے۔ اب بھی ایک طرف امریکی حکومت لبنان میں پھیلنے والی جنگ کو دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے اور جنگ بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف امریکہ، اسرائیل کے ساتھ جنگ میں حصہ دار بنا ہؤا ہے۔ ایرانی میزائل حملہ کے بعد اسرائیل سے زیادہی جو بائیڈن نے سخت بیان دیے ہیں۔ لیکن کیا انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ شروع ہوگئی تو امریکہ اسے جیتنے کے قابل ہے؟
امریکہ افغانستان میں بیس سال جنگ جوئی کے بعد جس طرح وہاں سے فوجیں نکالنے پر مجبور ہؤا تھا، وہ مناظر اب بھی دنیا کے لوگوں کو پوری طرح یاد ہیں۔ افغانستان میں جن اہداف کے حصول کے لیے دو دہائی تک جنگ کی گئی تھی، طالبان نے کابل پر قبضہ کرکے ان کی دھجیاں بکھیر دیں اور امریکہ بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں کرسکا۔ ہوسکتا ہے امریکہ اور اسرائیل فضائی حملوں میں ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی مزاحمت پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجوں اور مفادات کے لیے ایک طویل المدت بھیانک خواب ثابت ہوگی۔ امریکہ، ایران کی انتہا پسند مذہبی حکومت کو ختم کرنے کا خواب دیکھتا ہے لیکن اگر اسرائیل کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایران ہی نہیں سب اسلامی ممالک کے عوام ایران کی حمایت میں آواز اٹھائیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے اور حالات معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے اگر امریکہ اسرائیل کی حفاظت کا اصول بیان کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کرے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کو مسترد کرتا ہے ۔ اسرائیل کی امداد کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کیا جائے، ورنہ آیت اللہ خامنہ ای کی یہ بات ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن بن جائے گی کہ ’امریکہ مشرق وسطیٰ سے دفع ہوجائے، ہم خود امن قائم کرلیں گے‘۔